30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پسندیدہ ہے اور وہ یہ ہے : اے اﷲ ! ہمارے آقا و مولٰی محمد جودوکرم کی کان پررحمت نازل فرما اور آپ کی آل پر ، اور سلامتی نازل فرما۔ جس کو یہ بندہ یوں پڑھتاہے : اے اﷲ! ہمارے آقاومولٰی محمد جودوکرم کی کان پر اور آپ کی برگزیدہ آل اور کریم بیٹے اور برگزیدہ امت پرصلوٰہ وسلام فرما ، اے برگزیدوں کے برگزیدہ ، اس کے بعد مدینہ منورہ کی طرف دلی توجہ کرکے گیارہ مرتبہ یوں پڑھے : یارسول اﷲ یانبی اﷲ! میری مدد کرو ، اور اے حاجات پوری کرنے والے! میری حاجت کے پوراہونے میں مدد فرماؤ۔
پھر عراق کی طرف قدم بڑھائے اور ہمارے ہاں عراق شمال مغرب میں ہے یہ میرے آقا حضرت حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بیان کیاہے اور یہی مدینہ منورہ اور کربلا معلی کی جہت ہے اور اس عبدضعیف نے اپنے علاقہ بریلی سے دربار بغداد کی جہت جیومیٹری کی بنیاد پرمتعین کی ہے یوں کہ بغداد کاعرض لح ك اور اس کا طول مدلح اور بریلی کا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
رضی اﷲ تعالٰی عنھما علی تلبیۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واجاز العلماء زیادۃ السیادۃ فی الصلٰوۃ کما فی ردالمحتار فکیف فی غیرھا وقصۃ الترکی فی قرأۃ دلائل الخیرات معلومۃ والولایۃ مثل السیادۃ ۱۲(م)
عـــــہ۱ : ثلاث وثلاثون درجۃ وثلث ۱۲(م)
عـــــہ۲ : اربع واربعون درجۃ وثمان وعشرون دقیقۃ ۱۲(م)
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے تلبیہ کے الفاظ میں زائد الفاظ شامل کئے ، اور ہمارے علماء نے بھی درودشریف میں “ سیدنا “ کالفظ بڑھایا جیسا کہ درمختار میں ہے تو اس کے غیرمیں بھی جائز ہوگا ، نیز دلائل الخیرات میں ترکی کاقصہ معلوم ہے جبکہ ولایت بھی سیادت کے معنی میں ہے۱۲(ت)
تینتیس درجے اور ایك ثلث ۱۲ (ت)
چوالیس درجے اور ۲۸ دقیقے (ت)
الح ص عـــہ۱ کا وطولہا عط حہ عـــہ۲ عط الرفجاء الانحراف الشمالی اعنی من نقطۃ المغرب الی نقطۃ الشمال لح ص عـــہ۳ لح فیستخرج خط الزوال ویقیم علیہ عمود الی المغرب ویدیر علیھما قوسا بجعل راس القائمۃ مرکزا فیجزّیھا اخماسا عـــہ۴ ویصل خطابین الراس والخمس الاول مما یلی المغرب فھذا
![]()
الخط ھو سمت حضرۃ بغداد اما المدینۃ الکریمۃ فاربع درج اعنی ححہ نر من نقطۃ المغرب الی الشمال علی ما استخرجت بعدۃ طرق برھانیۃ احدی عشرۃ خطوۃ معتدلۃ معتادۃ فانہ المتبادر من الکلام لا مایفعلہ بعض العوام من انھم لایرفعون قدما ولایخطون خطوۃ وانما یتقدمون کل مرۃ نحو ثلاث اصابع اواربع فلیس ھذا من الخطوۃ فی شیئ وانما امرنا بالخطا فالعدول عنہا بدون ضرورۃ
عرض الح صہ اور اس کا طول عط الر ہے۔ اس سے شمالی انحراف یعنی نقطہ مغرب سے نقطہ شمال کی طرف لحصہ لح حاصل ہوا ، اب خط زوال نکال کہ راس پرقائمہ کی صورت میں عمود ، مغرب کی طرف کھینچاجائے اور خط زوال اور عمود پرقوس اس طرح بنایاجائے کہ رأس القائمہ کو مرکز قراردیاجائے اور قوس کے پانچ جز بنائے جائیں ا اور را س القائمہ اور مغرب کی طرف سے پہلے خمس کوخط کے ذریعے ملایاجائے تو یہ خط دربار بغداد کی جہت ہوگی۔ لیکن مدینہ منورہ نقطہ مغرب سے شمال کی جانب چاردرجے ہے
![]()
جیسا کہ میں نے جامیٹری کے متعددطریقوں سے معلوم کیاہے بغداد شریف کی طرف گیارہ قدم عادت کے مطابق درمیانے قدم چلے کیونکہ کلام سے یہی سمجھاجارہاہے اور بعض عوام کی طرح نہ کرے کہ وہ قدم چلنے کی بجائے ہرمرتبہ صرف تین یاچارانگشت آگے بڑھتے ہیں حالانکہ یہ قدم کافاصلہ نہیں کہلاتا ، جبکہ ہمیں گیارہ قدم کے بارے میں حکم ہے اس لئے بغیر ضرورت اور بلاعذر اس حکم سے عدول نہیں کرناچاہئے ، اور یہ عدول غلط ہے۔ ہاں اگر
عــــہ۱ : ثمان وعشرون درجۃ واحدی وعشرون دقیقۃ ۱۲(م)
عــــہ۲ تسع وسبعون درجۃ وسبع وعشرون دقیقۃ من قرنیص مرصد لندن ۱۲(م)
عــــہ۳ ثمانی عشرۃ درجۃ ومثلھا الدقائق ۱۲(م)
عـــــہ۴ اقتصر عی التخمیس لعدم الحاجۃ الی تدقیق الدقائق مع فیہ من الدقۃ ۱۲(م)
۲۸درجے اور ۲۱دقیقے ۱۲(ت)
۷۹درجے اور ۲۷دقیقے ، لندن کی قرنیص رصدگاہ سے ۱۲(ت)
۱۸درجے اور ۱۸دقیقے ۱۲(ت)
پانچ حصوں کوبیان کیاہے کیونکہ دقیقے بنانے میں دقّت ہے ۱۲(ت)
عین الخطانعم ان کان فی مضیق لایجد مساغا للخطوات المعہودۃ ولاالخروج الی مندوحۃ فلیأت بما استطاع واشد شناعۃ من ھذا مارأیت بعضھم من انہ یصلی رکعتین حتی اذا کان فی اٰخرقرأۃ الاخری انحرف الی العراق فتخطی ، ثم عاد الی مکانہ فتوجہ نحوالقبلۃ واتم الصلٰوۃ ولایدری المسکین ان ھذا مع مخالفتہ للوارد عــــــہ۱ مفسد عــــــہ۲ لصلٰوتہ وابطال العمل حرام ثم النفل یجب بالشروع فیلزمہ القضاء وھو لایریدہ ولایدری بہ فیأثم مرتین عــــــہ۳ ، ولمثل ھذا ورد عــــــہ۴ فی الحدیث “ المتعبد بغیر فقہ کالحمار
عذر ہو مثلًا جگہ تنگ ہو اور پورا قدم چلنے کی گنجائش نہ ہو اور کھلی جگہ نہ ملے تو پھر حسب گنجائش قدم کافاصلہ بنائے ، اور اس سے بڑھ کر قابل اعتراض وہ صورت ہے جو میں نے بعض جہال کوکرتے دیکھا کہ وہ دورکعت پڑھتے ہوئے دوسری رکعت کی قرأت کے آخر میں نماز میں ہی عراق کی طرف منہ پھیرکر چلتے ہیں اور گیارہ قدموں کے بعد پھر واپس پہلی جگہ پر لوٹ کر قبلہ رو ہوجاتے ہیں اور پھرنماز کومکمل کرتے ہیں ، ان غریبوں کویہ معلوم نہیں کہ یہ طریقہ مرویہ کے خلاف بھی ہے اور اس سے نمازبھی فاسد ہوجاتی ہے ، حالانکہ عبادت کوشروع کرکے توڑنا حرام ہے۔ چونکہ نفل ہیں اور نفل شروع کرنے سے لازم ہوجاتے ہیں اس لئے ان پردورکعتوں کی قضالازم ہے ، جبکہ اسے مسئلہ معلوم ہی نہیں توقضا کیاکرے گا لہٰذ اس کو دوہراگناہ ہے۔ ایسے ہی شخص کے بارے میں حدیث شریف
عــــــہ۱ : فی صفۃ ھذہ الصلٰوۃ عن سیدنا الغوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کما سمعت١٢(م)
عــــہ۲ : $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع