30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاکیزہ لطیفہ : حضور غوث اعظم کے حکم کے مطابق گیارہ قدم چلے اور یہ یقین کرے کہ اس عدد کو خاص مقبولیت دربارقادریہ سے حضور غوث اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانہ سے حاصل ہے ، اور یہ خیال نہ کرے بعد میں قادری سلسلہ والوں نے گیارہویں شریف کی مناسبت سے ایساکیاہے ، لیکن مجھے خود گیارہ قدموں کاراز معلوم نہ تھا حتٰی کہ ایك روز میں نے شاہجہاں آباد
عــــہ ھی قاعدۃ دیارالھند المعروفۃ بدھلی وکان ذلك سنۃ اثنتین بعدالالف وثلثمأتہ حین شددت الیہا رحلی قاصدا زیارۃ سیدہ سلطان المشایخ نظام الحق والدین قدس اﷲ تعالٰی سرہ المکین ۱۲منہ (م)
یہ ہندوستان کامرکزی مقام (ضلع) ہے جو دہلی کے نام سے معروف ہے اور یہ واقعہ ۱۳۰۲ھ کاہے جب میں وہاں سیدی سلطان المشائخ نظام الدین قدس سرہ کی حاضری کے ارادہ سے گیا ۱۲منہ (ت)
ذات لیلۃ صلٰوۃ الاسرار وانا مقبل علیھا بشرا شر عـــہ۱قلبی ماکانت منی التفاتۃ الی ذلك اذ لمعت بارقۃ سرجلیل ، فی خاطر کلیل ، واﷲ اعلم منی جاءت وکیف جاءت ماشعرت بھا الا وھی حلیلۃ ببالی فتأملتھا بعد الفراغ من الصلٰوۃ فاذا ھی کما اودو اشتھی ، وھی ان فی احد عشر عقدا وواحدۃ ، وھما عـــہ۲ بالحروف یاءوالف والمجموع ، یا ، ان
میں رات کے وقت صلٰوۃ الاسرار پڑھی اورمیں پوری توجہ قلبی سے مصروف تھا اور میرا ا س راز کی طرف ذرا بھی التفات نہ تھا کہ میرے دل پر ایك عظیم رازدار تجلی چمکی ، خدا کی قسم مجھے معلوم نہ ہوسکا کہ کب اور کس طرح یہ چمك آئی جبکہ وہ میرے دل میں سرایت کرچکی تھی میں نے نماز سے فارغ ہوکر غوروتأمل کیا تو وہ میری مراد اور خواہش میری تمنا کے مطابق تھی ، وہ قلبی القاء یہ تھا کہ گیارہ کے عدد میں ایك دہائی اور ایك کاعدد ہے ، اور (ابجد کے حساب سے) دس کا حرف “ ی “ اور
عـــــہ ای بجمعی اجزائہ ۱۲(م)
عــــــہ اعلم ان مالایوجد لہ حرف واحد فالمصیر فیہ الی الترکیب ویجب القصر علی اقل مایمکن فلایختار الثلاثی ماامکن الثنائی ولاالرباعی ماساغ الثلاثی کمالایختار الثنائی ماوجد حرف واحد ثم الحاجۃ الی الترکیب انما تقع فیما بین عقد وعقد الی مائۃ وفی العقود غیرالمأات المحضۃ ایضًا من مائۃ الی الف ثم تدوم الی مالا نہایۃ لہ وذلك لان العقود والمئات لکل منھما حروف معلومۃ فالترکیب الثنائی مثلا وان تصور بجمع آحاد الی آحاد کمثل طب وحج وزد وھو فی احد عشروھواول مایحتاج الی ذلك لکن اختیار بعض منہا دون بعض ترجیح بلامرجح
یعنی مکمل طور پر ۱۲منہ(ت)
جب کوئی عدد ایك حرف والانہ ہو تو وہاں ترکیب ضروری ہے اور ترکیب حسب ضرورت ہوگی اگر ترکیب ثنائی کافی ہوثلاثی کی ضرورت نہیں اور ثلاثی کافی ہو تو رباعی کی ضرورت نہیں ہے ، پھراکائیوں اور دہائیوں میں سو تك ہوگی ، اور اسی طرح سو سے اوپر ہزارک ، لیکن خالص دہائیوں اور خالص سوکے لئے ترکیب کی ضرورت نہیں (کیونکہ ان کے لئے ایك ایك حرف ہے مثلًا ترکیب ثنائی تمام اکائیوں کی آپس میں ہوسکتی ہے مثلًا ترکیب ثنائی تمام اکائیوں کی آپس میں ہوسکتی ہے مثلًا طَبَ ، حَجَ ، زَدَ ، گیارہ میں جوکہ پہلاعدد ہے جس میں ترکیب ثنائی کی ضرورت ہے اگرچہ کوئی دوحرف ملائے جاسکتے ہیں مگر ان حروف میں سے یہاں بعض کولینا اور بعض کونہ لینا بے مقصد ہے ، (باقی برصفحہ آیندہ)
قدمت العقد و اِی ان ایك کاحرف “ الف “ ہے اور اگردہائی کومقدم کریں تودونوں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
والترکیب الطبعی ان یلتمس العقد۔ فیوضع حرفہ ثم حرف مازاد علیہ من الآحاد و ھکذا فیقدم الالف ثم المئات ثم العشرات ثم الآحاد ویکفی ھذا الی الف وتسعۃ وتسعین فلفظہا 'غظصط' فاذا زاد فیدور الامر فالفان 'بغ' وثلثۃ آلاف 'جغ' ومائۃ الف 'قغ' والف الف 'غخ' وھکذا الی مالانھایۃ لہ یعرف ذلك من یعلم ارقام الھیأۃ والنجوم ومن منافع ھذا الوضع الامن من الالتباس فی غالب الصور فان 'غظصط' المذکور مثلًا ان کتب من دون نقط التعینت الحروف بالوضع الطبعی فالاول لایمکن ان یکون ع مھملۃ لانہ لایتقدم ص ولاالثالث ض معجمۃ لانھا لاتعقب ظ ولاالرابع ظ معجمۃ لانھا لاتعقب ص ولاالرابع ظ معجمۃ لانھا لاتعقب ص وتمام الکلام فی رسالتنا اطیب الاکسیر۱۲منہ(م)
اس لئے طبعی ترکیب کو ملحوظ رکھناہوگا وہ یہ کہ جودہائی مقصد ہو پہلے اسے پھراکائی جومقصود ہو ، اگرہزار ہو تو پہلے ہزارپھرسواور پھر دہائی اور پھراکائی کوترکیب وار ذکرکرکے ترتیب دی جائے گی یہ ترکیب ایك ہزارنوسوننانوے تك کام دے گی ، اس کے لئے حروف میں غظصط سے مرکب ہوگا ، اور اس پر ایك زائد ہو تو دوہزارہوگا جس کے حروف میں بغ ، اور تین ہزارجغ ، لاکھ کے لئے قغ ، اور دس لاکھ کے لئے غغ ، اسی طرح جتناچاہے آگے جائے ، جس کو علم نجوم اور ہیأۃ کی رقموں کی معرفت ہے خوب جانتاہے۔ اس ترکیب کا ایك فائدہ یہ ہے کہ انسان ہندسوں میں غلطی سے بچ جاتاہے کیونکہ مثلًا غظصط میں اگر نقطے نہ بھی لکھے جائیں تومذکورہ حروف اپنی طبعی ترتیب کے لحاظ سے سمجھے جاسکتے ہیں کیونکہ غ کو ع اور ظ کو ط نہیں پڑھ سکتے کیونکہ اس ترکیب میں ظ سے غ مقدم ہوتاہے اور ع مقدم نہیں ہوسکتاہے ، اسی طرح ص سے ظ مقدم ہے ط مقدم نہیں ہوسکتا ، اور آخری دوحروف ص ، ط کو ض ، ظ نہیں پڑھاجاسکتا ، کیونکہ ض ظ کے بعد نہیں ہوسکتاہے ، اورآخری دوحروف ص ، ط کو ض ، ظ نہیں پڑھاجاسکتا ، کیونکہ ض ظ کے بعد نہیں ہوسکتا اور یونہی ظ بھی ص کے بعد نہیں ہوسکتاہے ، یہ اس لئے کہ ایك ترکیب میں بڑے عدد والاحرف پہلے اور چھوٹے والا بعد ہوتاہے یہی ترکیب طبعی ہے اور یہ پوری بحث ہمارے رسالہ 'اطیب الاکسیر “ میں ہے۱۲منہ(ت)
عکست عــــہ۱ و یاللنداء ، و اِی عــــہ۲ ٢ للایجاب فکانت فی ذلك اشارۃ الٰی معاملتہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ مع السائلین والفقراء المستغیثین فانھم فی مقام الکثرۃ مع کثرتھم فی انفسھم ، واذا اراد وسؤال حاجاتھم من الحضرۃ العلیۃ توجھوا الی الوحدۃ وکان علیھم افراغ القلوب من تشتت الخاطر مع کونھم ھھنا علی منھج واحد ، سواء منھم العاکف والباد وعظیم عــــہ۳٣ الملك وعدیم الزاد فقد انتقلوا بوجھین من الکثرۃ الی الوحدۃو
حرفوں کامجموعہ “ یا “ ہے اور اگرالٹ کریں تومجموعہ “ اِی “ ہے جبکہ “ یا “ ندااورطلب کے لئے ہے اور “ ای “ قبول ومنظوری کے لئے ہے تو اس طرح گیارہ کے عدد میں حضورغوث اعظم کا سوال اور امداد طلب کرنے کا لوگوں سے معاملہ سمجھ آتاہے (کہ جس طرح “ یا “ میں “ ی “ دہائی اور کثرت اور اس کے بعد “ الف “ وحدت ہے) یوں ہی سائلین کثیر تعداد والے کثیرمطالبہ کرنے والے اپنے مطالبات کودربارعالیہ میں پیش کرتے ہوئے کثرت سے وحدت کی طرف متوجہ ہوں گے (کیونکہ آپ واحد ہیں )نیزیوں بھی کہ سائلین اور حاجتمند کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود غوث پاك کی طرف متوجہ ہونے میں یکساں ہیں خواہ وہ شہری ہوں یا دیہاتی ، شہنشاہ ہوں یاگدا ، توقلبی حاجات مختلف وکثیر مگر ان کے ازالہ کاڈھنگ ایک ، لہٰذا کثرت
عـــــہ۱ وقوعہ ھھنا علٰی قول انہ کنعم مطلقا ظاھروالا فالتقدیر یاسیدی ھل تقضی حاجتی الجواب ای واﷲ ۱۲منہ (م)
عـــــہ۲ وذلك طریق الارقام الجفریۃ یقدمون فیھا الآحادثم عشرات الخ فالف ومائۃ واحد عشربار قامھم “ ایقع “ وبالارقام النجمومیۃ “ غقیا “ ۱۲(م)
عـــــہ۳ الاضافۃ لفظیۃ ای عظیم ملکہ او معنویۃ فالعظیم بمعنی السلطان کعظیم الروم ای سلطانہ ۱۲(م)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع