30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اس کے آخر میں قلم شیخ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے یہ تحریر ہے :
قدتم ھذا الکتاب علی یدمنشئہ وھو
یہ کتاب بقلم مصنف تمام ہوئی اور یہ میرے
النسخۃ الثانیۃ من بخط یدی وکان الفراغ منہ بکرۃ یوم الاربعاء الرابع و العشرین من شھر ربیع الاول سنۃ ست و ثلثین ۶۳۶ وستمائۃ وکتبہ منشؤہ[1]۔
خط سے دوسرانسخہ ہے اس کی تحریر سے روزچار شنبہ وقت صبح بتاریخ ست وچہارم ماہ مبارك ربیع الاول ۶۳۶ فراغ لکھاہواہے اس کے مصنف نے ، رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تعالٰی۔
ور سیدموصوف نے یہ بھی بیان فرمایا کہ سینتیس۳۷ مجلد میں ہے اور اس میں اس نسخے سے جس میں ملحدوں نے عقائد شنیعہ الحاق کئے ، عبارت زیادہ ہے اور اس کی پشت پرنام کتاب بخط مصنف علیہ الرحمہ لکھاہے اس کے نیچے شیخ صدرالدین قونوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے خط سے یہ عبارت تحریرہے :
انشاء مولانا شیخ الاسلام وصفوۃ الانام محی الدین بن عربی[2]۔
یہ کتاب ہمارے آقا سردار مسلمانان برگزیدہ جہاں محی الدین بن عربی کی تصنیف ہے۔
اور اس کے نیچے لکھاہے : ملك ھذہ المجلدۃ لمحمدبن اسحٰق القونوی[3] (یہ مجلدمحمد بن اسحٰق قونوی کی ملك میں آیا۔ اس کے نیچے شیخ صدرالدین ممدوح کے خط سے محمد بن ابی بکرتبریزی کی روایت کہ ان سے بطریق سماع حاصل ہوئی مکتوب ہے اور محمدبن اسحٰق قونوی کی شرح دستخط یہ ہے :
انتقل الی خادمہ وربیب لطفہ محمد بن اسحٰق سنۃ سبعین وثلثین۶۳۷ وستمائۃ[4] ۔
یہ کتاب مصنف کے خادم ولطف پروردہ محمد بن اسحٰق قونوی کی طرف ۶۳۷ میں منتقل ہوئی۔
نتہٰی ظاہرہے کہ اس سے زیادہ کون سانسخہ معتمدہوگا خود قلم خاص حضرت مصنف قدس اﷲ تعالٰی سرہ العزیز کی تحریر اور اس کے اول وآخرمیں خود مصنف ودیگرعلماء وعمائد کے دستخط کثیر ، جب یہ نسخہ ان عبارات شنیعہ سے خالی ملاتو الحاق وافترا میں کیاشك رہا والحمدﷲ رب العٰلمین ولہٰذا مفتی سلطنت عثمانیہ عمدہ علمائے روم علامہ ابوالسعود علیہ رحمۃ الملك الودود نے اپنے فتوے میں تصریح فرمائی کہ یتقنا ان بعض الیہود افتراھا علی الشیخ قدس اﷲ سرہ ہمیں یقین ہے کہ بعض یہودیوں نے یہ کلمات شیخ قدس سرہ ، پرافتراء کئے ہیں ۔ کمانقلہ فی الدرالمختار عن معروضاتہ۔ اب کلام امام شعرانی کاحال سنئے ، خود امام موصوف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ میزان میں فرماتے ہیں :
وقع لی ذلك من بعض الاعداء فانھم دسوا فی کتابی المسمی ، بالبحر المورود فی المواثیق
یعنی مجھے یہ واقعہ بعض اعدا کے ساتھ پیش آچکاہے انہوں نے میری کتاب البحر المورودفی المواثیق والعہود
والعھود ، امور اتخالف ظاھر الشریعۃ و داروبھا فی الجامع الازھر وغیرہ و حصل بذلك فتنۃ عظیمۃ وماخمدت الفتنۃ حتی ارسلت لھم نسختی التی علیھا خطوط العلماء ففتشھا العلماء فلم یجدوا فیھا شیئا ممایخالف ظاھر الشریعۃ ممادسہ الاعداء فاﷲ تعالٰی یغفرلھم و یسامحھم[5] ۱ھ۔
میں خلاف شرع باتیں الحاق کردیں اور اسے جامع ازہر وغیرہ میں لئے پھرے اور اس کے سبب بڑا فتنہ اٹھا اور فرو نہ ہوا یہاں تك کہ میں نے ان کے پاس اپنا نسخہ جس پرعلما کے دستخط تھے بھیج دیا اہل علم نے تلاش کی تو اس میں وہ امور مخالفہ شریعت جو دشمنوں نے ملادئیے تھے اصلًا نہ پائے اﷲتعالٰی ان کی مغفرت کرے اور درگزرفرمائے۔
خیر ایك طریقہ توثبوت الحاق کایہ ہے دوسرے یہ مصنف کامام معتمد وعالم متدین ، مستند ہونا معلوم ہے اور یہ کلام کہ بے تواتر حقیقی اس کی طرف نسبت کیاگیا صریح معصیت یابدمذہبی وضلالت جس میں اصلًا تاویل وتوجیہ کی گنجائش ہی نہیں تو اس وجہ سے کہ علماء تو لما عام اہل اسلام کی طرف بے تحقق وتواتر وثبوت قطعی کسی کبیرہ کی نسبت مقبول نہیں کما نص علیہ الامام الاجل حجۃ الاسلام محمد الغزالی قدس سرہ العالی فی الاحیاء (جیسا کہ امام غزالی قدس سرہء نے “ احیاء العلوم “ میں اس کی تصریح کی ہے۔ ت) رَد کردیں گے اور تحسینًا للظن ، الحاقی کہیں گے اور اسی سے ملحق ہے ، بات کا ایساسخیف ورذیل ہونا کہ کسی طرح عقل سلیم اس امام عظیم سے اس کاصدور منظورنہ کرے جیسے باب ذوی الارحام میں قبیل فصل صنف اول سراجیہ میں یہ مہمل عبارت لان عندھما کل واحد منھم اولی من فرعہ وفرعہ وان سفل اولی من اصلہ[6] (کیونکہ ان دونوں کے نزدیك ان میں سے ہرایك اپنی فرع سے اولٰی ہے اور اس کی فرع اگرچہ نچلی ہو اصل سے اولٰی ہے۔ ت) جس کے لئے اصلًا کوئی محصل نہیں ولہٰذا علامہ سیدشریف نے شرح میں نقل فرمایا :
لم یتحصل منھا معنی فھی من ملحقات بعض الطلبۃ القاصرین [7] الخ
اس کاکوئی معنی نہیں بنتا لہٰذا یہ بعض نالائق طلباء کی الحاق کردہ عبارت ہے الخ (ت)
اور اسی قبیل سے ہے وہ عبارت جس میں کسی طائفہ زائفہ کے لئے کوئی غرض فاسد ہو اور امام مصنف اس سے بَری اور جابجا خود اس کاکلام اس غرض مردودکے خلاف پرشاہد ، جیسے بعض خداناترسوں کاامام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی کی طرف معاذاﷲ کلمات مذمت امام الائمہ مالك الازمہ کاشف الغمہ سراج الامّہ سیّدنا امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، نسبت کرنا حالانکہ اُن کی کتاب متواترہ احیاء وغیرہ مناقب امام کی شاہدعدل ہیں عــــہ اور مثل آفتاب روشن و بےنقا ب کہ مانحن فیہ میں ان صورتوں سے کوئی مشکل نہیں والحمدﷲ رب العٰلمین ، اگر منکر بہجۃالاسرار شریف کے نسخ قدیمہ صحیحہ معتمدہ اس روایت سے خالی دکھادیتا یازبانی انکار کے سواکوئی دلیل معقول قابل قبول ارباب عقول ، اس کے یقینی ضلالت ومخالف عقیدہ اہل سنت ہونے پرقائم کرلیتاتو اس وقت دعوٰی الحاق زیب دیتا ، نہ کہ علی الرغم اس کے ، علمائے مابعد ، طبقہ فطبقہ اس روایت کو نقل فرمائیں ، اور مقرر ، و مسلم رکھتے آئیں اور بہجۃ کا ایك نسخہ معتمدہ بھی اس کے خلاف نہ ملے اور محض براہ سینہ زوری الحاق کا ادعائے باطل کردیاجائے ، فن اصول میں جسے ادنٰی مداخلت ہے اس پر کالشمس واضح کہ مجرد امکان ، منافی قطع ویقین بالمعنی الاعم نہیں ، جب تك احتمال ناشئی عن دلیل نہ ہو ورنہ تمام نصوص قرآن وحدیث سے ہاتھ دھو بیٹھے ، اور یہیں سے ظاہرہوگیا کہ منکر کاتصانیف شریفہ جناب شیخ اکبر و امام شعرانی قدس سرہما کی نظیردینا کس درجہ لغو وبے محل تھا ، کہاں وہ روشن وقائع قطعی ثبوت ، کہاں یہ زبانی شو سے حیلہ مبہوت ، کاش منکر نے جہاں تصانیف مذکورہ کانام لیاتھا وہاں امام شعرانی کے اقوال مسطورہ بھی نقل کرلاتا ، کہ دعوی مدلل وادعائے
عــــہ ماینسب الی الامام الغزالی یردہ ماذکرہ فی احیاہ المتواترعنہ حیث ترجم الائمۃ الاربعۃ وقال واما ابوحنیفۃ فلقدکان ایضا عابدا زاھدا عارفا باﷲ خائفا منہ مریدا وجہ اﷲ تعالٰی یعلمہ[8] الخ۱ھ درمختار۔
[1] کشف الظنون بحوالہ لواقع الانوار القدسیۃ من الفتوحات المکیۃ مطبوعہ مکتبۃ المثنی بغداد ۲ / ۱۲۳۹
[2] کشف الظنون بحوالہ لواقع الانوار القدسیۃ من الفتوحات المکیۃ مطبوعہ مکتبۃ المثنی بغداد ۲ / ۱۲۳۹
[3] کشف الظنون بحوالہ لواقع الانوار القدسیۃ من الفتوحات المکیۃ مطبوعہ مکتبۃ المثنی بغداد ۲ / ۱۲۳۹
[4] کشف الظنون بحوالہ لواقع الانوار القدسیۃ من الفتوحات المکیۃ مطبوعہ مکتبۃ المثنی بغداد ۲ / ۱۲۳۹
[5] المیزان الکبرٰی مقدمۃ الکتاب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۹
[6] السراجی فی المیراث باب ذوی الارحام مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۹
[7] حاشیۃ ضیاء السراج مع السراج بحوالہ شرح سیدشریف مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۳۹
[8] احیاء العلوم بیان العلم الذی ھو فرض الکفایۃ مطبوعہ مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ مصر ۱ / ۲۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع