30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علی بن جریر الخمی الشطنوفی الامام عــــہ الاوحد نورالدین شیخ القراء بالدیار المصریۃ ابوالحسن اصلہ من الشام ولد بالقاھرۃ سنۃ اربع واربعین وستمائۃ وتصدر للاقراء بجمامع الازھر وغیرہ تکاثر علیہ الطلبۃ وحضرت مجلس اقراہ فاعجبتی سمتہ وسکوتہ وکان ذاعزام
یعنی علی بن جریرلخمی شطنوفی امام یکتا ہیں نورالدین لقب ابوالحسن کنیت بلاد مصر میں علمائے قرأت کے استاد ہیں اصل ان کی شام سے ہے ۶۴۴ھ میں قاہرہ مصر میں پیداہوئے اور جامع ازہر وغیرہ میں مسند اقرأ پرصدرنشینی کی بکثرت طلبہ ان کے پاس جمع ہوئے میں اُن کی مجلس درس میں حاضرہوا ان کی نیك روش و کم سختی مجھے پسند آئی حضور شیخ عبدالقادر جیلانی رَضِیَ اللہُ
عــــہ : بعینہٖ اسی طرح امام اجل جلال الملۃ والدین سیوطی نے حسن المحاضرۃ فی اخبارمصروالقاہرۃ میں اس جناب کو الامام الاوحد لکھا یعنی بے مثل امام ۱۲منہ غفرلہ (م)
بالشیخ عبدالقادر الجیلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ وجمع اخبارہ ومناقبہ فی نحوثلث مجلدادت [1] ۱ھ ملخصا
تَعَالٰی عَنْہُ کے شیدائی تھے انہوں نے حضور کے فضائل تین۳ مجلد کے قریب میں جمع کئے ہیں ۔
پرظاہر کہ امام ذہبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے مثل سے یہ کلمات جلیلہ اس جناب کی کمال وثاقت وعدالت ووفورِ علم وجلالت پرشاہدعدل ودلیل فصل ہیں اور خود امام اوحد یعنی بے مثل امام یکتا ، کالفظ اجل واعظم تمام فضائل ومناقب جلیلہ کا یکتا جامع اکمل واتم ہے وہ جناب سندعالی رکھتے اور زمانہ اقدس حضور پرنورغوث الثقلین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے نہایت قریب ہیں انہیں حضوراقدس تك صرف دو۲واسطے ہیں قاضی القضاۃ امام اجل حضرت سیدناابوصالح نصر قدس سرہ ، کے اصحاب سے ہیں اور وہ اپنے والدماجد حضرت سیدنا ابوبکرتاج الملۃ والدین عبدالرزاق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اور وہ اپنے والد ماجد حضورپرنور سیدالسادات غوث الافراد قطب الارشاد غوث اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے خلیفہ و مرید وصاحب ومستفید ہیں رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین۔ شیخ محقق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ زبدۃ الآثار شریف میں فرماتے ہیں یہ کتاب بہجۃ الاسرار کتاب عظیم و شریف ومشہور ہے اور اس کے مصنف علمائے قرأت سے عالم معروف ومشہور اور ان کے احوال شریفہ کتابوں میں مذکورومسطور ، پھر ذہبی وابن الجزری کے وہ اقوال نقل فرمائے اور رسالہ مذکورہ شیخ محقق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ میں اسی نمازمبارك کے بارے میں مرقوم :
اقوٰی دلائل واوضح مسائل درین باب کتاب عزیز بہجۃ الاسرار معدن الانوار کہ معتبرومقررومشہورومذکورست ومصنف ایں کتاب ازمشاہیرمشائخ وعلماست میانِ وے و حضرت شیخ یعنی حضرت غوث الاعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دو واسطہ است ومقدم است برامام عبداﷲ یافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کہ ایشان نیزازمنتسبان سلسلہ شریفہ ومحبان جناب غوث الاعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ [2]۔ (ملتقطا) اس باب میں اقوٰی دلیل “ بہجۃالاسرار “ معدن الانوار ہے جو کہ معتبر اور مشہور ہے ، اس کتاب کے مصنف اور حضرت شیخ یعنی غوث اعظم کے درمیان صرف دو واسطے ہیں اور یہ امام یافعی سے مقدم ہیں کہ جبکہ امام یافعی خود سلسلہ قادریہ سے متعلق ہیں اور حضور غوث اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے عقیدت رکھتے ہیں (ت)
ہیں ، امام یافعی وعلامہ علی قاری و حضرت شیخ محقق دہلوی وغیرہم اکابر کی امامت وجلالت ووثاقت عدالت سے کون آگاہ نہیں ۔
؎ وکیف یصح فی الاعیان شیئ اذا احتاج النہار الی دلیل
(جب روز روشن دلیل کامحتاج ہوجائے توپھر کسی چیز کا وجود کیسے ثابت ہوسکتاہے)
بالجملہ ایسے اکابر کی روایات معتمدہ کو بے وجہ وجیہ ، رَد کردینا یاسخت جہالت ہے یا خبث وضلالت والعیاذ باﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اور بے دلیل دعوٰی الحاق محض مردود ، ورنہ تصانیف ائمہ سے امان اُٹھ جائے اور نظام شریعت درہم وبرہم نظرآئے جوسند پیش کیجئے مخالف کہہ دے یہ الحاقی ہے ، چلئے تمسك واستناد کادروازہ ہی بند ہوگیا “ ہیہات “ کیابزور زبان کچھ کہہ دینا ، قابل قبول ہوسکتاہے ، حاشاوکلا ادعائے بے دلیل مطرودوذلیل ، ہاں ہم کو مسلم کہ بعض کتابوں میں بعض الحاق بھی ہوئے مگر اس سے ہرکتاب کی ہرعبارت تومطروح یامشکوك نہیں ہوسکتی کسی خاص عبارت کی نسبت یہ دعوٰی زنہار مسموع نہیں جب تك بوجہ وجیہ اس میں الحاق ثابت نہ کردیں جس کے لئے امثال مقام عــــہ میں صرف دو۲طریقے متصور ، ایك تو یہ کہ اس کتاب کے صحیح ، معتمد ، عمدہ ، قدیم نسخے اس عبارت سے خالی ملیں یاخاص مصنف کااصل مسودہ پیش کیاجائے جس میں اس عبارت کانشان نہ ہو ، حضرت
عــــہ : اشارۃ الی انہ قدیعلم ذلك بالرجوع الی المتکلم وانکارہ عندمن لایتھمہ ، ویعرف تارۃ باعتراف المفتری کماوقع بعض الوضاعین ، ویقبل اخری اذا نص علی ذلك من یرجع الیہ لعظمہ وفضلہ ، ولاینکر علیہ لثقتہ وعدلہ وکذلك یحکم بہ اذا لم یأت ذلك الامن طریق من عرف بالکذب کقول المحدثین ان ھذا موضوع ای فی سندہ وضاع او کذاب وھذا انما یعطی عدم الجزم لاالجزم بالعدم الا اذا ضم الیہ دلیل اٰخر فالکذوب قد یصدق واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲منہ
یہ اس طرف اشارہ ہےکہ الحاق کبھی خود متکلم کی طرف رجوع کرنے پر اور اس کا ایسا شخص کے سامنے الحاقی عبارت سے انکارکرنا ، جس کو کذب سے متہم نہیں کیاجاسکتا اور کبھی خود افتراء کرنے والے کے اعتراف سے معلوم ہوتاہے جیسا کہ بعض ایسے لوگوں سے اعتراف واقع ہواہے اور کبھی ایسی منظم اور افضل شخصیت جس کے تقوٰی اور عدل کی بناپر اس کی بات کاانکار نہیں کیاجاسکتا ، کی تصریح سے معلوم ہوتاہے اور کبھی الحاق کاحکم تب کیا جاتاہے جب کہ اس بات کو صرف جھوٹ بولنے میں مشہورشخص ہی بیان کرے جیسا کہ محدثین کہہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے کیونکہ اس کی سند میں من گھڑت اور کذاب راوی ہے ، یہ آخری وجہ صرف عدم جزم کافائدہ دیتی ہے اور جزم بالعدم کانہیں کیونکہ جھوٹا بھی کچھ سچ بول دیتاہے ہان اگرکوئی اوردلیل بتائے کہ یہ جھوٹ ہے توپھر جزم بالعدم کافائدہ ہوسکتاہے واﷲ تعالٰی اعلم۱۲۔ منہ (ت)
جناب شیخ اکبر و امام شعرانی قدس سرہما کی تصانیف میں الحاق یونہی ثابت ہوا ، امام شعرانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لواقح الانوارمیں فرماتے ہیں :
قدم علینا الاخ العالم الشریف شمس الدین السید محمد ابن السید ابی الطیب المدنی المتوفی ۹۵۵ خمس وخمسین و تسعمائۃ فذاکرتہ فی ذلك فاخرج الی نسخۃ من الفتوحات التی قابلھا علی النسخۃ التی علیھا خط شیخ محی الدین نفسہ بقونیۃ فلم ارفیھا شیئا مما توفقت فیہ وحذفتہ فعلمت ان النسخ التی فی مصر ان کلھا کتبت من النسخۃ التی دسوا علی الشیخ فیھا مایخالف عقائد اھل السنۃ والجماعۃ کماوقع لہ ذلك فی کتاب الفصوص وغیرہ[3] الخ
یعنی ہمارے دوست عالم شریف سیدشمس الدین محمد بن سید ابوالطیب مدنی جن کی وفات ۹۵۵ھ میں ہوئی ہمارے یہاں آئے میں نے فتوحات شیخ اکبرقدس سرہ ، کاتذکرہ کیا انہوں نے ایك نسخہ فتوحات نکالا جسے انہوں نے اس نسخے سے مقابلہ کیاتھا جو شہر قونیہ میں کہ شیخ اکبرقدس سرہ ، کا وطن ہے خاص شیخ قدس سرہ ، کے دستخط شریف سے مزیّن ہے اس نسخے میں میں نے کہیں ان عبارتوں کانشان نہ پایا جن میں مجھے تردّد تھا اور میں نے فتوحات کے انتخاب میں قلم انداز کردی تھیں تومجھے یقین ہوا کہ اب جس قدر نسخے مصر میں ہےں سب اسی نسخے سے نقل ہوئے ہیں جس میں لوگوں نے عقائد اہلسنت وجماعت کے خلاف عبارتیں شیخ پرافتراکرکے ملادی ہیں جیساکہ ان کی فصوص وغیرہ کے ساتھ بھی یہی واقع ہوا۔ الخ
اس کے بعد امام شعرانی نے دو تحریریں نقل فرمائیں جوعالم ممدوح سیدشریف مدنی مرحوم نے نسخہ مذکورہ قونیہ پر خود حضرت شیخ ودیگر عمائد رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے دستخطوں سے لکھی دیکھیں اور بیان کیاکہ یہ نسخہ خود حضرت شیخ اکبر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کاوقف فرمایاہواہے شیخ نے اپنی علامت وقف یوں تحریرفرمائی ہے :
وقف محمد بن علی بن عربی الطائی ھذاالکتاب علی جمیع المسلمین[4]۔
یہ کتاب محمد بن علی بن عربی طائی نے تمام مسلمانوں پر وقف کی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع