دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

جواب مسئلہ تواسی قدرسے ہوگیامگرفقیر غفراﷲ بعون رب قدیر جل جلالہ ، تحقیق حق نجیح وتلخیص قول رجیح کے لئے چند افادات عالیہ لکھے جن سے بتوفیق تعالٰی احکام مسئلہ کونورانکشاف اور اوہام باطلہ کوظہورانکساف ملے واﷲ المعین وبہ نستعین (اﷲ تعالٰی مددگار ہے اور اسی سے ہم مددطلب کرتے ہیں ۔ ت)

افادہ اولٰی : بسم اﷲ شریف کے باب میں ہمارے ائمہ کرام بلکہ جمہورائمہ صحابہ وتابعین وغیرہم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   کامذہب حق ومحقق یہ ہے کہ وہ کسی سورت قرآن کی جزنہیں ، جداگانہ آیت واحدہ ہے کہ تبرك و فصل بین السور کے لئے مکرر نازل ہوئی۔ امام عبدالعزیز بن احمدبن محمدبخاری علیہ رحمۃ الباری کہ اجلہ ائمہ حنفیہ ہیں کتاب التحقیق شرح حسامی میں فرماتے ہیں :

الصحیح من المذھب انھامن القراٰن لکنھا لیست جزء من کل سورۃ عندنا بل ھی اٰیۃ منزلۃ للفصل بین السور کذا ذکر ابوبکر الرازی ومثلہ روی عن محمد رحمہ اﷲ تعالٰی[1]۔

صحیح مذہب ہمارایہ ہے کہ وہ قرآن کی جزہے مگرہرسورت کی جزنہیں بلکہ یہ ایسی آیۃ ہے جوسورتوں میں فاصلہ کے لئے نازل کی گئی ہے ، یوں ابوبکررازی نے ذکر کیااور امام محمد   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے بھی ایسے ہی مروی ہے۔ (ت)

امام محقق ابن امیرالحاج حلیہ میں فرماتے ہیں :

المشھور عن اصحابنا انھا لیست باٰیۃ من الفاتحۃ ولامن غیرھا بل ھی اٰیۃ من القراٰن مستقلۃ نزلت للفصل بین السور[2]۔

ہمارے اصحاب سے یہی مشہور ہے کہ بسم اﷲ سورۃ فاتحہ یاکسی اور سورۃ کی جزنہیں ہے بلکہ یہ قرآن کی مستقل آیۃ ہے جو سورتوں میں فصل کے لئے نازل کی گئی ہے(ت)

علامہ ابراہیم حلبی غنیہ میں فرماتے ہیں :

ان مذھبنا ومذھب الجمہور لیست اٰیۃ من الفاتحۃ ولامن کل سورۃ[3]۔

ہمارا اور جمہور کامذہب یہ ہے کہ بسم اﷲ سورۃ فاتحہ یاکسی اور سورۃ کی جزنہیں ہے(ت)

امام ابوالبرکات نسفی کنزالدقائق اور علامہ ابراہیم حلبی ملتقی الابحر اور علامہ محمد بن عبداﷲ غزی تمرتاشی تنویرالابصار میں فرماتے ہیں :

ھی اٰیۃ من القراٰن انزلت للفصل بین السور ولیست من الفاتحۃ ولامن کل سورۃ[4]۔

یہ قرآن کی آیۃ ہے جوسورتوں میں فصل کے لئے نازل کی گئی ہے فاتحہ یاکسی اور سورۃ کی جزنہیں ہے(ت)

 

امام عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :

قال اصحابنا البسملۃ اٰیۃ من القراٰن انزلت للفصل بین السور لیست من الفاتحۃ ولامن اول کل سورۃ[5]۔

ہمارے اصحاب نے فرمایا کہ بسم اﷲ قرآن کی آیت ہے جوسوتوں میں فصل کے لئے نازل کی گئی ہے نہ تو یہ فاتحہ کی  جز ہے اور نہ ہی کسی سورۃ کایہ اول ہے(ت)

اسی طرح بہت کتب میں ہے :

افادہ ثانیۃ : مجردتکرر نزول ہرگز موجب تعددنہیں ورنہ قائلان تکرارنزول فاتحہ قرآن عظیم میں دوسورہ فاتحہ مانتے کہ اُن کے نزدیك فاتحہ مکہ معظمہ میں نازل ہوکر مدینہ طیبہ میں دوبارہ اُتری۔ علامہ حسن چلپی حاشیہ تلویح

میں فرماتے ہیں :

تعدد نزولہا یقتضی تعدد قراٰنیتھا کیف و قدقیل بتکرار نزول الفاتحۃ ولم یقل احد بتعدد قراٰنیتھا[6]۔

بسم اﷲ کے نزول کاتعدد اس بات کولازم نہیں کہ وہ متعدد بار قرآن کاجزبنے ، یہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ سورہ فاتحہ کے نزول میں تعدد کاقول ہے لیکن فاتحہ کا قرآن کے متعدد جز ہونے کاقول کسی نے نہیں کیا(ت)

علامہ خسرو کے حاشیہ تلویح میں ہے :

القول بتکررہ لایقتضی القول بتعددھاکیف وقدقیل الٰی اٰخرمامر[7]۔

بسم اﷲ کے تکرارنزول کاقول اس کے متعدد ہونے کولازم نہیں ، یہ کیسے ہوسکتاہے جبکہ سورہ فاتحہ کے بارے ، الٰی آخرہٖ۔ (ت)

ولہٰذا علامہ بحر نے بحرالرائق میں فرمایا :

انھا فی القراٰن اٰیۃ واحدۃ یفتتح بھا کل سورۃ وعندالشافعی اٰیات فی السور[8]۔

یہ بسم اﷲ قرآن کی ایك آیت ہے اس سے ہرسورۃ کا افتتاح کیاجاتاہے ، اور امام شافعی کے نزدیك یہ ہرسورۃ کی علیحدہ آیت ہے۔ (ت)

اسی طرح قمرالاقمار سے بھی گزرا کہ وہ ہمارے ائمہ کرام کے نزدیك تمام قرآن میں صرف ایك آیت ہے نہ یہ کہ ایك سوتیرہ یاچودہ آیتیں ہوں اور جب آیت واحدہ ہے تراویح میں اس کی صرف ایك بارتلاوت ادائے سنت ختم کے لئے آپ ہی کافی کمالا یخفی علی کل عاقل (یہ کسی عاقل سے مخفی نہیں چہ جائیکہ فاضل سے مخفی ہو۔ ت) کون جاہل کہے گا کہ ایك آیت کوجب تك سوبارنہ پڑھو ختم پورانہ ہو۔

افادہ ثالثہ : بسم اﷲ شریف کاجزو سورت ہونا ، ہرگزہرگز حضورپرنورسیدالمرسلین   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے متواتر ہونا درکنار ، ثابت کرنا دشوار ، اس کے تواتر کاادعا محض بہتان وافتراء ، بلکہ احادیث صحیحہ اس کلیہ کے نقض پرصاف گواہ ،

کحدیث قسمۃ الصلٰوۃ وحدیث ثلثین اٰیۃ

 



[1]   کتاب التحقیق شرح حسامی مقدمہ الکتاب مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ص۶

[2]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[3]   غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی بیان صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۰۶

[4]   ملتقی الابحر مع مجمع الانہر باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت  ۱ / ۹۵ ، درمختار  فصل واذا اراد الشروع فی الصلوٰہ  مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۷۵

[5]   عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری خطبۃ الکتاب مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت  ۱ / ۱۲

[6]   تتمہ حاشیہ چلپی علی التوضیح والتلویح حاشیہ ۲۵ متعلق ص۵۰ مطبوعہ منشی نولکشور کانپور ص۵۵

[7]   حاشیہ تلویح لملا خسرو مطبوعہ منشی نولکشور کانپور ص

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن