30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
برتقدیر سنیت بھی تمام سنن حتی کہ سنت فجر سے بھی اہم وآکد واعظم ہے ولہٰذا اگرامام کونمازفجر میں پائے اور سمجھے کہ سنتیں پڑھے گا توتشہد بھی نہ ملے گا توبالاجماع سنتیں ترك کرکے جماعت میں مل جائے والمسئلۃ منصوص علیھا فی کتب المذھب کافۃ (اس مسئلہ پرتمام کتب مذہب میں نص موجود ہے۔ ت)طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں زیرقول مصنف الجماعۃ سنۃ فی الاصح (اصح قول کے مطابق جماعت سنت ہے۔ ت)فرمایا
وفی البدائع عامۃ المشائخ علی الوجوب و بہ جزم فی التحفۃ وغیرھا وفی جامع الفقہ اعدل الاقوال واقواھا الوجوب (الی ان قال) وعلی القول بانھا سنۃ ھی اکدمن سنۃ الفجر[1]۔
بدائع میں ہے کہ عامہ مشائخ کے نزدیك جماعت واجب ہے۔ اسی پرتحفہ وغیرہا میں جزم ہے اورجامع الفقہ میں ہے سب سے معتدل اور مضبوط قول وجوب کا ہے (آگے چل کرکہا) جن کے قول پر جماعت سنت ہے ان کے نزدیك یہ سنت فجر سے زیادہ مؤکد ہے۔ (ت)
ردالمحتار باب النوافل میں ہے :
لیس لہ ترك صلاۃ الجماعۃ لانھا من الشعائر فھی اکدمن سنۃ الفجر ولذا یترکھا لوخاف فوت الجماعۃ[2]۔
عالم دین کے لئے باجماعت نماز کا ترك جائز نہیں کیونکہ یہ شعائر اسلام میں سے ہے اور اس میں فجر کی سنتوں سے زیادہ تاکید ہے یہی وجہ ہے کہ جماعت کے نہ ملنے کاخوف ہو تو سنن فجر کو ترك کیاجاسکتاہے(ت)
اور سنت فجر بالاتفاق بقیہ تمام سنن سے افضل ، ولہٰذا بصورت فوت مع الفریضہ بعد وقت قبل زوال ان کی قضا کاحکم ہے بخلاف سائر سنن کہ وقت کے بعد کسی کی قضا نہیں ، ولہٰذا بلاعذر مبیح سنت فجر کوبیٹھ کرپڑھنا ناجائز بخلاف دیگرسنن کہ بے عذر بھی روا اگرچہ ثواب آدھا ، ولہٰذا صاحبین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کہ قائل سنیت وترہوئے سنت فجر کو اس سے آکد ماننے کی طرف گئے ، درمختار میں ہے :
السنن اٰکدھا سنۃ الفجر اتفاقا و قیل بوجوبھا فلاتجوزصلاتھا
وہ سنن جن پر سب سے زیادہ تاکید ہے وہ بالاتفاق فجر کی سنتیں ہیں ، بعض نے انہیں واجب
قاعدا بلاعذر علی الاصح ولایجوزترکہا لعالم صارمرجعا فی الفتاوی بخلاف باقی السنن وتقضی اذا فاتت معہ بخلاف الباقی[3] ١ھ ملخصا
قراردیاہے لہٰذا اصح قول کے مطابق بغیرعذر کے ان کو بیٹھ کر اداکرنا جائز نہ ہوگا اور اس عالم کے لئے بھی ان کا ترك جائز نہیں جو فتوٰی جات کے لئے مرجع بن چکاہو ، یعنی فتوی نویسی سے فراغت نہ ملتی ہو بخلاف باقی سنن کے ، یعنی باقی سنن کو لوگوں کی حاجت فتوٰی کے پیش نظرچھوڑسکتاہے اور یہ سنن فرائض کے ساتھ اگر فوت ہوجائیں تو ان کی قضا ہے جبکہ باقی سنن کی قضانہیں ۱ھ تلخیصًا(ت)بحرالرائق میں ہے :
سنۃ الفجر اقوی السنن باتفاق الروایات لما فی الصحیحین عن عائشۃ رضی الله تعالٰی عنہا قالت لم یکن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم علی شیئ من النوافل اشد تعاھدا منہ علی رکعتی الفجر[4] ۔
فجر کی سنتیں بالاتفاق باقی تمام سنن سے اقوٰی ہیں جیسا کہ بخاری ومسلم میں سیدہ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی حدیث سے ثابت ہے کہ رسالت مآب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نوافل میں سب سے زیادہ حفاظت فجر کی سنتوں کی فرماتے تھے(ت)
اسی میں خلاصہ سے ہے :
اجمعوا علی ان رکعتی الفجر قاعدًا من غیر عذر لا تجوز کذا روی الحسن عن ابی حنیفۃ[5]
تمام فقہا کااتفاق ہے کہ بغیر عذر کے فجر کی سنتیں بیٹھ کر اداکرنا جائز نہیں جیسا کہ حسن نے امام ابوحنیفہ سے روایت کیاہے(ت)
اسی میں قنیہ سے ہے :
اذا لم یسع وقت الفجر الا الوتر والفجر ، اوالسنۃ والفجر فانہ یوترویترك السنۃ عند ابی حنیفۃ وعندھما السنۃ اولی من الوتر[6] ۔
جب وقت فجر میں ، وتروفجر یاسنن وفجر کی ادائیگی کے سواگنجائش نہ رہے تو امام ابوحنیفہ کے نزدیك وترادا کرلئے جائیں اورسنتیں ترك کردی جائیں اور صاحبین کے ہاں سنتوں کی ادائیگی وتر کی ادائیگی سے افضل ہے۔ (ت)
پھر مذہب اصح پرسنت قبلیہ ظہربقیہ سنن سے آکد ہیں
صححہ المحسن واستحسنہ المحقق فی الفتح فقال وقد احسن لان نقل المواظبۃ الصریحۃ علیھا اقوی من نقل المواظبۃ الصریحۃ علیھا اقوی من نقل مواظبتہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم علی غیرھا من غیررکعتی الفجر[7] ١ھ وکذا صححہ فی الدرایۃ والعنایۃ والنھایۃ وکذا ذکر تصحیحہ العلامۃ نوح کما فی الطحطاوی علی مراقی الفلاح وکذا صححہ فی البحرعن القنیۃ وعلله بورود الوعید وتبعہ فی الدر ۔
محسن نے اس کو صحیح اور محقق نے فتح میں اس کو مستحسن قراردیا اور کہا انہوں نے اچھا کیا کیونکہ فجر کی سنتوں کے علاوہ سنن ظہر نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی جو مواظبت منقولہ سے زیادہ اقوی ہے۱ھ اور اسی طرح اسے درایہ ، عنایہ اور نہایہ میں صحیح کہا اور اسی طرح علامہ نوح نے اس کی تصحیح ذکر کی جیسا کہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں مذکور ہے۔ بحر میں قنیہ کے حوالے سے صحیح کہا اور اس کی علت یہ بیان کی کہ ان کے ترك پروعید وارد ہے اور اس کی اتباع درمختار نے کی ہے۔ (ت)
اور امام شمس الائمہ حلوانی کے نزدیك سنت فجر کے بعد افضل وآکد رکعتیں مغرب ہیں پھر رکعتیں ظہر پھر رکعتیں عشا پھر قبلیہ ظہر کما فی الفتح وغیرہ۔
قلت وعلیہ مشی فی الھندیۃ عن تبیین الحقائق الامام الزیلعی فقال اقوی السنن رکعتا الفجر ثم سنۃ المغرب ثم التی بعد الظھر ثم التی بعد العشاء ثم التی قبل الظھر[8] (ملخصا)۔
قلت (میں کہتاہوں ) ہندیہ میں امام زیلعی کی تبیین الحقائق کے حوالے سے یہی بات بیان کرتے ہوئے کہا سب سے قوی اور مؤکد فجر کی سنتیں پھر سنت مغرب پھر بعدیہ ظہر پھر بعدیہ عشاء پھر قبلیہ ظہر(ملخصًا) (ت)
پھر شك نہیں کہ ہمارے ائمہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے نزدیك سب سنن رواتب تہجد سے اہم وآکد ہیں ۔
اقول : وکیف لاوقدثبت استنانھا موکدا من دون تردد بخلاف التھجد فان
اقول : (میں کہتاہوں ) یہ کیسے نہ ہو حالانکہ ان سنن ورواتب کا مؤکد ہونا بغیر کسی تردّد کے ثابت ہے
جمہور العلماء یعدونہ من المندوبات حتی جاء المحقق ابن الھمام فبحث بحثا ولم یقطع قولا فتردد فی ندبہ واستنانہ مع التنصیص بان الادلۃ القولیۃ انما تفید الندب ، ثم بحث تلمیذہ المحقق ابن امیرالحاج اشبھیۃ سنیتہ علی مافیہ من نزاع طویل ولولا غرابۃ المقام و مخافۃ الطویل لاتینابمافیہ من قال وقیل۔
[1] حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الامامۃ مطبوعہ نورمحمد کتب خانہ کراچی ص۱۵۶
[2] ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۹۹
[3] درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۵
[4] بحرالرائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۷
[5] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع