30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴) [1]
اور اگروہ جب اپنی جانوں پرظلم کریں تیرے حضور حاضر ہوکر خدا سے بخشش چاہیں اور رسول اُن کے لئے استغفار کرے تو بیشك اﷲ تعالٰی کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔
سبحان اﷲ خداہرجگہ سنتاہے اور بے سبب مغفرت فرماتاہے مگرارشاد یوں ہوتاہے کہ گنہگار بندے تیری خدمت میں حاضر ہوکر ہم سے دعائے بخشش کریں اور قدیمًا وحدیثًا وصلحا اس آیہ کریمہ کوزمانہ حیات ووفات سیدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میں عام اور حاضری مزارمبارك کوحاضری مجلس اقدس کی مثل سمجھاکئے اور اوقات زیارت میں یہی آیہ کریمہ تلاوت کرکے اﷲتعالٰی سے استغفار کرتے رہے اس مضمون کی بہت روایات وحکایات مواہب لدنیہ و منح محمدیہ و مدارج النبوۃ وجذب القلوب الٰی دیار المحبوب و خلاصۃ الوفا فی اخبار دارالمصطفی وغیرہا تصانیف علمامیں مذکور ومشہور بعض ان سے حضرت مقدام المحققین حضرت والد قدس سرہ الماجد نے سرورالقلوب فی ذکرالمحجوب میں ذکرکرکے اس مسئلے کااثبات فرمایا من شاء فلیتشرف بمطالعتہ(جوچاہے اس کے مطالعہ سے مشرف ہو۔ ت) اسی طرح بہت علما مصنفان مناسك باب زیارت شریفہ مدنیہ طیبہ میں وقت حاضری اس آیت کو پڑھ کر استغفار کاحکم دیتے ہیں توثابت ہوا کہ محبوبان خدا کی طرف جانا اور بعد وصال اُن کی قبور کی طرف چلنا دونوں یکساں جیسا کہ سیدنا امام شافعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سیدنا امام ابوحنیفہ کے مزارفائض الانوار کے ساتھ کیاکرتے۔ اب یہ کہ گدائے سرکار قادریہ اس آستان فیض نشان سے دور ومہجورہے گوبعد نماز مزار اقدس تك جانے کی حقیقت اسے میسرنہیں تاہم دل سے توجہ کرنا اور چندقدم اس سمت چل کر اُن چلنے والوں کی شکل بناتا ہے کہ سیدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حدیث حسن میں فرمایا :
من تشبہ بقوم فھومنھم[2]۔ اخرجہ الطبرانی فی الاوسط عن حذیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ باسناد حسن وان کان طریق ابی داود عن ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما لیس بذلك
جو کسی قوم سے مشابہت پےدا کرے وہ انہیں سے ہے اس کی تخرےج طبرانی نے اوسط میں حضرت حذےفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کی ہے یہ سند جےد ہے اگرچہ ابوداؤد کے طرےق پرابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی قوی نہیں ہے(ت)
ثانیًا توسل میں توجہ باطن ضرور اور ظاہر ، عنوان باطن ، لہٰذا یہ چلنا مقررہوا کہ حالت قالب ، حالت قلب پرشاہد ہو جس طرح سیدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے استسقا میں قلبِ ردا فرمایا کہ قلب لباس ، قلب احوال وکشف باس کی خبر دے ، شاہ ولی اﷲ نے قول الجمیل میں قضائے حاجت کے لئے “ صلٰوۃ کن فیکون “ کی ترکیب لکھی جس کے آخر میں ہے کہ پھرپگڑی اتارے ، آستین گلے میں ڈالے ، پچاس۵۰ باردعاکرے ، ضرورمستجاب ہو[3]۔ اس پر ان کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز صاحب فرماتے ہیں : “ بعض ناواقفوں نے اعتراض کیا ہے ، آستین گردن میں ڈالنا کیونکر جائز ہوگا ، حالانکہ ادعیہ ماثورہ میں یہ ثابت نہیں ، ہم جواب دیتے ہیں کہ قلب ردا یعنی چادر کااُلٹنا پلٹنا نماز استسقاء میں رسول علیہ السلام سے ثابت ہے تاحال عالم کابدل جائے تو اس طرح آستین گردن میں ڈالنا ، امر مخفی کے اظہار کے واسطے یعنی تضرع کے ، واسطے حصول شعار گردش حال کے یامقصود کے کیونکر ناجائز ہوگا[4] “ ۔ انتھی ترجما بترجمۃ المولوی خرم علی البلھوری فی شفاء العلیل ترجمۃ القول الجمیل۔ میں کہتاہوں جب آستین گلے میں باندھنا باآنکہ طرق ماثورہ میں وارد نہیں ، اس وجہ سے کہ اس میں تضرع مخفی کااظہار شدیدہے ، اگرچہ نفس اظہار گڑگڑانے کی صورت سے حاصل تھا ، جائز ٹھہرا تویہ چندقدم جانب عراق محترم چلنا اس وجہ سے کہ اس میں توجہ مخفی کااظہار قوی ہے کیونکرناجائز ہوگا۔
ثالثًا ظاہرمصلح خاطر ولہٰذا جس امر میں جمع عزیمت وصدق ارادت کااہتمام چاہتے ہیں وہاں اس کے مناسب احوال وجوارح رکھے جاتے ہیں کہ ان کی مدد سے خاطر جمع اور انتشار دفع ہوا ، اسی لئے نماز میں تلفظ بہ نیت قصد جمع عزیمت علماء نے مستحسن رکھا کمافی المبسوط والھدایۃ والکافی والحلیۃ وغیرھا (جیسا کہ مبسوط ، ہدایہ ، کافی اور حلیہ وغیرہ میں ہے۔ ت) شاہ ولی اﷲ حجۃ البالغہ میں لکھتے ہیں :
من جبلۃ الانسان انہ اذا استقر فی قلبہ شیئ جری حسب ذلك الارکان واللسان و ھوقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم “ ان فی جسد ابن اٰدم مضغۃ “ الحدیث ففعل اللسان ولارکان اقرب مظنۃ وخلیفۃ لفعل القلب۔[5]
انسانی فطرت ہے کہ جب کوئی چیز اس کے دل میں جم جاتی ہے تواعضاء اور زبان اسی کے مطابق حرکت کرتے ہیں اور حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے اس ارشاد مبارك کا کہ انسان کے جسم میں ایك ٹکڑا ہے الحدیث ، پس زبان اور اعضاء کی حرکت دل کے فعل کے تابع ہوتی ہے۔ (ت)
اوریہی سر ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین اور تشہد میں انگشتِ شہادت سے اشارہ مقررہوا ، شاہ ولی اﷲ اسی کتاب میں لکھتے ہیں :
الھیأۃ المندوبۃ ترجع الی معان ، منھا تحقیق الخضوع کصف القدمین ، ومنھا محاکاۃ ذکراﷲ تعالٰی باصابعہ ویدہ حذوما یعقلہ بجنانہ کرفع الیدین و الاشارۃ بالمسبحۃ لیکون بعض الامر معاضدًا لبعض١ھ[6] ملخصًا
مستحب حالت کئی معانی کی طرف راجع ہے ، ایك خشوع کاپایاجانا ، جیسے قدموں کابرابرہونا ، اور ایك اﷲ کے ذکر کی حکایت ہاتھ اور انگلیوں سے کرناب تاکہ دل میں جوکچھ ہے اس کی مطابقت ہوسکے ، جیسے ہاتھ اٹھانا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنا جس سے بعض افعال کی بعض تقویت ہوتی ہے اھ ملخصا(ت)
اور اسی قبیل سے ہے دعامیں ہاتھ اٹھانا چہرے پرپھیرنا ، شاہ ولی اﷲ تصریح کرتے ہیں کہ یہ افعال رغبت باطنی کی تصویر بنانے کوہیں کہ قلب اس پرخوب متنبہ ہوجائے اورحالت قلب ہیأت سے تائید پائے۔
کتاب مذکورمیں ہے :
اما رفع الیدین ومسح الوجہ بھما فتصویر للرغبۃ مظاھرۃ بین الھیأۃ النفسانیۃ وما یناسبھا من الھیأۃ البدنیۃ وتنبیہ للنفس علی تلك الحالۃ [7]۔
اور ہاتھ اٹھانا اور دعاکے بعد ہاتھوں کو چہرے پر ملنا یہ اپنی دعا میں رغبت کااظہارہے اور ہیئت نفسانیہ کی تصویر اور ہیئت بدنیہ کی مناسبت ہے اور نفس کو اپنی حالت پرتنبیہ ہے۔ (ت)
بعینہٖ یہی حالت اس چلنے کی ہے کہ رغبت طاطنی کی پوری تصویربتاتااور قلب کوانجذاب تام پرمتنبہ کرتاہے جیسا کہ اس عمل شریف کے بجالانے والوں پرروشن ، گومنکر محروم بیخبر باش ع
ذوق ایں مے نہ شناسی بخدا تانچشی
(اس شراب کامزہ تو اسے چکھے بغیر نہ پاسکے گا)
[1] القرآن ۴ / ۶۴
[2] مسند احمد بن حنبل مروی از عبد اللہ ابن عمر مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۵۰و ۹۲ ، مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط کتاب الزہد مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ۱۰ / ۲۷۱
[3] القول الجمیل مترجم اردو پانچویں فصل صلٰوۃ کن فیکون مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۷۳
[4] شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل پانچویں فصل صلٰوۃ کن فیکون مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۷۴
[5] حجۃ اﷲ البالغہ الامور التی لابدمنہا فی الصلٰوۃ مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲ / ۵
[6] حجۃ اﷲ البالغہ اذکارالصلٰوۃ وہیأتہا المندوب الیہا مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲ / ۷
[7] حجۃ اﷲ البالغہ الاذکار ومایتعلق بہا مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲ / ۷۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع