دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

ابومحمد عبدالقادر حسنی حسینی جیلانی پررضی اﷲعنہم اور جس کووہ راضی کرے ، اور اس کودونوں جہانوں میں ہمارے لئے محفوظ خزانہ بنائے آمین آمین ، یاارحم الراحمین ، اور میں گواہ ہوں کہ اﷲ تعالٰی وحدہ ، لاشریك ہے اور گواہ ہوں کہ بیشك محمد   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  اس کے خاص بندے اور اس کے خاص رسول ہیں جن کو اس نے رحمت بناکر بھیجاہے اس پراﷲ کی رحمتیں اور سلام ہو اور ہراس پرجواس کامحبوب اور پسندیدہ ہو۔ امابعد کامل فاضل ، اچھے اخلاق والے ، فضائل کے جامع ، بڑے فخر ، عظیم شرف والے ، مولانا شاہ محمدابراہیم قادری مدراسی حیدرآبادی (اﷲ تعالٰی ان کو صاحب قوت بنائے اور ان کو دشمنوں کے شرسے محفوظ فرمائے) نے مجھ سے “ صلٰوۃ غوثیہ “ مبارکہ پسندیدہ جوکہ ہمارے ہاں “ صلٰوۃ الاسرار “ کے نام سے معروف ہے کی جازت طلب کی ، یہ صلٰوۃ الاسرار قضائے حاجت اور دفع شر کے لئے بارہا مجرب ہے ، انہوں نے مجھ فقیر ، حقیر ، اپنے نفس پرظلم

الظلام ،  الکثیر الاثام ،  الفقیر الاذل ،  الحقیر الارذل ،  عبدالمصطفٰی احمدرضا ،  المحمدی السنی الحنفی ،  القادری البرکاتی البریلوی ،  لطف اﷲ بہ ،  وعفا عن ذنبہ ،  واصلح عملہ ،  وحقق املہ ،  مع انی لست ھنالک ،  ولا اھلا لذلک ،  لکنی اجبتہ بالانقیاد ،  واجزتہ بالمراد ،  رجاء البرکۃ لی ولہ فی الدنیا والاٰخرۃ ،  ان ربنا تعالٰی ھواھل التقوی واھل المغفرۃ ،  کما اجازنی بہا سیدی ومولای ،  وسندی ومأوای ،  شیخی ومرشدی ، وکنزی وذخری لیومی وغدی ،  تاج الکاملین ، سراج الواصلین ،  حضرۃ السیدالشاہ اٰل الرسول الاحمدی ،  المارھری ،  رضی اﷲ تعالٰی عنہ بالرضی السرمدی ،  بحق روایتہ لہا واجازتہ بھا عن شیخہ الاجل ،  وعمہ الابجل ،  الامام الاکمل ،  والکرم الاشمل ،  والقمر الاجمہ ،  فرد عصرہ ،  وقطب دھرہ ،  ذی الفیض العظیم ،  و الفضل المبین ،  حضرۃ ابی الفضل شمس الملۃ و الدین ،  السید الشاہ اٰل احمد اچھے میان المارھری ،  رضی اﷲ تعالٰی عنہ بالرضوان لابدی ،  عن ابیہ العرّیف ،  النبیہ الغطریف ،  البحر الطمطام ،  والحبر الصمصام ،  ذی الفناء والبقاء ،  والوصول وللقاء ،  حضرۃ السید الشاہ حمزۃ العینی المارھری علیہ الرضوان الدائم العلی القوی ،  بسندہ المسلسل کابرا                              

کرنے والے ، نہایت گنہگار ، عبدالمصطفٰی احمدرضا محمدی سنّی حنفی قادری برکاتی بریلوی کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے یہ سوال کیا (اﷲتعالٰی ان پرمہربانی فرمائے اور ان کو معاف فرمائے اور ان کے اعمال کو درست فرمائے) حالانکہ میں اس قابل نہیں ہوں اور نہ ہی اس کااہل ہوں لیکن ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کہ دنیاوآخرت میں ہم دونوں کے لئے باعث برکت ہو (تقوٰی اورمغفرت کامالك صرف اﷲ تعالٰی ہی ہے) (ان کومیری طرف سے اجازت ہے جیسا کہ مجھے میرے آقا ، مولٰی ، جائے اعتماد ، مأوٰی ، اورمیرے شیخ ، مرشد ، سہارا ، خزانہ اور میرے آج اور کل کے لئے ذخیرہ اور کاملین کے تاج ، واصلین کے چراغ ، حضرت شاہ آل رسول احمدی مارہروی ،   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے مجھے اجازت دی جیسا کہ ان کو روایت اور اجازت ملی ، ان کے عظیم شیخ اور ان کے بزرگوار چچا ، کامل امام ، وسیع کرم ، خوبصورت چاند ، اپنے زمانہ کے منفرد اور قطب ، عظیم فیض اور واضح فضیلت ، حضرت ابوالفضل ، ملت اور دین کے سورج ، سیدشاہ آل احمداچھے میاں مارہروی ،   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ، اور ان کو اپنے والدگرامی عارف کامل ، مضبوط فہم ، بحربیکراں ، پختہ ماہر ، صاحب بقاء وفناء ، صاحب وصول وحضور ، حضرت شاہ حمزہ عینی مارہروی (ان پر اﷲ تعالٰی کی دائمی رضا) سے ، اسلاف دراسلاف سے ان کی مسلسل ، سندسے ، جوان کو بلنددربار ، مضبوط چوکھٹ ، مخلوق کے مرجع ، دربارقادریہ (وہاں کے رہنے والوں اور وہاں کے

عن کار ،  عن الحضرۃ الرفیعۃ ،  والسدۃ المنیعۃ ،  مرجع البریۃ ،  الحضرۃ القادریۃ ،  علی حضارھا وخدامھا رضوان القادر ،  فان اصلہا ماثور بطرق عدیدۃ ،  عن الحضرۃ المجیدۃ ،  کماذکرہ العلماء منھم الامام ابوالحسن نورالدین علی بن جریر عــــہ  اللخمی الصوفی الشطنوفی فی بھجۃ الاسرار ،  و الامام الاجل عبداﷲ بن الاسعد الیافعی الشافعی ،  والفاضل علی بن سلطان محمدالقاری الھروی المکی ،  والشیخ المحقق شیخ

خدام پر اﷲ تعالٰی کی رضاہو) سے حاصل ہوئی کیونکہ “ صلٰوۃ الاسرار “ کاثبوت متعددطرق سے منقول ہے برگزیدہ دربار سے جیسا کہ اس کو بہت سے علماء نے ذکرفرمایاہے جن میں امام ابوالحسن نورالدین علی بن جریر لخمی صوفی شطنوفی نے بہجۃ الاسرار میں ، اور امام اجل عبداﷲ بن اسعدیافعی شافعی و فاضل علی بن سلطان محمدالقاری الہروی المکی اور شیخ محقق علماء ہند کے شیوخ کے شیخ عبدالحق بن سیف الدین محدث دہلوی وغیرہم رحمۃ اﷲ

 عــــہ :   یجب ان یعلم انہ لیس بابن جھضم الذی تکلم فیہ الذھبی علی دابہ مع الصوفیۃ الکرام فی “ المیزان “ فانہ مقدم علی سیدنا الغوث رضی اﷲ تعالٰی عنہ بزمان وھذا معاصر الذھبی وبینہ وبین سیدنا واسطتان صحب المولی اباصالح قاضی القضاۃ نصرا صحب اباہ سیدی عبدالرزاق صحب اباہ سیدنا الغوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنھم وقد وصفہ الذھبی نفسہ فی “ طبقات القراء “ بالامام الاوحد وکذلك الامام الجلال السیوطی فی “ حسن المحاضرۃ “ اما نسبۃ الذھبی کتاب بھجۃ الاسرار الٰی ذلك فان کان لہ ایضا کتاب اسمہ ھذا فذاك والاشتباہ عظیم واجب التنبیہ۱۲ (م)                                     

یا د رہے کہ یہ ابن جھضم نہیں ہے جن کے اولیاء کرام کے بارے میں خصوصی نظریات پر ذھبی نے اعتراض کیا ہے کیونکہ وہ غوث اعظم سے بہت پہلے کے ہیں یہ امام ذھبی کے معاصرہے جب کہ ان کے اور غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے درمیان دو واسطے ہیں ، انہوں نے قاضی القضاء نصر کی انہوں نے اپنے والد محترم نے حضرت عبدالرزاق کی انہوں نے اپنے والد حضرت غوث اعظم کی صحبت پائی جن کو خود امام ذھبی نے َ طبقات القراء ِ میں ذکر فرمایا اور امام سیوطی نے بھی حسن المحاضرہ میں ذکر کیا ، امام ذھبی کے ابن جھضم کی طرف کتاب بہجۃ الاسرار کو منسوب کرنا جب درست ہوگا جب اس نام کی کوئی کتاب ان کی ہو ورنہ یہ نسبت درست نہیں ہے بلکہ ان کو اشتباہ ہوا ہے ۔ (ت)

اشیوخ علماء ھند عبدالحق بن سیف الدین المحدث الدھلوی وغیرھم رحمۃ اﷲ تعالٰی عیہم اجمعین انہ قال سیدنا ومولٰنا الغوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ من توسل بی فی شدۃ فرجت عنہ ومن استغاث بی فی حاجۃ قضیت لہ ومن صلی بعد المغرب رکعتین ثم یصلی ویسلم علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ثم یخطوا الی جھۃ العراق احدی عشرۃ خطوۃ یذکرفیہا اسمی قضی اﷲ تعالٰی حاجتہ[1] ۔ قلت وفرجت وقضیت تحتملان صیغۃ المجہول لواحدۃ غائبۃ ،  وصیغۃ المعلوم للواحد المتکلم وعلی ھذہ ترجمۃ الشاہ ابی المعالی رحمہ اﷲ تعالٰی فی التحفۃ القادریۃ ،  وایاما کان فالحاصل واحد ،  اولٰھما تحتمل الحقیقۃ الباطنۃ الذاتیۃ عـــــہ۱ والظاھرۃ عـــــہ۲ المستفادۃ ،                                           

علیہم اجمعین سے منقول کہ غوث اعظم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے فرمایا کہ جس نے کسی مصیبت میں میراوسیلہ دیا تو اس کی مصیبت ختم ہوگی ، اور جس نے اپنی حاجت کے لئے مجھ سے مدد مانگی تو اس کی حاجت پوری ہوگی ، اور جس نے نمازمغرب کے بعد دو رکعتیں پڑھ کر صلوٰہ وسلام پڑھا اور پھر عراق کی جانب گیارہ قدم میرانام کہتے ہوئے چلا تو اﷲ تعالٰی اس کی حاجت کو پورا فرمائے گا۔ قلت “ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن