دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

ثم الثابت بعدھذا نفی المندوبیۃ اما ثبوت الکراھۃ فلاالاان یدل دلیل اٰخر[1]۔

یعنی نبی   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  وصحابہ کرام کے نہ کرنے سے اس قدرثا بت ہواکہ مندوب نہیں ۔ رہی کراہت وہ اس سے ثا بت نہ ہوئی جب تك اور کوئی دلیل اس پرقائم نہ ہو۔

اور اسے اخلاص فـــ و توکل کے خلاف ماننا عجب جہالت بے مزہ ہے اس میں محبوبان خدا کی طرف توجہ بغرض توسل ہے اور ان سے توسل قطعًا محمود ، اور ہرگز اخلاص وتوکل کے منافی نہیں ، اﷲ تعالٰی فرماتاہے :

وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۳۵) [2]

اﷲ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں کوشش کرو کہ تم مراد کو پہنچو۔

اور انبیاء وملائکہ علیہم الصلٰوۃ والسلام کی نسبت فرماتاہے :

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ [3]

وہ ہیں کہ دعاکرتے اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں ۔

اور آدم   عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  ودیگرانبیاء وصلحاء وعلماء وعرفاء علیہم التحیۃ والثناء کاقدیمًا وحدیثًا حضوراقدس غایۃ الغایات ، نہایۃ النہایات علیہ افضل الصلٰوۃ واکمل التسلیمات سے حضور کے ظہورپرنور سے پہلے اور بعد بھی حضور کے زمان برکت نشان میں اور بعد بھی عہد مبارك صحابہ وتابعین سے آج تك اور آج سے قیام قیامت و عرضات محشر ودخول جنت تك “ استشفاع وتوسّل “ احادیث وآثار میں جس قدر وفوروکثرت وظہوروشہرت کے ساتھ وارد محتاج بیان نہیں ، جسے اس کی گونہ تفصیل دیکھنی منظورہو مواہب لدنیہ امام قسطلانی و خصائص کبرائے امام جلال الدین سیوطی و شرح مواہب علامہ زرقانی و مطالع المسرات علامہ فاسی و لمعات و اشعہ شروح مشکوٰۃ و جذب القلوب الٰی دیار المحبوب و مدارج النبوۃتصانیف شیخ محقق مولٰنا عبد الحق صاحب دہلوی وغیرہا کتب و کلام علمائے کرام و فضلائے عظام علیہم رحمۃ العزیز العلّام ، کی طرف رجوع لائے کہ وہاں حجاب غفلت منکشف ہوتاہے اور مصنف خطا سے منصرف وباﷲ سبحٰنہ وتعالٰی التوفیق۔ اسی طرح صحیح بخاری شریف میں امیرالمومنین فاروق اعظم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا سیدنا عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے طلب باراں سے توسل کرنا مروی ومشہور ، حصن حصین میں ہے :

وان یتوسل الی اﷲ تعالٰی بانبیاہ خ ر مس والصالحین من عبادہ [4] خ۔

یعنی آداب دعا سے ہے کہ اﷲ تعالٰی کی طرف اس کے انبیاء سے توسل کرے۔ اسے بخاری و بزاز وحاکم نے امیرالمومنین عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیا اور اﷲ کے نیك بندوں کاوسیلہ پکڑے ، اسے بخاری نے انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیا۔

اور سب سے زیادہ وہ حدیث صحیح ومشہور ہے جسے ۱نسائی و۲ترمذی و ۳ابن ماجہ و ۴حاکم و ۵بیہقی و۶ طبرانی و ابن خزیمہ نے عثمان بن حنیف   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیا اور طبرانی و بیہقی نے صحیح اور ترمذی نے حسن غریب صحیح اور حاکم نے برشرط بخاری و مسلم صحیح کہا اور حافظ امام عبدالعظیم منذری وغیرہ ائمہ نقدوتنقیح نے اس کی تصحیح کو مسلّم ومقرر رکھا جس میں حضوراقدس ملجاء بیکساں ، ملاذ دوجہاں ، افضل صلوات اﷲ تعالٰی وتسلیماتہ علیہ وعلٰی ذریاتہٖ ، نے نابینا کو دعاتعلیم فرمائی کہ بعد نمازکہے :

اللھم انی اسئلك واتوجہ الیك بنبیك محمد نبی الرحمۃ (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) یامحمد انی اتوجہ بك الٰی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضی لی اللھم فشفعہ فی۔[5]

الٰہی! میں تجھ سے مانگتااور تیری طرف توجہ کرتاہوں بوسیلہ تیرے نبی محمد  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے کہ مہربانی کے نبی ہیں یارسول اﷲ! میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت میں توجہ کرتاہوں کہ میری حاجت رواہو ، الٰہی! ان کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔

اور لطف یہ ہے کہ بعض روایات حصن حصین میں لتقضی لی بصیغہ معروف واقع ہوا یعنی یارسول اﷲ! میں آپ کے توسل سے خدا کی طرف توجہ کرتاہوں کہ آپ میری حاجت روائی کردیں ۔ مولٰینا فاضل علی قاری علیہ الرحمۃ الباری حرزثمین شرح حصن حصین میں فرماتے ہیں :

وفی نسخۃ بصیغۃ فاعل ای لتقضی الحاجۃ

اورایك نسخہ میں معروف کاصیغہ ہے یعنی تومیری حاجت روائی

لی والمعنی تکون سببا لحصول حاجتی ووصول مرادی فالاسنادمجازی [6] ھ

فرما ، اور معنی یہ ہے کہ آپ میری حاجت روائی کاسبب بنیں ، پس یہ اسناد مجازی ہے۱ھ (ت)

اوریہ حدیث نفیس نجیح مذیل بطراز گرانبہائے تصحیح عــــہ۱ امام ابوالقاسم سلیمن لخمی طبرانی کے پاس یوں ہے :

ان رجلاکان یختلف الی عثمٰن بن عفان رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی حاجۃ لہ ،  فکان عثمٰن لایلتفت الیہ ولاینظر فی حاجتہ ،  فلقی عثمٰن بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ فشکا ذلك الیہ ،  فقال لہ عثمٰن بن حنیف :  ائت المیضأۃ فتوضأ ثم ائت المسجد فصل فیہ رکعتین ثم قل اللھم انی اسألك و اتوجہ الیك بنبینا محمد      

یعنی ایك حاجتمند اپنی حاجت کے لئے امیرالمومنین عثمان   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی خدمت میں آتا امیرالمومنین نہ اس کی طرف التفات کرتے نہ اس کی حاجت پر نظرفرماتے ، اس نے عثمان بن حنیف   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے اس امر کی شکایت کی انہوں نے فرمایا وضو کرکے مسجد میں دورکعت نمازپڑھ پھریوں دعامانگ : الٰہی! میں تجھ سے سوال کرتاہوں اور تیری طرف اپنے نبی   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نبی رحمت کے وسیلے سے

 

عــــہا : امام منذری ترغیب میں فرماتے ہیں : قال الطبرانی بعد ذکر طرقہ والحدیث صحیح [7] طبرانی نے اس حدیث کی متعدد اسنادیں ذکرکرکے کہا حدیث صحیح ہے ۱۲منہ (م)

 



[1]   فتح القدیر باب النوافل مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر  ۱ / ۳۸۹

[2]   القرآن ۵ / ۳۵

[3]   القرآن ۱۷ / ۵۷

$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن