دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

اگرچہ ازمصحف مجیدفال زدن درحدیث شریف نیامدہ

اگرچہ نیك فال قرآن مجید سے نکالنا حدیث شریف میں

اماممنوع ہم نیست اگرکسی عــــہ زند مضائقہ ندارد[1]۔

مذکورنہیں لیکن ممنوع بھی نہیں ، اگرکوئی نکالے تو مضائقہ نہیں ۔ (ت)

انہیں کے ملفوظات میں ہے :

حضرت مجدد  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  طریقہ نوبیان نمودہ ومقامات وکمالات طریقہ خودبسیار تحریر فرمودہ ودراں مقامات ہیچ شبہ نیست کہ باقرار ہزاراں علماء عقلاء بتواترہ رسیدہ [2]  اھ ملخصًا

حضرت مجددصاحب نے نئے طریقے بیان فرمائے ہیں اور اپنے طریقہ کے کمالات ومقامات کوخوب بیان فرمایاہے ، ان مقامات میں کوئی شك وشبہ نہیں کیونکہ ہزاروں علماء وعقلاء نے اس کی تصدیق فرمائی ہے جوتواتر کوپہنچی ہے اھ ملخصًا (ت)

اسی میں ہے :

حضرت شاہ ولی اﷲ محدث   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  طریقہ جدیدہ بیان نمودہ اندودرتحقیق اسرارمعرفت طرزخاص دارند مثل ایشاں درمحققان صوفیہ کہ جامع ازنددرعلم ظاہروباطن وعلم نوبیان کردہ اند چند کس گزشتہ باشند [3] اھ ملخصًا

حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمۃ اﷲتعالٰی نے جدیدطریقہ بیان فرمایاہے وہ معرفت کے اسرار کی تحقیق میں خاص طرز رکھتے ہیں اور یہ ان چندمحقق صوفیوں میں سے ہیں جنہوں نے ظاہری وباطنی علوم جمع فرمائے اور نئے علوم بیان کئے ہیں ایسے چندبزرگ ہوئے ہیں ۱ھ ملخصًا (ت)

 

عــــہ : اقول :  یہ جناب مرزاصاحب کاخیال تھا ، صحیح یہ ہے کہ قرآن عظیم سے فال کھولنا منع ہے ، حدیقہ ندیہ میں ہے :

قال والدی رحمہ اﷲ تعالٰی فی شرحہ علی شرح الدرر وفی کتاب التحفۃ اخذ الفال من المصحف مکروہ کذاذکرہ القھستانی یعنی کراھۃ التحریم الخ۱۲منہ دام ظلہ(م)

میرے والد   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا درر کی شرح میں اور کتاب التحفہ میں ہے کہ قرآن پاك سے فال نکالنا مکروہ ہے ، قہستانی نے ایسے ہی ذکرکیاہے یعنی مکروہ تحریمہ ہے الخ ۱۲منہ دام ظلہ (ت)

میاں اسمعیل دہلوی صراط مستقیم میں لکھتے ہیں :

اشغال مناسبہ ہروقت وریاضات ملائمہ ہرقرن جداجدا می باشند ولہٰذا محققال ہروقت ازاکابر ہرطرق درتجدید اشغال کوششہاکردہ اند بناء ً علیہ مصلحت دیدوقت چناں اقتضاکردکہ یك باب ازیں کتاب برائے بیان اشغال جدیدہ کہ مناسب ایں وقت ست تعیین کردہ شود [4] الخ         

ہروقت کے مناسب وظائف اورہرزمانہ کے لائق ریاضتیں جداجداہیں لہٰذا ہرزمانہ کے محققین نے ہرسلسلہ کے اکا برین سے نئے وظائف حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اس بناپر میں نے مصلحت دیکھی کہ وقت کاتقاضا ہے کہ اس کتاب کا ایك باب نئے وظائف و اعمال میں جو اس وقت کے مناسب ہوں ، کے لئے معین کروں ۱؎الخ

اب خداجانے یہ حضرات بدعتی کیوں نہ ہوئے اور انہیں خاص ان اموردینیہ میں جومحض تقرب الی اﷲ کے لئے کئے جاتے ہیں نئی نئی باتیں جو قرآن میں حدیث میں نہ صحابہ میں نہ تابعین میں ، نکالنی اور عمل میں لانی اور ان سے امید وصول الی اﷲ رکھنی ، کس نے جائزکی۔

مسئلہ :  قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من سئل عن علم فکتمہ الجمہ اﷲ یوم القیمۃ بالجام من نار[5]  اخرجہ احمدوابوداود والترمذی وحسنہ والنسائی وابن ماجۃ والحاکم وصححہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔                         

رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا جس سے کوئی علمی بات پوچھی جائے وہ اسے چھپائے اﷲتعالٰی روزقیامت اسے آگ کی لگام دے گا۔ اس حدیث کو ابوداؤد ، ترمذی نے تحسین کی۔ نسائی ، ابن ماجہ ، حاکم نے ابوھریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے اسے صحیح روایت کیا۔ (ت)

اب کیافرماتے ہیں علمائے ملت اسمٰعیلیہ ھدٰھم اﷲ تعالٰی الی الشریعۃ الحقۃ الابراھیمیۃ (اﷲتعالٰی شریعت حقہ ابراہیمیہ کی طرف ان کی رہنمائی فرمائے۔ ت) کہ دین خدا میں ایسی نئی نئی باتیں نکالنا اور یہ اقرارکرکے کہ کتاب وسنت سے اس کاثبوت نہیں ان پرعمل کرنا اور انہیں موجب ثواب وقرب رب الارباب سمجھنابدعت سیئہ نشیعہ ہے یانہیں ، اور یہاں حدیث من احدث فی امرنا مالیس منہ فھو رد[6] (جس نے ہمارے دین میں نئی بات نکالی جو اس میں نہیں تو وہ مردودہے۔ ت) وحدیث کل بدعۃ ضلالۃ[7] (ہربدعت گمراہی ہے۔ ت) وکل ضلالۃ فی النار[8] (اور ہرگمراہی جہنم میں ہے۔ ت)وحدیث شرالامورر محدثاتھا[9]سب سے بری بات نئے امورہیں ۔ ت) وحدیث اصحاب البدع کلاب اھل النار[10] (بدعت والے جہنم کے کتے ہیں ۔ ت)  واردہوں گی یانہیں ، اور جن صاحبوں نے یہ باتیں ایجادفرمائیں آپ کیں ، اوروں سے کرائیں ، کتابوں میں لکھیں ، زبانی بتائیں ، حسب تصریح تقویۃ الایمان ان کے اصل ایمان میں خلل آیایانہیں ، اور وہ بدعتی ، فاسق ، مخالف سنت قرارپائے یانہیں ، اور ان سے کہاجائے گا یانہیں کہ صحابہ وحسنات پرتم سے زیادہ حریص تھے بھلائی ہوتی تو وہی کرجاتے ، اور میاں بشیرقنوجی یہاں بھی ہیأت عبادات کو توفیقی بتائیں گے یانہیں ، پھرجولوگ ان صاحبوں کوامام وپیشوا جانتے اور ان کی مدح وستائش میں حد سے زیادہ غلو کرتے ہیں (جیسے شاہ ولی اﷲ مداح ومعتقد مرزامظہرصاحب اور شاہ عبدالعزیز وصّاف ومرید شاہ ولی اﷲ صاحب اور مولوی اسمٰعیل غلام وبادخوان ہردوشاہ صاحب اور تمام حضرات وہابیہ مداحین ومتعقدین جمیع صاحبان مذکورین) ان سب کے بارے میں کیاحکم ہے ، آیابحکم حدیث من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم



[1]   مکتوبات مرزامظہرجانجاناں ازمجموعہ کلمات طیبات مکتوب شصت ویکم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۵۶

[2]   ملفوظات مرزامظہرجانجاناں زمجموعہ کلمات طیبات ملفوظات  مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص ۷۰

[3]   ملفوظات مرزامظہرجانجاناں  زمجموعہ کلمات طیبات  ملفوظات  مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی  ص ۸۳ و ۸۴

[4]   صراط مستقیم قبیل باب اول مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ص۷

[5]   سنن ابوداؤد باب کراہیۃ منع العلم$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن