30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یم صلٰوۃالاصرار “ رکھتے ہوئے کہاکہ اﷲتعالٰی اس کو ذخیرہ اور ذریعہ اپنے دربار میں بنائے جس دن زمین اپنے رب کے نور سے چمك جائے۔ اور خوب روشن ہوجائے ، آمین ، الحمدﷲرب العالمین ، اے اﷲ حق وصواب کی رہنمائی فرما۔ (ت)
فی الواقع یہ مبارك نماز حضرات عالیہ مشائخ کرام قدست اسرارہم العزیزہ کی معمولی اور قضائے حاجات وحصول مرادات کے لئے عمدہ طریق مرضی و مقبول اور حضور پرنور غوث الکونین غیاث الثقلین صلوات اﷲ وسلامہ علٰی جدہ الکریم وعلیہ سے مروی ومنقول ، اجلہ علماء واکابر برکملا اپنی تصانیف علیہ میں اسے روایت کرتے اور مقبول ومقرر ومسلم معتبررکھتے آئے ، امام اجل ہمام ابجل سیدی ابوالحسن نورالدین علی بن جریر لخمی شطنوفی قدس اﷲ سرہ العزیز بسند خود ۱بہجۃ الاسرار شریف میں اور شیخ شیوخ علماء الہند شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی نوراﷲ مرقدہ ۲زبدۃ الآثار لطیف میں اور دیگرعلمائے کرام وکملائے عظام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی اپنے اپنے اسفار منیف میں اس جناب ملائك رکاب ، علیہ رضوان العزیز الوہاب ، سے راوی وناقل کہ ارشاد فرمایا :
من صلی رکعتین (زید فی روایۃ) بعد المغرب (وزادا) یقرأ فی کل رکعۃ بعد الفاتحۃ سورۃ الاخلاص احدی عشرۃ مرۃ ثم اتفقوا فی المعنی واللفظ للامام ابی الحسن
جوبعد مغرب دورکعت نمازپڑھے ہررکعت میں بعد فاتحہ سورہ اخلاص یازدہ بارپھر بعد سلام ، نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پرصلٰوۃ وسلام عرض کرے پھر عراق شریف کی طرف گیارہ قدم چلے اور میرانام یاد اور اپنی حاجت
قال ثم یصلی علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد السلام ویسلم علیہ ویذکرنی ثم یخطوا الٰی جہۃ العراق احدی عشرۃ خطوۃ ویذکر اسمی ویذکر حاجتہ فانھا تقضی (زاد الشیخ) بفضل اﷲ وکرمہ (وقال اٰخر) قضی اﷲ تعالٰی حاجتہ[1]۔
ذکرکرے اﷲ تعالٰی کے فضل وکرم سے اس کی مرادپوری ہو ، اس عبارت میں “ مغرب کے بعد “ ایك روایت میں زائد ہے اور صاحب بہجۃ الاسرار اور صاحب زبدۃ الآثار نے “ ہررکعت میں فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص گیارہ مرتبہ “ زائد ذکرکیا ، پھر شیخ عبدالحق نے ، بفضل اﷲ وکرمہ ، کوبھی اور دوسرے نے صرف “ قضی اﷲ تعالٰی حاجتہ “ ذکرکیا۔ (ت)
اسی طرح امام جلیل علامہ نبیل امام ۳عبداﷲ یافعی مکی طیب اﷲ ثراہ صاحب خلاصۃ المفاخر فی اختصار مناقب الشیخ عبدالقادر نے روایت کی ، یونہی فاضل کامل مولاناعلی قاری ہروی نزیل مکہ معظمہ صاحب شروع فقہ اکبر ومشکوٰۃ اکرم اﷲ نزلہ ، نے ۴نزہۃ الخاطر میں ذکر فرمایا زبدہ مبارکہ میں اپنے شیخ واستاذ احسن اﷲ مثواہ کا اس نماز کی اجازت دینا اور اپنااجازت لینا بیان کیا اور حضرت شیخ محقق تغمدہ اﷲ برحمۃ سے اس نمازمبارك میں خاص ایك رسالہ نفیس عــــہ۱ عجالہ۵ ہے اس سے ثابت کہ حضرت وَرِع سراپا سعادت حامل شریعت کامل طریقت سیّدی عبدالوہاب متقی مکی برداﷲ مضجعہ نے کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار کو معتمد ومعتبر اور اس مبارك روایت کو مسلم ومقرر فرمایا اور مولٰینا شیخ ۶وجیہ الدین علوی احمدآبادی علیہ رحمۃ الرؤف الہادی کہ سال وفات عــــہ۲ امام اجل علامہ سیوطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ میں متولد ہوئے ، حضرت شیخ غوث گوالیاری علیہ رحمۃ الملك الباری کے مرید سعید اور حضرت شیخ محقق کے استاد مجید اور شاہ ولی اﷲ دہلوی کے شیخ سلسلہ اور صاحب مقامات رفیعہ وتصانیف کثیرہ بدیعہ ہیں ، بیضاوی وہدایہ وتلویح وشرح وقایہ ومطول ومختصر و
عــــہ۱ : نقلھا برمتھا مولٰینا سراج الحق محمد عمر القادری حفظہ اﷲ تعالٰی ابن الفاضل الجلیل مولانا فرید الدین الدھلوی رحمہ اﷲ تعالٰی فی کتابہ ریاض الانوار من شاء فلیرجع الیہا۱۲منہ
عــــہ۲ : یعنی ۹۱۱ ھ ووفاتہ لسلخ صفر۹۹۸ھ ۱۲منہ
یہ تمام مولانا سراج الحق محمد عمرقادری ابن فاضل جلیل مولانا فرید الدین دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی کتاب “ ریاض الانوار “ میں نقل کیاہے جو چاہے اسے دیکھے۱۲(ت)
یعنی ۹۱۱ھ اور ان کی وفات ماہ صفر کے آخر ۹۹۸ھ۔ (ت)
شروح عقائد مواقف وغیرہا پرحواشی مفیدہ رکھتے ہیں اور کبرائے منکرین نے بھی اپنے رسائل میں اُن سے استناد کیا نہایت شدومد سے اس نمازمبارك کی اجازت دیتے اور اس پربتاکید تحریص وترغیب فرماتے ، یونہی شیخ نے ۷اخبار الاخیار شریف اور مولٰینا ابوالمعالی محمدمسلمی عالمہ اﷲ تعالٰی بلطفہ نے جنہیں رسالہ مذکورہ شیخ محقق میں علمائے سلسلہ علیہ سے شمارکیا ۸تحفہ شریفہ ار حضرت سیدنا ومولٰینا اسدالواصلین جبل العلم والیقین حضرت سیدشاہ حمزہ عینی قادری فاطمی حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ۹کاشف الاستار شریف میں اسے نقل وارشاد فرمایا اور امام یافعی بل اﷲ تربتہ (اﷲتعالٰی ان کی قبر کو ٹھنڈا رکھے۔ ت) تصریح فرماتے ہیں کہ حضور پرنورغوث اعظم صلی اﷲتعالٰی علٰی جدہ الاکرم وعلیہ وسلم کے اصحاب کرام عطراﷲ ضرائحھم القادسۃ (اﷲ تعالٰی ان کی قبروں کو معطر فرمائے ۔ ت) اس نماز کو عمل میں لاتے اور زبدۃ الآثارمیں اولیائے طریقہ علیہ عالیہ روحت ارواحھم (ان کی روحیں معطرہوں ۔ ت) کے آداب میں فرمایا : وملازمتہ صلٰوۃ الاسرار التی بعدھا التخطی احدی عشرۃ خطوۃ [2] یعنی اس خاندان پاك کے آداب سے ہے صلٰوۃ الاسرار کی مداومت کرنی جس کے بعد گیارہ رہ قدم چلناہے۔ بااینہمہ اس کااعمال مشائخ کرام سے ہونا نہ ماننا آفتاب روشن کاانکارکرناہے اور خود کون سی راہ ہے کہ ان ائمہ و اکابر کو خواہی نخواہی جھٹلائیے اورعیاذباﷲ بدعتی وناحق کوش ٹھہرائیے ، پھر یہ مقبولان خدا صرف اپنی طرف سے نہیں کہتے بلکہ اسے خاس حضورپرنور غوث اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کاارشاد بتاتے ہیں اور حضور کے ارشاد واجب الانقیاد پر رَدّ وایراد اگرانجانی سے نہ ہو تو معاذاﷲوہ آتش سوزاں وبلائے بے درماں وقہربے امان ہے جس کا مزہ اس دارالغرور والاقتباس میں نہ کلھا توکل کیادورہے۔ “اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُؕ-اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ(۸۱)[3] “ (بیشك ان کا وعدہ صبح کا وقت ہے کیاصبح قریب نہیں ۔ ت)حضورخودارشاد فرماتے ہیں :
تکذیبکم لی سم قاتل لادیانکم وسبب لذھاب دنیاکم واخراکم۔
میرے ارشاد کوخلاف بتانا تمہارے دین کے لئے زہر قاتل اور تمہاری دنیاوعقبٰی دونوں کی بربادی ہے۔ والعیاذباﷲ تعالٰی۔
اور ان اکابران ملت وعلمائے اُمت کونقل وروایت میں بھی غیرموثوق جاننا اسی دارالفتن ہندوستان میں آسان ہے جہاں نہ کسی منہ کو لگام ، نہ کسی زبان کی روك تھام۔ یہ امام ابوالحسن نورالدین علی شطنوفی قدس سرہ ، کہ بہجۃ الاسرار شریف کے مصنف اور برطرز حدیث بسند متصل اس روایت جلیلہ کے پہلے مخرّج ہیں اجلّہ علماء وائمہ وقرأت و اکابراولیاء وسادات طریقت سے ہیں امام اجل شمس الدین ابن الجرزی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کہ اجلہ محدثین وعلمائے قرائت سے ہیں جن کی حصن حصین مشہور ومعروف دیاروامصار ہے اس جناب کے سلسلہ تلامذہ میں ہیں انہوں نے یہ کتاب بہجۃ الاسرارشریف اپنے شیخ سے پڑھی اور اس کی سند واجازت حاصل کی اپنے رسالہ ۱۰طبقات القرأ میں فرماتے ہیں :
انی قرأت ھذالکتاب اعنی بھجۃ الاسرار بمصر وکان فی خزانۃ سلطان المصر ، علی الشیخ عبدالقادر وکان من اجلۃ مشایخ مصر ، فاجازنی روایتہ [4] الخ
یعنی میں نے یہ کتاب بہجۃ الاسرارمصر میں خزانہ شاہی سے حاصل کرکے شیخ عبدالقادر سے کہ اکابرمشائخ مصرسے تھے پڑھی اور انہوں نے مجھے اس کی روایت کی اجازت دی الخ۔
امام شمس الدین ذہبی مصنف میزان الاعتدال کہ علم حدیث ونقدرجال میں اُن کی جلالت شان عالم آشکار ، اس جناب کے معاصر تھے اور باآنکہ حضرات صوفیہ کرام کے ساتھ اُن کی روش معلوم ہے سامحنا اﷲ تعالٰی وایاہ (ہم پر اور ان پر اﷲ$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع