دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

عــــہ۲ :  ھکذا ھو ھھنا یثبت الصلٰوۃ فی نفس الحدیث فی النسخۃ التصحیحۃ للترغیب التی من اﷲ تعالٰی بہا علی ھذا المحتاج ولعل عثمن بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ اذا روی الحدیث اتی بہ کما ھو واذا علم الرجل زاد الصلٰوۃ کما ھو المطلوب فی امثال المقام ،  واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲منہ (م)                                       

یوں ہی وہ یہاں نماز کا ثبوت نفس حدیث میں ہے “ ترغیب “ کے صحیح نسخہ میں ہے یہ نسخہ اﷲتعالٰی نے اس محتاج کو بطوراحسان عطافرمایاہے ہوسکتاہے کہ عثمان بن حنیف   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے جب روایت کیا توانہوں نے حدیث کودرست بیان فرمایا اور جب انہوں نے آدمی کو ترغیب دی ہو تو نماز کالفظ زائد کردیا ہو جیسا کہ ایسے مقام میں مطلوب ہوتاہے ، واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲منہ (ت)

صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نبی الرحمۃ ،  یامحمد انی اتوجہ بك الی ربی فتقضی لی حاجتی ،  وتذکر حاجتك ورح الی حتی اروح معک ،  فانطلق الرجل فصنع ماقال لہ ،  ثم اتی باب عثمٰن رضی اﷲ تعالٰی عنہ فجاء البواب حتی اخذہ بیدہ فادخلہ علی عثمن بن عفان رضی اﷲ تعالٰی عنہ فاجلسہ معہ علی الطنفسۃ ،  فقال حاجتک ، فذکر حاجتہ فقضاھالہ ،  ثم قال :  ماذکرت حاجتك حتی کانت ھذہ الساعۃ وقال ماکانت لك من حاجۃ فاذکرھا ثم ان الرجل خرج من عندہ فلقی عثمن بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ ،  فقال لہ جزاك اﷲ خیرا ،  ماکان ینظر فی حاجتی ولایلتفت الی حتی کلمتہ فی ،  فقال عثمن بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ واﷲ ما کلمتہ ،  ولکن شھدت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واتاہ رجل ضریر فشکا الیہ ذھاب بصرہ ،  فقال لہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ائت المیضأۃ فتوضأ ثم صل رکعتین ثم ادع بھذہ الدعوات ،  فقال عثمن بن حنیف فواﷲ ماتفرقنا وطال بنا الحدیث حتی دخل علینا الرجل کانہ لم یکن بہ ضر قط[1] ۔                                                

توجہ کرتاہوں یارسول اﷲ! میں حضور کے توسل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتاہوں کہ میری حاجت روا فرمائے اور اپنی حاجت کاذکرکر ، شام کوپھرمیرے پاس آنا کہ میں بھی تیرے ساتھ چلوں ، حاجت مند نے یوں ہی کیا پھرآستان خلافت پرحاضرہوا دربان آیا اور ہاتھ پکڑ کر امیر المومنین کے حضورلے گیا امیرالمومنین نے اپنے ساتھ مسند پربٹھایا مطلب پوچھا ، عرض کیا فورًا روافرمایا اور ارشاد کیا اتنے دنوں میں اس وقت تم نے اپنا مطلب بیان کیاپھر فرمایا جوحاجت تمہیں پیش آیاکرے ہمارے پاس چلے آیاکرو۔ یہ شخص وہاں سے نکل کر عثمان بن حنیف   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ملا اور کہااﷲ تمہیں جزائے خیردے امیرالمومنین میری حاجت پرنظر اور میری طرف التفات نہ فرماتے تھے یہاں تك کہ آپ نے اُن سے میرے بارے میں عرض کی ، عثمان بن حنیف   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے فرمایا خدا کی قسم میں نے توتیرے معاملے میں امیرالمومنین سے کچھ بھی نہ کہا ، مگر ہوایہ کہ میں نے سیّدعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کودیکھا حضورکی خدمت اقدس میں ایك نابینا حاضرہوا اور نابینائی کی شکایت کی حضورنے یوں ہی اسے ارشاد فرمایا کہ وضوکرکے دورکعت پڑھے پھریہ دعا کرے ، خدا کی قسم ہم اُٹھنے بھی نہ پائے تھے ، باتیں ہی کررہے تھے کہ وہ ہمارے پاس آیاگویا کبھی اندھاہی نہ تھا۔

تنبیہ : ایھا المسلمون حضرات منکرین کی غایت دیانت سخت محل افسوس وعبرت ، اس حدیث جلیل کی عظمت رفیعہ وجلالت منیعہ اوپرمعلوم ہوچکی اور اس میں ہم اہل سنت وجماعت کے لئے جواز استمداد والتجا وہنگام توسل ، ندائے محبوبانِ خداکابحمداﷲ کیسا روشن و واضح وبین ولائح ثبوت ، جس سے اہل انکار کو کہیں مفرنہیں اب ان کے ایك بڑے عالم مشہور نے باوجود اس قدردعوی بلند علم وتدوین کے اپنے مذہب کی حمایت بیجا میں جس صریح بے باکی وشوخ چشمی کوکام فرمایا ہے انہیں اس سے شرم چاہئے تھی حضرت نے حصن حصین شریف کاترجمہ لکھا ، جب اس حدیث پرآئے اس کی قاہرشوکت ، عظیم عزت نے جرأت نہ کرنے دی کہ نفس متن میں اس پرطعن فرمائیں اور ادھرپاس مشرب ، ناخن بدل جوش عصبیت تاب گسل ، ناچار حاشیہ کتاب پریوں ہجوم ہموم کی تسکین فرمائی کہ :

یك راوی این حدیث عثمن بن خالد بن عمربن عبداﷲ متروك الحدیث است چنانکہ درتقریب موجوداست وحدیث ، راوی متروك الحدیث قابل حجت نمی شود۔

ایك راوی اس حدیث میں عثمن بن خالد بن عمربن عبداﷲ ہے جو متروك ہے جیسا کہ “ تقریب “ میں موجودہے ، اور متروك الحدیث راوی کی حدیث حجت کے قابل نہیں ہوتی۔ (ت)

انا ﷲ وانا الیہ راجعون ، انصاف ودیانت کا تو یہ مقتضی تھا کہ جب حق واضح ہوگیاتھا تسلیم فرماتے ارشاد مفترض الانقیاد حضور پرنورسیدالانبیاء صلوات اﷲ وسلامہ علیہ وعلٰی آلہٖ الامجاد ، کی طرف رجوع لاتے نہ کہ خواہی نخواہی بزورتحریف ، ایسی تصحیح رجیح حدیث کو ، جس کی اس قدرائمہ محدثین نے یك زبان تصحیح فرمائی معاذ اﷲ ساقط ومردود قراردیجئے اور انتقام خدا و مطالبہ حضورسیدروزجزا علیہ افضل الصلٰوۃ والثناء کاکچھ خیال نہ کیجئے ، اب حضرات منکرین کے تمام ذی علموں سے انصاف طلب کہ اس حدیث کاراوی عثمن بن خالد بن عمربن عبد اﷲ متروك الحدیث ہے جس سے ابن ماجہ کے سوا کتب ستہ میں کہیں روایت نہیں ملتی ، یا عثمن بن عمر بن فارس عبدی بصری ثقہ جوصحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہما تمام صحاح کے رجال سے ہیں ، کاش اتناہی نظرفرمالیتے کہ جو حدیث کئی صحاح میں مروی ، اس کامدار روایت وہ شخص کیونکر ممکن جو ابن ماجہ کے سوا کسی کے رجال سے نہیں ، وائے بیباکی ، مشہور و متداول صحاح کی حدیث جن کے لاکھوں نسخے ہزاروں بلاد میں موجود اُن کی اسانید میں صاف صاف عن عثمن بن عمر مکتوب ، پھر کیاکہاجائے کہ ابن عمر کا ابن خالد بنالینا کس درجہ کی حیا و دیانت ہے لاحول ولاقوۃ الاَّ باﷲ العلی العظیم۔ اور سنئے ابن السنی عبداﷲ بن مسعود اور بزار عبداﷲ بن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   سے راوی حضور اقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

اذاانفلتت دابۃ احدکم بارض فلاۃ فلیناد یاعباد اﷲ احبسوا فان ﷲ تعالٰی عبادا فی الارض تحبسہ[2] ۔

جب تم میں کسی کاجانور جنگل میں چھوٹ جائے تو چاہئے یوں نداکرے “ اے خدا کے بندو! روك لو “ کہ اﷲتعالٰی کے کچھ بندے زمین میں ہیں جو اسے روك لیں گے۔

بزار کی روایت میں ہے یوں کہے : اعینوا یاعباداﷲ مدد کرو اے خدا کے بندو!۔ سیدنا عبداﷲ بن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  ان لفظوں کے بعد رحمکم اﷲ [3]   (اﷲ تم کرے۔ ت) اور زیادہ فرماتے رواہ ابن شیبۃ فی مصنفہ (اسے ابن شیبہ نے اپنی مصنّف میں روایت کیا۔ ت) امام نووی   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اذکار میں فرماتے ہیں : ہمارے بعض اساتذہ نے کہ عالم کبیر تھے ایسا ہی کیا ، چھوٹا ہواجانور فورًا رك گیا ، اور فرماتے ہیں پررحم : ایك بار ہمارا ایك جانور چھٹ گیا ، لوگ عاجز آگئے ہاتھ نہ لگا ، میں نے یہی کلمہ کہا فورًا رك گیا جس کا اس کہنے کے سوا کوئی سبب نہ تھا[4] نقلہ سیدی علی القاری فی الحرز الثمین (ملاعلی قاری نے اسے حرزثمین میں نقل کیا۔ ت) امام طبرانی سیدنا عتبہ بن غزوان   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے راوی حضورپرنور سیدالعالمین   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

اذا اضل احدکم شیئا واراد عونا وھوبارض لیس بھا انیس فلیقل یاعباداﷲ اعینونی یاعباداﷲ اعینونی یاعباداﷲ اعینونی فان ﷲ عبادا لایراھم[5]۔

جب تم میں سے کوئی شخص سنسان جگہ میں بہکے بھولے یا کوئی چیز گم کردے اور مددمانگنی چاہے تویوں کہے : اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو ، اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو ، اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو ، کہ اﷲ کے کچھ بندے عـــــہ ہیں جنہیں یہ نہیں دیکھتا۔

 

عـــــہ : جن کے سیدو مولاوسند وماوٰی حضورپرنورسیدناعبدالقادرجیلانی ہیں   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ۔ (باقی برصفحہ آئندہ)

عتبہ بن غزوان   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں قد جرّب ذلك [6]  بالیقین یہ بات آزمائی ہوئی ہے رواہ الطبرانی ایضًا (اسے طبرانی نے بھی روایت کیاہے۔ ت)فاضل علی قاری علامہ میرك سے وہ بعض علمائے ثقات سے ناقل ھذا حدیث حسن یہ حدیث حسن ہے۔ اور فرمایا مسافروں کو اس کی ضرورت ہے ، اور فرمایا مشائخ کرام قدست اسرارہم سے مروی ہوا انہ مجرب قرن بہ النجاح[7]$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن