30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رابعًا سنت نبویہ علٰی صاحبہا الصلٰوۃ والتحیۃ ہے کہ جہاں انسان سے کوئی تقصیر واقع ہو عمل صالح وہاں سے ہٹ کر کرے اسی لئے جب ایك بار سفرمیں آخرشب حضوراقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم وصحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے نزول فرمایا اور آنکھ نہ کھلی یہاں تك کہ آفتاب چمکا ، حضور نے وہاں نماز نہ پڑھی اور فرمایا اس جگہ شیطان حاضر ہواتھا اپنے مرکبوں کویونہی لئے چلے آؤ ، پھروہاں سے تجاوز فرماکر نمازقضا کی ، مسلم فی صحیحہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال عرسنا مع نبی اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلم نستیقظ حتی طلعت الشمس فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لیأخذ کل رجل براس راحلتہ فان ھذا منزل حضرنا فیہ الشیطان قال ففعلنا ثم دعا بالماء فتوضأ الحدیث[1](حدیث کاترجمہ متن حدیث سے پہلے موجود ہے)یہاں بھی جب یہ محتاج دورکعت نمازپڑھ چکااور اب وقت وہ آیا کہ جہت توسل کی طرف منہ کرکے اﷲ جل جلالہ ، سے دعاچاہتاہے ، نفس نماز میں جوقلت حضوروغیرہ قصورسرزد ہوئے یاد آئے اور سمجھاکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں شیطان کے دخل نے مجھ سے مناجات الٰہی میں تقصیر کرادی ، ناچار ہٹتاہے اور پُرظاہر کہ جہت توجہ اس کے لئے اولٰی وایسر ، یمینًا وشمالًا انصراف میں ترك توجہ ، اور رجعت قہقری بعد کی صورت اور اقبال نشان اقبال فکان ھوالمختار۔
خامسًا خادم شرع جانتاہے کہ صاحب شرع صلوات اﷲ وسلامہ علیہ کو باب دعا میں ، تفاؤل پربہت نظر ہے اسی لئے استسقاء میں قلب ِ ردا فرمایا کہ تبدل حال کی فال ہو
الدارقطنی بسند صحیح علی اصولنا عن الامام ابن الامام ابن الامام جعفر بن محمد بن علی رضی اﷲ تعالٰی عنہم عن ابیہ انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم استسقی وحوّل رداء ہ للیتحول القحط[2]۔
ہمارے اصول کے مطابق دارقطنی نے صحیح سند کے ساتھ امام ابن امام ابن امام جعفر بن محمدبن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم وہ اپنے والد سے راوی ہیں کہ آنحضرت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے (بارش کے لئے دعامیں ) چادرمبارك الٹی تاکہ قحط ختم ہوجائے۔ (ت)
امام نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں :
قالوا والتحویل شرع تفاؤلا بتغییر الحال من القحط الی نزول الغیث والخصب ومن ضیق الحال الی سعتہ[3]۔
ائمہ کرام نے فرمایا کہ چادر الٹانا اس لئے مشہور ہے کہ قحط سے بارش کی طرف اور تنگی سے خوشحالی کی طرف حالت کوتبدیل کرنے کے لئے نیك فال بن سکے۔ (ت)
اسی لئے بدخوابی کے بعد جو اس کے دفع شر کی دعا تعلیم فرمائی ، ساتھ ہی یہ بھی ارشاد ہوا کہ کروٹ بدل لے تاکہ اس حال کے بدل جانے پر فال حسن ہو
مسلم وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنھما مرفوعا اذا رأی احدکم الرؤیا یکرھھا فلیبصق عن یسارہ ثلثا ولیستعذ باﷲ من الشیطان ثلثا ولیتحول عن جنبہ الذی کان علیہ[4] ۔
مسلم ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ نے جابر بن عبداﷲ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیاکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو تین مرتبہ بائیں جانب تھوکے اور اعوذباﷲ من الشیطان الرجیم تین مرتبہ پڑھے اور اپنی کروٹ دوسری جانب بدلے۔ (ت)
علامہ مناوی تیسیر میں لکھتے ہیں :
تفاؤلا بتحول تلك الحال[5]
(تاکہ اس سے نجات کے لئے
نیك فال بن سکے۔ ت) اسی لئے ہنگام استسقا ، پشتِ دست جانبِ آسمان رکھے کہ ابرچھانے اور باران آنے کی فال ہو۔
مسلم عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم استسقی فاشار بظھر کفیہ الی السماء[6]۔
مسلم نے حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام جب بارش کے لئے دعافرماتے توہتھیلی مبارك کی پشت سے آسمان کی طرف اشارہ فرماتے۔ (ت)
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃمیں ہے :
طیبی گفتہ ایں نیزبرائے تفاول ست بقلب وتبدل حال مثل صنیع وے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم درتحویل رداشار تست بمطلوب کہ بطون سحائب بجانب زمین گرد و بریزد انچہ دروست از امطار واﷲ تعالٰی اعلم[7]۔
طیبی نے فرمایا یہ عمل بھی حالت کو تبدیل کرنے کی نیك فال کے طورپر ہے جیسا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم چادرتبدیل کرتے تھے جس میں بادلوں کے پیٹ زمین کی طرف ہوجانے اور بادلوں سے بارش ہونے کے مطلوب کی طرف اشارہ تھا واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)
اسی لئے علمانے مستحب رکھا ، جب دفع بلاکے لئے دعاہو ، پشت دست سوئے سماہو ، گوہاتھوں سے آتش فتنہ کوبجھاتااور جوش بلا کو دباتا ہے۔ اشعہ میں ہے :
گفتہ اندچوں دعابرائے طلب وسوال چیزے ازنعمابود مستحب است کہ گردانیدہ شود بطن کفہا بجانب آسمان وہرگاہ کہ برائے دفع و منع فتنہ وبلاباشد پشت ہائے دست بجانب آسمان کندازبرائے اطفائے نائرہ فتنہ وبلاوپست کردن قوت حادثہ وغلبہ آں [8]۔
علمانے فرمایا ہے کہ جب کسی نعمت کے حصول کے لئے دعاکی جائے تومستحب یہ ہے کہ دعامیں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کوآسمان کی طرف کیاجائے اور اگرکسی دفع شر کے لئے دعا کی جائے توپھرہاتھوں کی پشت کوآسمان کی طرف کیاجائے تاکہ فتنہ اور مصیبت کی شدت کم ہو اور حادثہ کی قوت وغلبہ پست ہوجائے۔ (ت)
اسی لئے دعا کے بعد چہرے پرہاتھ پھیرنا مسنون ہوا کہ حصول مرادقبول دعا کی فال ہو گویادونوں ہاتھ خیروبرکت سے بھرگئے اس نے وہ برکت اعلٰی و اشرف اعضاپراُلٹ لی کہ اس کے توسط سے سب بدن کو پہنچ جائے گی۔ ترمذی وحاکم کی حدیث میں عبداﷲ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا سے ہے :
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا رفع یدیہ فی الدعاء لم یحطھما حتی یمسح بھما وجھہ[9]۔
[1] صحیح مسلم باب قضاء الصلٰوۃ الفائتہ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۸
[2] سنن الدارقطنی کتاب الاستسقاء حدیث ۲ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۲ / ۶۶
[3] شرح مسلم للنووی مع مسلم کتاب صلٰوۃ الاستسقاء مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۱ / ۲۹۲
[4] صحیح مسلم کتاب الرؤیا مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۲ / ۲۴۱ ، سنن ابوداؤد باب فی الرؤیا مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۲ / ۶۸۵
[5] التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث اذا رأی احدکم کے تحت مکتبہ امام الشافعی الریاض ۱ / ۹۷
[6] صحیح مسلم کتاب صلٰوۃ الاستسقا مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۱ / ۲۹۳
[7] اشعۃ اللمعات کتاب صلٰوۃ الاستسقا مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۲۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع