30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام جماعت تراویح میں مشغول ہے اب چندآدمی آئے وہ فرض جماعت سے پڑھیں توکوئی حرج ہے یانہیں ؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب :
صحیح یہ ہے کہ کوئی حرج نہیں :
ولوفی مسجد محلۃ حیث لم یکرر والاذان وعدلوا عن المحراب کماھو معلوم جمشاھد۔
اگرچہ محلہ کی مسجدہی میں جبکہ دوبارہ اذان نہ دیں اور محراب سے ہٹ کر جماعت کرائیں جیسا کہ معلوم و معروف ہے۔ (ت)
طحطاویہ میں ہے :
اذا کررت بغیراذان فلاکرھۃ مطلقا وعلیہ المسلمون [1]۔
جب تو جماعت کاتکرار اذان کے بغیرکرے توکوئی کراہت نہیں ہے ، مسلمانوں کایہی عمل ہے۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
عن ابی یوسف اذا لم یکن علی الھیئۃ الاولی لایکرہ والایکرہ وھوالصحیح وبالعدول عن المحراب تختلف الھیئاۃ کذا فی فتاوی البزازیۃ[2]۔
امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے مروی ہے کہ جب دوسری جماعت پہلی جماعت کی طرز پرنہ ہو تومکروہ نہیں ورنہ مکروہ ہے ، یہی صحیح ہے ، اور محراب سے ہٹ کر کرنے سے پہلی جماعت کی طرز بدل جاتی ہے۔ فتاوٰی بزازیہ میں ایسے ہی ہے(ت)
مگرجہاں تك ممکن ہو جماعت تراویح سے دورجماعت کریں اور ان کاامام ضرورت سے زیادہ آواز بلند نہ کرے تاکہ تخلیط وتلبیس سے ایمن رہیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
_______________
انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ
(صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں)
(نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
مسئلہ ۱۱۱۳ : از دہلی کھڑکی فراش خانہ مسجد حضرت حافظ عبدالعزیز صاحب قدس سرہ ، مرسلہ جناب مستطاب مولانا مولوی حافظ شاہ سراج الحق محمدعمرصاحب قادری اواخرربیع الاول شریف ۱۳۰۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صلٰوۃ الاسرار یعنی نمازغوثیہ حضورغوث اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی اور شرع میں جائز ہے یانہیں ؟ زید اس کی روایت کو بے اصل اوراسے بہجۃ الاسرار میں کسی فاسق بدعتی کاالحاق بتاتا اور تصانیف شیخ اکبر و امام شعرانی کی نظیردیتاہے کہ ان میں الحاق ہوئے۔ اور کہتاہے کہ نمازفرض کے بعد قبلے سے انحراف اور کسی مزاروولی کی تعیین سمت او بہیأت نماز یا تعظیم اس طرف چلنا تذلل وخشوع تمام کرناہرگزدرست نہیں اور کہتاہے کہ آنجناب یعنی حضورغوث اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کوکتاب وسنت وسیرتِ صحابہ کے اتباع اور احکام شرع پرقیام او محدثات سے اجتناب تام اور طاعات میں اخلاص اور ہرحال میں خداپرتوکل واعتماد میں استقامت کاملہ تھی وہ ان امور کے خلاف کیونکرفرماتے کہ بعد نماز مغرب عراق کی طرف بتعظیم تمام لو اوع دل سے متوجہ ہوکر میرانام لے کرحاجت چاہو ، یہ فعل کتاب وسنت وطریقہ خلفائے راشدین کے خلاف ہے اور سیرت وعمل صحابہ کے موافق نہیں اور تابعین وتبع تابعین ودیگراسلاف کرام وائمہ عظام سے اس کامثل منقول نہیں ، عوام کہ اسے عمل مشائخ کہتے ہیں قابل التفات نہیں مشائخ میں جواہل علم فقہاء و ائمہ ہوئے کسی نے اس کے مثل تصریح نہ کی اور قول وفعل بعض غیرموثوق پرعمل نہ چاہئے بلکہ سواداعظم کااتباع چاہئے ، صحابہ محبت وتعظیم آنحضرت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میں ہم سب سے زیادہ اور ثواب وحسنات پربہت حریص تھے اگریہ عمل موجب ثواب وقربت الی اﷲ ہوتا تو سلف کرام بلکہ خود حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی علیہ الرحمۃ مدینہ منورہ کی طرف کرتے ، آیا یہ کلام اس کاغلط ہے یاصحیح؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب :
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
الحمدﷲ علی حسن بلائہ ، ملأ ارضہ وملأ سمائہ ، و الشکر للمصطفٰی علی نعمائہ ، شکرا یوافی حسن الائہ ، ویکافئ عنامزید عطائہ ، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلی ابنائہ ، وازواجہ واصحابہ واحبائہ و وارث علمہ ومجدہ و سنائہ ووارث علمہ ومجدہ وسنائہ ، غوثنا الاعظم رافع لوائہ ، ومشایخنا الکرام وسائر اولیائہ ، صلٰوۃ تکشف لنا الاسرار ، ونصرف عنا اذی الاشرار ، وتکون عدۃ لیوم لقائہ ، واشھد ان لاالٰہ الا اﷲ وحدہ لاشریك لہ شھادۃ موجبۃ لرضائہ ، واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ الصادع بالحق بعد خفائہ ، صلی اﷲ تعالٰی وسلم علیہ ، وعلی کل عبد مرضی لدیہ ، صلٰوۃ تأتی علی قدر کبریائہ ، وسلام بدوامہ و
سب تعریفیں اﷲتعالٰی کے لئے ہیں اس کے اچھے امتحان پر ، زمین وآسمان کوعجائبات سے بھرنے اور اپنی قدرت وقضاء میں جسے چاہے بھرنے پراور شکر مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے لئے ان کے انعامات پر ، ایسا شکر جوان کی بہترین نعمتوں کوپوراہو ار ان کی مزید عطاؤں کوہماری طرف سے کفایت کرے ، اﷲ تعالٰی ان پر اوران کے صاحبزادوں اور ازواج اور اصحاب اور آپ کے علم ، بزرگی اور بلندی کے وارث ہمارے غوث اعظم پر جو آپ کے جھنڈے کو بلندکرنے والے ہیں اور تمام اولیاء پر ، رحمت نازل فرمائے ، ایسی رحمت جوہمارے لئے اسرار کوکھول دے اور شریرلوگوں کی اذیت کوہم سے پھیردے ، اور اﷲ تعالٰی کے ہاں حاضری کی اذیت کو ہم سے پھیردے ، اور اﷲ تعالٰی کے ہاں حاضری کے دن کے لئے ذخیرہ بنے ، اور میں گواہی دیتاہوں کہ اﷲ تعالٰی وحدہ ، لاشریك ہے ایسی گواہی جواس کی رضا کی موجب ہو ، اور گواہی دیتاہوں کہ محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اس کے بندے اوررسول ہیں جوحق کوخفا سے ظاہرکرنے والے ہیں صلی اﷲ تعالٰی وسلم آپ پر اور اس کے دربارمیں تمام پسندیدہ بندوں پر ، وہ صلٰوۃ جو اس کی کبریائی کے شایان شان ہو اور وہ سلام جو اس کی بقاء اور
بقائہ ، اٰمین اٰمین ، الٰہ الحق امین یاراحم العبد وسامع دعائہ ، قال العبید الذلیل ، للمولی الجلیل ، ابومحمد النسی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی ، لطف بہ اﷲ فی شدتہ ورخائہ ، مستعینا باﷲ فی دفع الارتیاب ، ورفع الحجاب ، عن وجھہ الصواب ، مسمیا للجواب ، بعلم یُعلم عام املائہ ، “ انھار الانوار من یم صلٰوۃ الاسرار “ (۱۳۰۵ھ) ، جعلھا اﷲ ذخیرۃ لدیہ ، و ذریعۃ الیہ ، یوم تشرق الارض بنورربھا و جمیل ضیائہ ، اٰمین ، والحمدﷲ رب العٰلمین ، اللھم ھدایۃ الحق و الصواب۔
دوام تك دائم ہو ، آمین آمین اے الٰہ برحق آمین ، بندے پررحم کرنے اور اس کی دعاکوسننے والے ، اپنے جلیل القدر آقا کے سامنے حقیر اور ناتواں بندہ ابومحمد عبدالمصطفی احمدرضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی(اﷲتعالٰی اس کی شدت وسہولت میں لطف و مہربانی فرمائے) نے اﷲتعالٰی سے امداد چاہتے ہوئے اور حق وصواب کے چہرے سے پردہ اٹھاتے اور شك کو دورکرتے ہوئے جواب کاایسا نام جو اس کی تحریر کے سال کوظاہرکرے “ انہار الانوار من
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع