30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں کمرباندھ کر اصول وقواعد دینیہ سے برطرف ہوا ، اس رسالہ میں ایك عبارت اور دوفتوے مولویین مذکورین سے نقل کئے صفحہ ۱۵پرلکھا قاری عبدالرحمن صاحب پانی پتی تبیین الضاد ترجمہ تحفہ نذریہ میں فرماتے ہیں جان لوکہ جب اہل قرأت کااس امر میں اختلاف ہے کہ بسم اﷲ ہرسورت کاجزو ہے یا نہیں ، پس تمام قرآن کو تراویح میں پڑھنے والے پر ، جو اُن قاریوں کی قرأت پڑھے جو بسم اﷲ کو ہرسورت کاجزوجانتے ہیں ، واجب ہے کہ بسم اﷲ کو ہرسورت کے سرے پر پکارکرپڑھے ورنہ ختم قرآن مجید میں سے اس کو ایك سوچودہ ۱۱۴ آیتوں کاکم کرناا ور ترك کردینالازم آتاہے اورجائزنہیں ہے ، ان شہروں میں جہاں کے اکثر باشندے حنفی مذہب رکھتے ہیں اس کے خلاف دستور ہے ، پس معلوم نہیں اس ترك وغفلت کاکیاسبب ہے فقط ، صفحہ ۱۷پرلکھا “ استفتائے مولوی رشیداحمدگنگوہی ، بسم اﷲ کاجہرسے پڑھناتراویح میں مضائقہ نہیں اور نمازمیں اس سے کوئی قباحت نہیں ہوتی ، یہ بھی قرأ کامذہب ہے ، اگرحضرت حفص کی اقتداء کرو ، درست ومقبول ہے اور جوحسب مذہب حنفیہ نہ پڑھے تاہم کوئی عیب نہیں ، سب حق پرہیں سب کے مذاہب صحیح ودرست ہیں لیکن حفاظ قرآن مجید کولازم ہے کہ پڑھاکریں ورنہ بموجب فرمان مولوی عبدالرحمن صاحب کے عندالحفص ختم میں نقصان رہے گا فقط واﷲ اعلم کتبہ رشیداحمدگنگوہی “ ، صفحہ ۱۸پرلکھا “ استفتاء قاری عبدالرحمان صاحب پانی پتی ، زمانہ قراء سبعہ کا ، زمانہ اجتہاد وعمل بالسنۃ کاتھا ، زمانہ تابعین کاتھا ، اور مذہب مسائل اجتہاد یہ میں ہوتاہے نہ منقولہ میں ، اور مدار قراء کافقط روایت وصحت پر ہے اور قراء سب اپنی اپنی قراء ت کی روایت صحیح رکھتے ہیں اس میں دخل مذہب کو نہیں ہے لہٰذا قراء ت میں کسی اہل ہوا کا خلاف نہیں ہے۔ ائمہ مذہب تازمانہ قراء ، محتاج الیہ ومحصورنہ تھے بلکہ بعد قراء کے تھے ، ائمہ قرأت کوپوچھنا کہ کیامذہب رکھتے تھے ، حمق ہے ، بعد صحت روایت کے آنحضرت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے پھرحاجت کسی مذہب اور کسی اجتہاد کی نہیں ہے اذا صح الحدیث فھومذھبی (جب حدیث صحیح ہوتو وہی میرامذہب ہے۔ ت)قول احناف کاہے ، جب مدارصحت روایت پرمذاہب اربعہ میں ہوا پھرجوکوئی کسی مذہب کاکسی قاری کی قرأت پڑھے گا اس کی قرأت میں جو ہواس کی اتباع کرے ، جو کہ امام عاصم کی قرأت میں بروایت حفص بسم اﷲ درمیان ہردوسورت کے ثابت ہے روایۃً ، اور کہیں حنفیہ کی کتب میں ممانعت قرأت عاصم وحفص کی استیعابًا واقع نہیں ہے توتراویح میں بسم اﷲ پڑھنا جائز ہوا و اِلاَّ پوراختم روایت حفص میں نہ ہوافقط واﷲ اعلم بالصواب العبد عبدالرحمٰن عفی عنہ “ ۔ صفحہ ۲۱ پر لکھا “ صلوٰ ۃ مفروضہ میں ختم مقصودنہیں اس لئے وہاں جہرلازم نہیں وہاں اتباع ابوحنیفہ کاچاہئے اورتراویح میں مقصود ختم کامل قرآن ہے وہاں اتباع قرائے مبسلمین ، بسم اﷲکوجہرًا پڑھناساتھ تأکد کے جائز ہے ورنہ ختم میں نقصان لازم آتاہے چنانچہ یہی تحریر خاکسار نے بارہا قاری عبدالرحمن صاحب کی زبانی بھی سنی ہے “ ۔ اب علماء سے عرض ہے کہ یہ بیانات وفتاوٰی صحیح ہیں یاغلط ، اور یہاں مذہب حنفی میں کیاحکم ؟ بیّنوا توجروا۔
الجواب :
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
الحمد ﷲ سرا وجھارا ولیلا ونھارا حمدا
سب تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں آہستہ اور بلند ، دن اور
کبارا ادامۃ واکثارا والصلوات السامیۃ والتحیات النامیۃ علی من سن فی الصلٰوۃ اسرارالتسمیۃ وعلی الہ وصحبہ النفوس الحامیۃ لبیضۃ السنۃ من الغوغاء العامیۃ اٰمین اٰمین یاارحم الراحمین۔
رات کو ، بڑی حمدیں اور زیادہ ، بلنددروداور اونچا سلام اس ذات پرجس نے نمازمیں بسم اﷲ کو آہستہ پڑھناسنت فرمایا اور آپ کی آل واصحاب پرجوکہ خالص سنت کوعوام کے شور ش سے محفوظ رکھنے والے ہیں آمین آمین یاارحم الراحمین۔ (ت)
بسم اﷲ شریف کاتراویح میں ہرسورت پرجہر ، مذہب حنفی میں لازم وواجب ہونامحض بے اصل وباطل صریح ، اور حنفیہ کرام پرافتراء قبیح ہے تحصیل سنت ختم فی التراویح کے لئے صرف ایك بار کسی سورت پر جہرکرنے کی ہماری کتب میں صاف تصریح ہے زید بے علم اور اس کے دونوں متبوعوں کی تحریر سراسربے تحریروغیرصحیح ہے ، مسلم الثبوت میں ہے :
البسملۃ من القراٰن اٰیۃ فتقرأ فی الختم مرۃ[1]۔
یعنی بسم اﷲ شریف قرآن عظیم کی آیت ہے توختم میں ایك بارپڑھی جائے۔
ملك العلماء بحرالعلوم اس کی شرح فواتح الرحموت میں فرماتے ہیں :
علی ھذا ینبغی ان یقرأھا فی التراویح بالجھر مرۃ ولاتتأدی سنۃ الختم دونھا[2]۔
یعنی اس بناپرچاہئے کہ بسم اﷲ شریف تراویح میں جہرسے ایك بارپڑھی جائے بے اس کے سنت ختم ادا نہ ہوگی۔
شرح مولانا ولی اﷲ میں ہے :
من قال بکون البسملۃ جزء من القراٰن من غیرتعیین المحل اوجزئیتھا لہ فی اول کل سورۃ قال بوجوب قراء تھافیمایختم فیہ القراٰن من الصلٰوۃ کالتراویح الا ان الجماعۃ الاولی تقول بوجوب قراء تھا جھرًا مرۃ والثانیۃ
یعنی جو علماء بسم اﷲ شریف کوجزوِ قرآن مجیدمانتے ہیں خواہ بے تعیین محل (جیسے علماءِ حنفیہ وغیرہم) یایوں کہ ہرسورت کی پہلی آیت ہے (جیسے علماء شافعیہ) ان سب کے نزدیك جس نماز میں قرآن مجید کاختم کیاجائے جیسے تراویح ، اس میں بسم اﷲ شریف کاپڑھناضرور ہے مگر ہمارے ائمہ وجمہور علماء کے نزدیک
تقول بوجوب قرأتھا جھرا فی اول کل سورۃ سواء البراء ۃ[3] ۔
صرف ایك باربآواز اورشافعی مذہب میں سورہ برأت کے سواہرسورت کی ابتدا پر۔
قمرالاقمار مولانا عبدالحلیم انصاری میں ہے :
اعلم ان التسمیۃ اٰیۃ من القراٰن کلہ انزلت للفصل بین السور ولیست جزء من الفاتحۃ ولامن کل سورۃ فالقراٰن عبارۃ عن مائۃ واربعۃ عشرسورۃ واٰیۃ وھی التسمیۃ فلابد فی ختم القراٰن من قراء ۃ التسمیۃ مرۃ علی صدرایۃ سورۃ کانت وھذا کلہ عندنا علی المختار[4] ١ھ مختصرا۔
یعنی بسم اﷲ شریف سارے قرآن مجیدمیں صرف ایك آیت ہے کہ سورتوں میں فصل کے لئے اتاری گئی ، نہ وہ فاتحہ کی جز ہے نہ ہرسورت کی ، تو قرآن عظیم نام ہے ایك سوچودہ۱۱۴ سورتوں اور ایك آیت کا کہ وہ بسم اﷲ شریف ہے پس ختم قرآن میں بسم اﷲ شریف کا کسی سورت کے سرے پر ایك بارپڑھنا ضرورہے یہ سب ہمارے ائمہ کامذہب مختارہےاھ مختصرًا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع