30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کوصحیح قراردیاہے۔ میں کہتاہوں کہ حلبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اصحاب تصحیح میں سے نہیں ، ان کاکام صرف ائمہ ترجیح کے قول کونقل کرنا ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ ان کی شرح صغیریہ ا ن کی کبیرشرح کاخلاصہ ہے اور کبیر شرح کی عبارت آپ کے سامنے ہے اس میں اس وہم کے متعلق کوئی تصحیح نظرنہیں آتی ، اس مسئلہ میں صرف دو تصحیحیں موجود ہیں ایك امام فقیہ ابواللیث کی جوکہ کسی طرح بھی تراویح پڑھ لینے والے کو خواہ اکیلے یاجماعت کے ساتھ اس امام یاکسی دوسرے امام کے ساتھ ، پھر یہ کہ تمام تراویح یابعض باجماعت پڑھی ہوں ، وتر کی جماعت میں شرکت کے جواز کے بارے میں ہے اور اس کو بطوراجمال حلبی نے اپنے اس قول سے تعبیرکیاکہ ، س وترکی جماعت میں شرکت کی ان تمام صورتوں میں جائزہے۔ اس بارے میں دوسری تصحیح امام ظہیرالدین مرغینانی کی ہے جوکہ امام کے ساتھ تراویح کی جماعت میں شرکت کے جوازسے
وعلہ یتفرع الفرع المذکور فی الشرحین معا “ حتی لودخل بعد ماصلی الامام الفرض “ فالتوھم الحاصل فی عبارۃ الشرح الصغیر انما منشوہ ماوقع فیہ ھھنا من الاختصار المخل الاترٰی انہ اقتصر فی التفریع المذکور کاصلہ الکبیر علی قولہ ، یتابعہ فی التراویح ، ولوکان مرادہ بقولہ فی ذلك کلہ ، مایشمل المتوھم ، لزاد ایضا والوتر ، وبالجملۃ فالمعروف المعلوم من تصحیحات الائمۃ ھو الذی بینہ فی الشرح الکبیر ، وھذا المتوھم لایعرف لہ تصحیح ولاترجیح ، فلایعارض مانص علیہ فی منیۃ الفقہاء وحکم بہ حکما جازما من دون ذکر خلاف فعلیك بالتبصر والانصاف ولك ان تقول ان “ الامام “ معرف باللام وضمیر “ یتبعہ “ راجع الیہ والمعرفۃ اذا اعیدت معرفۃ کان المراد عین الاول غالبا ، فالمعنی اذا لم یصل الفرض مع ھذالامام فلہ ان یتبعہ فی الوتر ای لایجب لاتباعہ فی الوتر ان یکون اتبع ھذا الامام بعینہ فی الفرض ،
متعلق ہے اس شخص کے بارے میں جس نے اس امام کے ساتھ فرض نہ پڑھے ہوں ، اسی تصحیح پر صغیر و کبیر شرحوں کی تفریع مرتب ہے کہ کوئی شخص امام کے فرض سے فارغ ہونے کے بعد مسجد میں آیا الخ لہٰذا شرح صغیر کی عبارت سے جووہم پیداہواوہ اس اختصار کی وجہ سے پیداہوا ، کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ انہوں نے تفریع بیان کرتے ہوئے صرف اتناکہا کہ وہ فرض پڑھنے کے بعد امام کے ساتھ تراویح میں شامل ہوجائے ، اور شرح کبیر میں بھی اتناہی ذکر ہے ، اور اس کے قول “ ان سب صورتوں میں “ وہ صورت بھی شامل ہوتی جس کاوہم ہواہے تو پھرتفریع میں ، تراویح میں شامل ہونے کے ساتھ وتر میں شامل ہونے کوبھی ذکرکرتے ، الحاصل ائمہ کرام کی تصحیحات سے صرف وہی بات معلوم ہوتی ہے جوکہ شرح کبیر میں ہے حالانکہ وہم شدہ کی اس میں کوئی تصحیح یاترجیح نظرنہیں آتی۔ لہٰذا شرح کبیرکی عبارت منیۃ الفقہاء کی تصریح عبارت کے معارض نہیں ہوسکتی جبکہ اس منیہ میں جزمی حکم ہے اور اس میں کسی اختلاف کااس بارے میں کوئی ذکرنہیں ہے ، تجھے غور وفکر میں انصاف چاہئے ، اور تویہ بھی کہہ سکتاہے کہ شرح صغیر کی عبارت میں لفظ 'الامام' معروف بالام ہے اور لفظ یتبعہ ، میں ضمیر کامرجع وہی امام ہے ، اور اکثرطورپر معرفہ کوجب دوبارہ معرفہ ذکرکیاجائے تووہی ایك مراد ہوتاہے ، تو اس قاعدہ کے مطابق معنی یہ ہوگا کہ جب اس خاص امام کے ساتھ وتر باجماعت پڑھ سکتاہے یعنی کسی امام کے
وھذا صحیح لاشك ویؤید ھذا الفھم ان القھستانی لما قال اذا لم یصل الفرض معہ لایتبعہ فی الوتر[1] احتاج الشامی الی ابانۃ مرادہ وان المقصود مع امام ما ، لامع خصوص ھذا الامام ، ان جادل مجادل فنقول الشرح الصغیر مطالب بتصحیح نقل ھذا التصحیح الذی لایعلم لہ اثراصلا فی کتاب قبلہ حتی فی الکبیر الذی کان اصلہ ، واﷲ الموفق۔
فقد تحرربما تقرر ، ان جماعۃ الوتر تبع لجماعۃ الفرض فی حق ك احد من المصلین ، والجماعۃ التراویح فی الجملۃ لافی حق کل ، ولرمضان بمعنی انھا تکرہ فی غیرہ لوعلی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد[2] کمافی الدرعن الدرر
ساتھ وترپڑھنے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ فرض بھی اسی کے ساتھ باجماعت پڑھے ہوں ، اور یہ مفہوم بلاشك وشبہ صحیح ہے ، اس مفہوم کی تائید قہستانی کے اس قول سے ہوتی ہے جس کی مراد کو علامہ شامی نے واضح کیاہے ، وہ یہ کہ جب قہستانی نے کہا جب امام کے ساتھ فرض نہ پڑھے ہوں تو وتر اس کے ساتھ نہ پڑھے اس پر علامہ شامی نے مراد کوواضح کرتے ہوئے کہاکہ اس امام سے مراد کوئی امام ہے یعنی اگر کسی بھی امام کے ساتھ فرض نہ پڑھے تو پھروتر بھی جماعت سے نہ پڑھے ، اگر کوئی اس وہم پربحث کااصرار کرتاہے تو اس کویہ کہہ دیا جائے کہ صغیر کااصل ہے ، واﷲ الموفق ،
پس اس تقریر سے یہ بات صاف ہوگئی کہ وتر کی جماعت فرض کی جماعت کے تابع ہے تمام نمازیوں کے لئے اور وتر کی جماعت ، تراویح کی جماعت کے تابع ہے کچھ نمازیوں کے لئے (یعنی بعض حضرات نے بھی تراویح باجماعت پڑھ لیں تو دوسروں کوتر کی جماعت میں شرکت جائزہے) اور وتر کی جماعت رمضان کے بھی تابع ہے لیکن اس معنی میں کہ غیررمضان میں یہ جماعت مکروہ ہے ، جب یہ غیررمضان میں وترکی جماعت میں یہ جماعت کروہ ہے ، جب یہ غیررمضان میں وتر کی جماعت بطوردعوت و اہتمام ہو یعنی چار افراد ایك امام کی اقتداء کریں تو مکروہ ہے
حتی جاز اقتداء ثلثۃ بامام بلاکراھۃ فی الاصح [3] کما فی حاشیۃ العلامۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح للعلامۃ الشرنبلالی رحمۃ اﷲ تعالٰی علی العلماء جمیعا ، اتقن ھذا فلعلك لاتجد ھذا التحریر فی غیرھذا التقریر وماتوفیقی الابالعلیم الخبیر واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم۔
جیسا کہ درمختارمیں درر سے منقول ہے ، حتی کہ اگرتین آدمی وتر کی جماعت میں ایك امام کی اقتداء کریں تو یہ اصح قول کے مطابق بلاکراہت جائزہے ، جیسا کہ علامہ طحطاوی نے مراقی الفلاح شرح نورالایضاح کے حاشیہ میں ذکرکیاہے۔ نورالایضاح علامہ شرنبلالی کی کتاب ہے۔ اﷲتعالٰی تمام علماء پررحمت فرمائے۔ ا س تحریر کومضبوط کر ، ہوسکتاہے کہ تجھے دوسری جگہ یہ مفصل بحث نہ ملے وماتوفیقی الاباﷲ العلیم الخبیر واﷲ تعالٰی سبحٰنہ اعلم وعلمہ جل مجدہ ، اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ ۱۱۱۱ : دورکعت تراویح کی نیت کی قعدئہ اولٰی بھول گیاتین پڑھ کربیٹھا اور سجدہ کیاتو نماز ہوئی یانہیں اور ان رکعتوں میں جوقرآن شریف پڑھا اس کااعادہ ہویانہیں اور چارپڑھ لیں تو یہ چاروں تراویح ہوئیں یانہیں ؟ بیّنوا توجروا۔
الجواب :
صورت اولٰی میں مذہب اصح پرنماز نہ ہوئی اور قرآن عظیم جس قدر اس میں پڑھاگیا اعادہ کیاجائے ،
فی ردالمحتار لوتطوع بثلاث بقعدۃ واحدہ کان ینبغی الجواز اعتبارا بصلٰوۃ المغرب ، لکن الاصح عدمہ لانہ قدفسدما اتصلت بہ القعدۃ وھو الرکعۃ الاخیرۃ ، لان التنفل بالرکعۃ الواحدۃ غیرمشروع فیفسد ماقبلھا [4] ۔
ردالمحتار میں ہے کہ اگر کسی نے تین نفل ایك قعدہ کے ساتھ پڑھے مغرب کی نماز پرقیاس کرتے ہوئے جائز ہونا چاہئے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ نفل جائزنہیں کیونکہ اس کی آخری رکعت جس کے بعد قعدہ کیاہے وہ فاسد ہے کیونکہ وہ دو پر زائد ایك رکعت نفل رہ گئی جبکہ ایك رکعت نفل جائزنہیں لہٰذا اس آخری رکعت کے فساد سے پہلی دورکعت بھی فاسد ہوجائیں گی۔ (ت)
اور چارپڑھ لیں اور قعدئہ اولٰی نہ کیا تو مذہب مفتی بہ پر یہ چاروں دوہی رکعت کے قائمقام گنی جائیں گی باقی اور پڑھ لے کما صرح بہ فی ردالمحتار عن النھر الفائق الزاھدی (جیسا کہ ردالمحتارمیں نہرالفائق اس نے زاہدی سے وضاحت کردی گئی ہے۔ ت) اور دونوں قعدے کے توقطعاً چاروں رکعتیں ہوگئیں ۔
ولاکراھۃ ایضا کما یفیدہ التعلیل المذکور فی ردالمحتار نعم الافضل مثنی مثنی کما لایخفی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
چاررکعت نفل دو قعدوں اور ایك سلام سے جائز ہیں اور کوئی کراہت نہیں ہے جیسا کہ ردالمحتار کی بیان کردہ علت سے حاصل ہے تاہم نفل دودو پڑھنا افضل ہے جیسا کہ واضح ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۱۱۲ : از جوالاپور ضلع سہارن پور مرسلہ سیدیادعلی صاحب ۱۹ شوال ۱۳۰۷ھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع