30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جب دعا میں ہاتھ اٹھاتے توچہرہ مبارك پرپھیرتے بغیرہاتھوں کونیچے نہ کرتے۔ (ت)
علامہ عبدالرؤف مناوی تیسیر میں فرماتے ہیں :
تفاؤلاباصابۃ المراد وحصول الامداد[1]۔
مراد کوپانے اور امداد حاصل کرنے کے لئے نیك فال کے طورپر۔ (ت)
اور حدیث حسن :
ابی داؤد عن السائب بن یزید عن ابیہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان اذا دعا فرفع یدیہ مسح وجھہ بیدیہ۔
ابوداؤد نے حضرت سائب بن یزید سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کیاکہ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جب دعافرماتے تو ہاتھ اُٹھاکر چہرہ مبارك پرملتے۔ (ت)
کے نیچے لکھا :
تفاؤلا وتیامنا بان کفیہ ملئتا خیرافافاض منہ علی وجھہ[2]۔
یہ نیك فال ہوسکے ہ ہاتھ خیر سے بھرگئے ہیں اور اس خیرکو چہرہ پرفائض فرمایا۔ (ت)
اور حدیث ابی داؤد :
بیھقی عن ابن عباس عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سلوااﷲ ببطون اکفکم
بیہقی حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ
ولاتسئلوہ بظھورھا فاذا فرغتم فامسحوا بھا وجوھکم ۔
نے فرمایا کہ اﷲتعالٰی سے اپنے ہاتھوں کے باطن میں سوال کرو اور ہاتھوں کی پشت میں سوا ل نہ کرو ، اور جب دعاسے فارغ ہوجاؤ توہاتھوں کوچہرے پرپھیرو۔ (ت)
کے تحت میں لکھا :
تفاؤلا باصابۃ المطلوب وتبرکا بایصالہ الی وجھہ الذی ھواشرف الاعٖضاء و منہ یسری الی بقیۃ البدن[3]۔
تاکہ نیك فال ہوسکے کہ مطلوب پالیا اور اس کو برکت کے لئے چہرے تك پہنچایا جوکہ اعضامیں افضل ہے اور اس سے تمام بدن میں سرایت کرے۔ (ت)
فاضل علی قاری نے حرزثمین میں فرمایا :
لعل وجھہ انہ ایماء الی قبول الدعاء و تفاؤل بدفع البلاء وحصول العطاء فان اﷲ سبحٰنہ یستحیی ان یرد ید عبد صفرا ای خالیا من الخیر فی الخلاء والملاء[4]۔
ہوسکتاہے کہ یہ اس بات کااشارہ ہوکہ دعا قبول ہوچکی ہے اور دفع بلا اور حصول عطا کے لئے نیك فال بن سکے کیونکہ اﷲ تعالٰی اپنے بندے کے ہاتھوں کوخلاء اور ملاء میں خیر سے خالی لوٹانے پر حیافرماتاہے۔ (ت)
اسی طرح صاحب شرع صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے نائب جلیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مقاصد شرع پر لحاظ فرماکر خاص ان کے موافق یہ چلنا مقرر فرمایا کہ نفی اعراض وعطائے قربت وحصول اغراض واقبال اجابت کے لئے فال حسن ہو واﷲ تعالٰی الموفق۔
سادسًا صحیح مسلم شریف ف میں بروایت جابر بن عبداﷲ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا ثابت کہ سیدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم عین نماز میں چندقدم آگے بڑھے جب جنت خدمت اقدس میں اتنی قریب حاضر کی گئی کہ دیوار قبلہ میں نظر آئی یہاں تك کہ حضور بڑھے تو اس کے خوشہ ہائے انگور دست اقدس کے قابو میں تھے اور یہ نماز صلوٰہ الکسوف تھی۔
وذلك قولہ (بعد ما وصف صلوۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الکسوف) ثم تأخر (یعنی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) وتأخرت الصفوف خلفہ حتی انتھینا (قال مسلم وقال ابوبکر یعنی ابن ابی شیبہ شیخہ حتی انتھی) الی النساء ثم تقدم وتقدم الناس معہ حتی قام فی مقامہ فانصرف حین انصرف وقد اٰضت الشمس فقال (وقص الحدیث حتی قال) ما من شیئ توعدونہ الاوقد رأیتہ فی صلٰوتی ھذہ لقدجیئ بالنار وذلکم حین رأیتمونی تأخرت (وساق الخبرالی ان قال) ثم جیئ بالجنۃ وذلکم حین رأیتمونی تقدمت حتی قمت فی مقامی ولقد مددت یدی وانا ارید ان اتناول من ثمرھا[5] (الحدیث مختصر)
ان کاقول یہ کہ سوج گرہن کی نماز کوبیان کرتے ہوئے کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والاسلام نماز میں پیچھے ہٹ گئے اور آپ کے پیچھے صفیں بھی ہٹ گئیں حتی کہ ہم ہٹ گئے “ مسلم نے فرمایا کہ ان کے استاد ابوبکر ابن ابی شیبہ نے فرمایا یعنی ہم عورتوں کی صف تك پیچھے ہٹ گئے ، پھر حضورعلیہ السلام آگے بڑھے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ آگے بڑھ گئے حتی کہ حضورعلیہ السلام اپنے پہلے مقام پرکھڑے ہوئے توسورج روشن ہوگیا ، پس انہوں نے کہا کہ راوی نے پوری حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے فرمایا تمہیں جن امور کاوعدہ دیاگیا میں نے نماز میں ان سب چیزوں کودیکھا ہے اور تحقیق میرے سامنے آگ (جہنم) پیش کیاگیایہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا ، اور واقعہ بیان کرتے ہوئے راوی نے کہا ، پھرآپ نے فرمایا میرے سامنے جنت کوپیش کیاگیا اوریہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا حتی کہ میں اپنی جگہ کھڑاہوا اور میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اس خیال سے کہ میں جنت کاپھل حاصل کروں (الحدیث مختصرًا)۔ (ت)
اسی طرح جب ارباب باطن واصحاب مشاہدہ یہ نماز پڑھ کر بروجہ توسل عراق شریف کی طرف متوجہ ہوتے ہیں انوار وبرکات وفیوض وخیرات اس جانب مبارك سے باہزاراں جوش وہجوم پیہم آتے نظرآتے ہیں ، یہ بیتابانہ ان خوشہائے انگورجنّات نوروباغات سرور کی طرف قدم شوق پربڑھتے اور ان عزیز مہمانوں کے لئے رسم باجمال تلقی واستقبال بجالاتے ہیں ، سبحان اﷲ کیاجائے انکار ہے اس نیك بندے پرجو اپنے رب کی برکات وخیرات کی طرف مسارعت کرے۔
ان جئتکم قاصدا اسعی علی بصری
[1] التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث کان اذارفع یدیہ فی الدعاکے تحت مکتبہ امام الشافعی الریاض ۲ / ۲۵۰
[2] التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث کان اذا دعافرفع کے تحت مکتبہ امام الشافعی الریاض ۲ / ۲۴۹
[3] التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث سلواﷲ کے تحت مکتبہ امام الشافعی الریاض ۲ / ۶۰
[4] حرزثمین حواشی حصن حصین مع حصن حصین آداب الدعاء افضل المطابع انڈیا ص۱۱
ف : آئندہ سطورمیں ہلالین کے اندراعلٰی حضرت کی اپنی عبارت ہے اور ہلالین سے باہر حدیث کی عبارت ہے۔ نذیراحمد
[5] صحیح مسلم کتاب الکسوف مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۹۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع