30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نسیم میں ہے :
لشدہ خشوعہ[1]
یہ جھك جانا سبب شدت خشوع تھا۔
شفاشریف وغیرہ تصانیف علماء میں اس قسم کی بہت روایات مذکور ، شاہ ولی اﷲ قصیدہ ہمزیہ میں لکھتے ہیں : ؎
ینادی ضارعا لخضوع قلب وذل وابتھال والجتاء
رسول اﷲ یاخیرالبرایا نوالك ابتغی یوم القضاء[2]
(حاجت مندی ، دل کی عاجزی ، انکساری ، تضرع اور التجاء کے ساتھ رسول اﷲ کو نداکرے اور عرض کرے کہ اے مخلوق سے افضل ذات! میں آپ سے قیامت کے روزعطاکاخواستگار ہوں )
دیکھو صاف بتاتے ہیں کہ جب نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو ندااور حضور سے عرض حاجت کرے تو تضرع و خضوع قلب وتذلل والحاح وزاری سب کچھ بجالائے۔ میں کہتاہوں واﷲ ایسا ہی چاہئے مگرآپ کے ان شرك فروشوں کی دواکون کرے ، غرض اس مطلب نفیس میں کلمات علماء کا استیعاب کیجئے تودفترچاہئے لہٰذا میں یہاں منسك متوسط اور اس کی شرح مسلك متقسط کی ایك نفیس عبارت کہ بہت فوائد جلیلہ پرمشتمل تلخیصًا اور ذکر کرتاہوں مولٰینا رحمۃ اﷲ سندی متن اور فاضل علی قاری شرح میں فرماتے ہیں :
فاذا فرغ من ذلك قصد التوجہ الی القبر المقدس وفرغ القلب من کل شیئ من امور الدنیا ، واقبل بکلیتہ لماھو بصددہ لیصلح قلبہ للاستمداد منہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، ولیلا حظ مع ذلك الاستمداد من سعۃ عفوہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعطفہ ورأفتہ (ای شدۃ رحمتہ علی سائر العباد) ان یسامحہ فیما عجز عن ازالتہ من قلبہ ، ثم توجہ (ای بالقلب والقالب) مع رعایۃ غایۃ الادب فقام تجاہ الوجہ الشریف متواضعا خاضعا خاشعا مع الذلۃ والانکسار والخشیۃ والوقار والھیبۃ و الافتقار غاض الطرف مکفوف الجوارح (من الحرکات) فارغ القلب (عمن سوی مقصودہ ومرامہ) واضعا یمینہ علی شمالہ (تأدبا فی حال اجلالہ) مستقبلا للوجہ الکریم مستدبرا للقبلۃ ناظرا الی الارض متمثلا صورتہ الکریمۃ فی خیالك مستشعرا بانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عالم بحضورك وقیامك وسلامك (بل بجمع افعالك واحوالك وارتحالك ومقامک) مستحضرا عظمتہ وجلالتہ وشرفہ وقدرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ثم قال من غیررفع صوت (لقولہ تعالٰی ان الذین یغضون اصواتھم عند رسول اﷲ الایۃ)
یعنی جب مقدمات زیارت سے فارغ ہوقبرانور کی طرف توجہ کاقصد اور دل کو تمام خیالات دنیویہ سے فارغ کرے اور ہمہ تن اس طرف متوجہ ہوجائے تاکہ اس کاقلب حضوراقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے استمداد کے لائق ہو بااینہمہ جوخیال مجبورانہ دل میں باقی رہے جس کے ازالہ پرقادرنہ ہو اس کی معافی کے لئے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی کمال مغفرت ومہربانی و رافت اور تمام بندوں پرحضور کی شدت رحمت سے مددمانگے پھردل وبدن دونوں سے نہایت ادب کے ساتھ مواجہہ شریف میں حاضرہو تواضع وخضوع وخشوع وتذلل وانکسار وخوف و وقار وہیبت واحتیاج کے ساتھ آنکھیں بند کئے اعضا کوحرکت سے روکے دل اس مقصود مبارك کے سوا سب سے فارغ کئے ہوئے ادب وتعظیم حضور کے لئے دہنا ہاتھ بائیں پررکھے حضور کی طرف منہ اور قبلے کوپیٹھ کرے نگاہ زمین پرجمائے رہے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی صورت کریمہ کاتصور باندھے اور ہوشیار ہوکہ حضوراقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اس کی حاضری و قیام وسلام بلکہ تمام افعال واحوال اور منزل بمنزل کے قیام و ارتحال پرمطلع ہیں اور حضورکی عظمت وجلال وشرف و منزلت کوخوب خیال کرے پھرنہ توآواز بلند ہو کہ اﷲ تعالٰی ان کے حضورپست آواز کاحکم دیتاہے نہ بالکل آہستہ جس میں سنانے کی سنت فوت ہو اگرچہ سرکارپرکچھ پوشیدہ نہیں اس طرح حضور قلب وشرم وحیا
ولا اخفاء (ای بالمرۃ لفوت الاسماع الذی ھوالسنۃ وان کان لایخفی شیئ علی الحضرۃ) بحضور (قلب واستحیاء) السلام علیك ایّھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ [3] ثم یقول یارسول اﷲ اسألك الشفاعۃ ثلثا (لانہ اقل مراتب الالحاح لتحصیل المنال فی مقام الدعاء والسؤال)[4]
صلی اﷲ تعالٰی علی قاضی حاجتنا ومعطی مواداتنا سیدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین۔
کے ساتھ عرض کرے السلام علیك ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ پھرکہے یارسول اﷲ! میں حضور سے شفاعت مانگتاہوں یارسول ! میں حضور سے شفاعت مانگتاہوں یارسول اﷲ!میں حضور سے شفاعت مانگتاہوں ، تین باس اس لئے کہے کہ یہ دعا وسوال میں حصول مقصود کے واسطے ادنٰی مرتبہ الحاح کاہے۔ (م)اﷲ تعالٰی ہمارے حاجت روا اور مرادوں کوپوراکرنے والے ہمارے آقا ومولٰی محمد اور آپ کی آل وصحابہ کرام سب پر ، رحمت نازل فرمائے۔ (ت)
اِن احادیث وروایات وکلمات طیبات سے کالشمس فی وسط السماء روشن وآشکارہوگیا کہ ہنگام توسل محبوبان خدا کی طرف منہ کرناچاہئے اگرچہ قبلہ کوپیٹھ ہو ، اور دل کو ان کی طرف خوب متوجہ کرے یہاں تك کہ ہر این وآں خاطر سے محو ہوجائے اور ان کے لئے خضوع وخشوع محمود و مشروع ، اور اس میں ان کازمانہ وفات ظاہری وحضور مرقدو ذکرمجرد سب برابرہے اور ان کے سوا عبارت اخیرہ سے جو اور فوائد جمیلہ وعوائد جلیلہ حاصل ہوئے بیان سے غنی ہیں والحمدﷲ رب العٰلمین پس زید منکر نے کہ توجہ قلب وخشوع وہیأت نماز وغیرہ کی قیدیں بڑھاکر گمان کیاتھا کہ اب اسے اثبات عدم جواز کی طرف راہ آسان ہوگی۔ بحمداﷲ ثابت ہوا کہ اس کامحض خیال ہی خیال تھا وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠(۸۲) [5] (اور اﷲتعالٰی حق کو اپنے کلمہ سے ثابت فرماتاہے اگرچہ باطل واے ناپسند کریں ۔ ت)فقیرحیران ہے کہ اس نمازمبارك میں اول توصلٰوۃ مفروضہ کے بعد قبلے سے انحراف کہاں ، اورہوبھی تو اس میں کیاگناہ ہے ، ہرنماز مفروضہ کے بعد امام کو قبلے سے انحراف سنت معلومہ ہے ، پھر اسے ممانعت میں کیا مداخلت ، ہاں جوکچھ غیظ وغضب کرناہو تعیین سمت پرکیجئے اور اس کاجواب مرزا مظہرجانجاناں شہید سے لے لیجئے جنہیں شاہ ولی اﷲ دہلوی اپنے مکتوبات میں نفس زکیہ ، قیم طریقہ احمدیہ ، داعی سنتِ نبویہ متحلی بانواع فضائل وفواضل لکھتے ہیں اور حاشیۃ مکتوبات پر شاہ صاحب مذکور سے مرزاصاحب موصوف کی نسبت منقول :
انچہ قدر ایشاں مامردم میدانیم شماچہ دانیداحوال مردم ہندبرما مخفی نیست کہ خود مولد ومنشاء فقیرست وبلاد عرب رانیزدیدہ ایم وسیرنمودہ ، واحوال مردم ولایت ازثقات آنجا شنیدہ ایم وتحقیق کردہ عزیزے کہ برجادہ شریعت وطریقت واتباع کتاب وسنت ہمچنین استوارومستقیم باشد ودرارشاد طالبان شان عظیم ونفسے قوی دارد ودریں جزوزماں مثل ایشاں دربلاد مذکور یافتہ نمی شودمگردرگز شتگان بلکہ درہر جزوزمان وجوداین چنیں عزیزاں کمتر بودہ است چہ جائے ایں زماں کہ پرفتنہ وفسادست انتہی [6]۔ ان کی جو قدرہم جانتے ہیں تم کیاجانو ، ہندوستان کے لوگوں کے احوال ہم سے مخفی نہیں کیونکہ ہندوستان فقیر کاجائے پیدائش وپرورش ہے اور عرب بھی میں نے دیکھاہے اور اس کی سیرکی ہے اور ولایت کے لوگوں کے احوال بھی سنے ہیں ، تحقیق کی ہے کہ ان صاحب عزت ، جوکہ شریعت وطریقت کے مرتبہ پر فائز ہیں اور کاب وسنت پرعمل پیراہیں اور طالب حضرات کی رہنمائی میں عظمت اور مضبوطی رکھتے ہیں ، جیسا بلادمذکورہ میں فی زمانہ کوئی نہیں ہے گزشتہ لوگوں (اسلاف میں ہوسکتاہے ، بلکہ ہردور میں ان جیسے بزرگ بہت کم ہوئے ہیں اس پرفتن زمانہ کی بات ہی کیاہے اھ(ت)
یہی جناب مرزاصاحب اپنے مکتوبات میں ایك مرید رشید کو (جن کی بی بی کی نسبت فرمایا : تخمے پاك در خاك آں عفیفہ کاشتہ ایم بروقت مقدرسرسبز خواہد شد(ہم نے اس پاکیزہ کی مٹی میں ایك پاك بیچ کاشت کیاہے جومقررہ وقت پرسرسبز ہوگا۔ ت) تحریرفرماتے ہیں :
[1] نسیم الریاض شرح شفاء فصل واعلم ان حرمۃ النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بعد موتہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۳۹۹
[2] شرح قصیدہ ہمزیہ شاہ ولی اﷲ فصل ششم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۳
[3] مسلك متقسط شرح منسك متوسط مع ارشاد الساری فصل ولوتوجہ الی الزیارۃ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص۳۳۷
[4] مسلك متقسط شرح منسك متوسط مع ارشاد الساری فصل ولوتوجہ الی الزیارۃ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص۳۳۹
[5] القرآن ۱۰ / ۸۲
[6] حاشیۃ مکتوبات شاہ ولی اﷲ دہلوی ازمجموعہ کلمات طیبات فصل چہارم$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع