دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

الاٰکد مطلقا سنۃ الفجر

اقوی ومؤکد ہرحال میں فجر کی سنتیں

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

علی الوتر الذی ھومن الواجبات[1] ١ھ

اقول :   ھذا لایصلح بیانا لمعنی کلام الشارع صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذلاواجب عندہ انما ثمہ طلب جازم فافتراض اوغیرجازم فندب کماحققہ المحقق حیث اطلق فی الفتح فان کان الوتر عندہ واجبا لدخل فی ثنیا المکتوبۃ ولوترك قولہ الذی ھو من الواجبات وھی الکلام علی استنان الوتر کما ھو مذھب الصاحبین لم یتجہ ایضا لان سنۃ الفجر افضل من الوتر علی قولھما کماسمعت ۔

اقول :   وظھر للعبد الضعیف جواب حسن احسن من کل ماسبق وھو ان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لم یقل ان التھجد افضل الصلوۃ بعد المکتوبات حتی یکون دلیلا لمن شذ انما قال صلٰوۃ اللیل فان ثبت ان صلاہ اللیل تشتمل علی نافلۃ غیرالتھجد ھی افضل النوافل مطلقا حتی رواتب سقط                         

لئے ہے کہ وہ وتر پرمشتمل ہے جو کہ واجبات سے ہے۱ھ 

اقول :  (میں کہتاہوں ) یہ بیان کلام شارع کے معنی کابیان بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا کیونکہ اس کے ہاں کوئی واجب نہیں ہے وہاں تو طلب جازم ہو توافتراض ہے اگرجازم نہ ہو تو ندب ہے جیسا کہ فتح میں محقق نے تحقیق کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے اگرشارع کے ہاں وترواجب ہوتاتو وہ فرض میں شامل ہوتا اور اگر ملاعلی قاری کے قول الذی ھو من الواجبات کوچھوڑ دیاجائے یعنی ان کے کلام میں وتر کواستنان پرمحمول کیاجائے جیسا کہ صاحبین کامذہب ہے توبھی درست نہیں کیونکہ آپ سن چکے کہ ان کے قول کے مطابق فجر کی سنتیں وتر سے افضل ہیں ۔

اقول :  (میں کہتاہوں ) اس عبدضعیف کے لئے ایك ایسا جواب ظاہر ہواہے جومذکورہ تمام جوابات سے احسن ہے وہ یہ ہے کہ نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے یہ نہیں فرمایا کہ تہجد فرائض کے بعد افضل صلوٰۃ ہے ، حتی کہ یہ مخالفین جمہور کی دلیل بنے ، بلکہ آپ نے صلوٰۃ اللیل(رات کی نماز) فرمایا ہے اب اگریہ ثابت ہوجائے کہ رات کی نمازتہجد کے علاوہ دیگرنوافل پربھی مشتمل ہے جو کہ مطلق نوافل حتی کہ سنن مؤکدہ سے بھی افضل ہو تو پھر اس حدیث سے  (باقی برصفحہ آئند)

فلاعلیك من جنوح الفاضل میرك وبالله التوفیق تعالٰی وتبارک۔

ہیں اور فاضل میرك کی بحث وگفتگو قابل توجہ نہیں وبالله التوفیق تعالٰی وتبارک۔ (ت)

توتہجد جماعت کے کمترازکمترازکمتر سے کمترپانچویں درجہ میں واقع ہے سب سے آکد جماعت۱پھر۲سنت فجر پھر۳قبلیہ ظہرپھر۴رواتب پھر۵تہجدوغیرہ سنن ونوافل ، اور دوسرے قول پرتوکہیں ساتویں درجے میں جاکرپڑے گا کہ سب سے اقوی جماعت ۱پھر۲سنت فجرپھر۳سنت مغرب پھر۴بعدیہ ظہرپھر۵بعدیہ عشاء پھر۶قبلیہ ظہر پھر تہجد وغیرہا۔ پس تہجد کو سنت ٹھہراکر بھی جماعت سے افضل کیا ، برابر کہنے کی بھی اصلاکوئی راہ نہیں ، نہ کہ

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

الاحتجاج بہ وھوثابت بحمد الله تعالٰی بحدیث الصحیحین عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی الله تعالٰی عنھا قالت کان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یصلی من اللیل ثلث عشرۃ رکعۃ منھا الوترورکعتا الفجر[2]  فھذا ام المؤمنین وامام الفقھاء والمحدثین وغرۃ العرب العرباء الافصحین رضی الله تعالٰی عنھا قدعدت سنت الفجر من صلاۃ اللیل فھذہ ھی النافلۃ التی تفوق الصلوات کلھا بعدالمکتوب فبالاشتمال علیھا فضلت صلٰوۃ اللیل علی صلاۃ النھار بالاطلاق فھذا الجواب القاطع بحمدالله تعالٰی ثم لاغرومن الامام الاجل النووی انما العجب من العلامۃ میرك کیف تبعہ وخالف اجماع ائمۃ مذھبہ علی ان سنہ الفجر اٰکد النوافل مطلقا وبالله التوفیق۱۲منہ (م)           

استدلال ساقط ہوجائے گا اور یہ بات بحمدالله تعالٰی بخاری و مسلم کی اس حدیث سے ثابت ہے جو اُم المؤمنین حضرت صدیقۃ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے مروی ہے کہ نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم رات کو تیرہ۱۳رکعت پڑھتے تھے ان میں وتر اور فجر کی سنتیں بھی ہوتی تھیں ۔ یاد رہے آپ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  اُم المؤمنین ، امام الفقہا ، والمحدثین اور سرتاج فصحاء وبلغاء ہیں انہوں نے سنن فجر کو رات کی نماز میں شمار فرمایا ہے۔ پس یہ نوافل فرائض کے بعد تمام نمازوں پرافضل ٹھہرے ، چونکہ یہ نوافل صلوٰۃ اللیل پربھی مشتمل ہیں اس لئے رات کی نماز دن کی ہرنماز سے افضل قرارپائی۔ بحمدالله تعالٰی یہ قاطع جواب ہے۔ پھرامام نووی پرتو کوئی افسوس نہیں تعجب توعلامہ میرك پر ہے کہ انہوں نے امام نووی کی اتباع کرتے ہوئے اپنے ائمہ مذہب کے خلاف بات کیوں کہی ، حالانکہ ائمہ مذہب کااتفاق ہے کہ سنن فجر مطلقًا نوافل سے مؤکد ہیں خواہ رات کے ہوں یا دن کے ،  وبالله التوفیق ۱۲منہ(ت)

مستحب مان کر ، اگرکہئے یہاں کلام جماعت اولٰی میں ہے کہ سوال میں اس کی تصریح موجود اور واجب یا اس اعلٰی درجہ کی مؤکد مطلق جماعت ہے نہ خاص جماعت اولٰی بلکہ وہ صرف افضل واولٰی اور فضل تہجد اس سے اعظم و اعلٰی توحفظ تہجد کے لئے ترك اولٰی جائز وروا اگرچہ افضل ایتان وادا۔

اقول :  وبالله التوفیق (میں الله تعالٰی کی مدد سے کہتاہوں ۔ ت) قطع نظر اس سے کہ جب تعارض مسلّم اور فضل تہجد آکدواعظم توحفظ تہجد کو ترك اُولٰی نہ ترك اَولٰی ، بلکہ ترك ہی اَولٰی کمالایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ ت) یہ تاصیل وتفریع سراسربے اصل واحداث شنیع کہ نہ احادیث حضور پرنورسیدالانام علیہ وعلٰی آلہ الصلاۃ والسلام اس کے مساعد ، نہ کلمات وروایات علمائے کرام وفقہائے عظام مؤید وشاہد ، گر ایسا ہو تو بے عذر فوت تہجد وغیرہ بھلے چنگے بیٹھے بٹھائے بھی جماعت اولٰی قصدًا فوت کردینا جائز ورواہو جبکہ ایك آدمی اپنے ساتھ جماعت کے لئے حاضرومہیا ہو کہ آخر کچھ گناہ نہ کیا صرف ایك اولویت ترك کی جس میں حکم کراہت بھی نہیں ، معاذالله مسلمان اگر اس پرعمل کریں تو امر جماعت میں کس قدرتفرقہ شنیعہ واقع ہوتاہے وجوب جان کرترك پرسکت سخت وعیدیں سن کر تو بہت لوگ کسل وکاہلی کرجاتے ہیں کاش یہ سن پائیں کہ جماعت اولٰی کی حاضری شرعًاکچھ ضرورنہیں ایك بہتربات ہے کی کی نہ کی نہ کی ، تو ابھی جو رہاسہا انتظام ہے سب درہم برہم ہواجاتاہے ، لوگ مزے سے اذان سنیں اور اپنے لہوولعب میں مشغول رہیں کہ جلدی کیاہے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ بنالیں گے ، کیاایسی ہی متفرق بے نظم جماعتوں کی طرف حضورسیدالمرسلین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بلایا ، کیاانہیں کے ترك پرسخت سخت جگرشگاف وعیدوں کاحکم سنایا! حاش لله ثم حاش لله !ذرا نگاہ انصاف درکار کہ یہ قصدًا تفریق جماعت وتقلیل حضار کس قدر مقاصد شرع سے دور اور نورانیت حق وصواب سے بعید ومہجور ہے ، نہیں نہیں بلکہ یقینا وجوب و تاکد مذکور ، خاص جماعت اولٰی کے لئے منظور اور وہی صدراول سے معہود ، اور وہی احادیث وعید علی الترك میں مقصود ، اور زنہار زنہارہرگزجائز نہیں کہ بے عذر مقبول شرعی جماعت ثانیہ کے بھروسے پر جماعت اولٰی قصدًا چھوڑدیجئے اور داعی الٰہی کی اجابت نہ کیجئے ، جماعت ثانیہ کی تشریع اس غرص سے ہے کہ احیانًا بعض مسلمین کسی عذرصحیح مثل مدافعت اخبثین یاحاجت طعام وغیرہا کے باعث جماعت اولٰی سے رہ جائیں وہ برکت جماعت سے مطلقًا محرومی نہ پائیں بے اعلان عــــہ وتداعی محراب سے جدا ایك گوشے میں جماعت کرلیں نہ کہ اذان ہوتی ہے داعی الٰہی پکاراکرے جماعت اولٰی ہواکرے(یہ) مزے سے گھرمیں بیٹھے باتیں بنائیں یاپاؤں پھیلاکر آرام فرمائیں کہ عجلت کیاہے ہم اور کرلیں گے یہ قطعًا یقینا بدعت سیہ شنیعہ ہے۔

عــــہ   اعلان وتداعی معروف شرعی کہ نماز کے لئے مقرر ہے یعنی اذان ۱۲منہ(م)

ھذا مما لایشك فیہ من دخل بستان الفقہ فشم عرفا لانوارہ الفائحۃ اوفتح اجفان الفکر فشام برقا من انوارہ اللائحۃ ومالنا نسترسل فی سر والبراھین علی مثل ھذا الواضح المبین ولکن لاباس ان نذکر شیأ من التنبیہ لیستظھر الفقیہ ویتذکر النبیہ۔                  

 



[1]    مرقات المفاتیح حدیث ۱۲۳۶ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ / ۳۱۲

[2]    صحیح البخاری کتاب التہجد باب کیف صلوٰۃ اللیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن