دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

اکیلے پڑھے ہوں یاصرف تراویح اکیلے پڑھی ہوں کیا وہ وترامام کے ساتھ پڑھ سکتاہے؟ توانہوں نے جواب میں کہا کہ نہیں پڑھ سکتا۱ھ۔ پھر میں نے قہستانی کومصنف کی تصحیح ذکرکرتے ہوئے پایا ، یعنی جس نے تراویح اکیلے اور فرض جماعت سے پڑھے ہوں تو اس کو وتر جماعت سے پڑھنے کی اجازت ہے۔ علامہ شامی نے فرمایا کہ

ثم قال (یعنی القھستانی) لکنہ اذا لم یصلی الفرض معہ لایتبعہ فی الوتر[1]  ۱ھ۔ قلت وعزاہ القھستانی للمنیۃ وھی منیۃ الفقہاء لامنیۃ المصلی کماظنہ بعج المتصدین للفتوی فی عصرنا فنسبہ الی عدم مطابقۃ النقل للمنقول عنہ قال الشامی فقولہ (یعنی المصنف) ولولم یصلھا ای وقد صلی الفرض معہ لکن ینبغی ان یکون قول القہستانی معہ احتراز عن صلٰوتھا منفردا[2]   قلت فیکون علی وزان قول الغنیۃ المار ،  اذا لم یدرك معہ شیئا منھا ،  فانما اراد بہ الانفراد لامایشمل الادراك مع غیرہ ،  بدلیل قولہ عطفا علیہ “ وکذا اذا صلی التراویح مع غیرہ “ قال الشامی امالوصلاھا (یعنی الفریضۃ) جماعۃ مع غیرہ ثم صلی الوتر معہ لاکراھۃ تأمل[3]  انتھی۔  اقول :   معلوم ان الضمیر فی قولہ لایتبعہ للامام مطلقا لالخصوص

قہستانی  نے  پھرفرمایا : لیکن اگرفرض اس نے جماعت سے نہ پڑھے ہوں تووتربھی باجماعت نہ پڑھے۱ھ۔ میں کہتاہوں کہ اس بات کو قہستانی نے منیہ کی طرف منسوب کیاہے یادرہے کہ یہ منیۃ الفقہاء مراد ہے منیۃ المصلی نہیں جیسا کہ بعض معاصرفتوٰی نویسوں کویہاں غلط فہمی ہوئی ہے اورانہوں نے نقل کو اصل کے مطابق نہ ہونے کی شکایت کی ہے علامہ شامی نے فرمایا کہ مصنف کاقول کہ اگر اس نے تراویھ امام کے ساتھ نہ پڑھی ہوں یعنی فرض امام کے ساتھ پڑھے ہوں ، لیکن مناسب یہ ہے کہ قہستانی کا “ معہ “ کہنا ، یہ تراویح اکیلے پڑھنے کی صورت کوجداکرناہے۔ میں کہتاہوں یہ غنیہ کے گزشتہ قول “ جب امام کے ساتھ کچھ تراویح نہ پڑھے “ کے انداز پر ہے کہ اس سے مراد اکیلے پڑھنا ہے نہ کہ وہ معنی جس میں کسی دوسرے امام کے ساتھ پڑھنا شامل ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے دوسرے امام کے ساتھ پڑھنے کو علیحدہ عطف کے ذکرکیاہے۔ اور علامہ شامی نے فرمایا : اور اگر اس نے فرض کسی اور امام کے ساتھ جماعت میں پڑھا ہو اور پھروتر اس امام کے پیچھے پڑھ لے توکوئی کراہت نہیں ، غورکر ، انتہی۔ میں کہتاہوں یہ بات واضح ہے کہ “ لایتبعہ “ میں ضمیر کامرجع خاص امام نہیں

ھذا الامام فان من صلی الفریضۃ منفردا لیس لہ ان یدخل فی جماعۃ الوتر لامع ھذا الامام ولامع غیرہ فکذلك فی قولہ معہ وبالجملۃ فالمتحصل شیئان احدھما ان المنفرد فی الفرض ینفرد فی الوتر اوماوقع فی “ منھیۃ الدر الفرید فی مسائل الصیام والقیام للعید “ للفاضل المفتی محمد عنایت احمد علیہ رحمۃ الاحد ،  ان لم یصلی الفرض بجماعۃ فلہ ان یدخل فی جماعۃ الوتر وعزاہ لحاشیۃ الطحطاوی فسھو۔  وانا قد راجعت المعزی الیہ فلم اجدہ ناصابما ظن ،  نعم قدتشم من بعض کلماتہ رائحۃ ذلك حیث قال عند قول الدرالمختار لوترکھا الکل (یعنی جماعۃ التراویح) ھل یصلون الوتر بجماعۃ فلیراجع[4]  قضیۃ التعلیل فی المسئلۃ السابقۃ (ای لوترکوا الجماعۃ فی الفرض لم یصلوا التراویح بجماعۃ) بقولھم لانھا تبع ان یصلی الوتر جماعۃ فی ھذہ الصورۃ لانہ لیس بتبع         

بلکہ کوئی بھی ہوسکتاہے ، کیونکہ جس نے فرض اکیلے پڑھے ہوں وہ کسی امام کے ساتھ وترباجماعت نہیں پڑھ سکتا خواہ یہ امام ہو یا کوئی اور ہو ، اور اسی طرح اس کے قول “ معہ “ میں بھی ضمیر کامرجع عام ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ یہاں د وچیزیں حاصل ہوئیں ، ایك یہ کہ جس نے فرض اکیلے پڑھے وہ وتربھی اکیلے پڑھے۔ دررالفرید فی مسائل الصیام والقیام والعیدجوکہ فاضل مفتی محمدعنایت احمد علیہ الرحمۃ کی کتاب ہے ، کے منہیہ میں جومذکورہے کہ اگرکسی نے فرض جماعت سے نہ پڑھے ہوں تو وتر کی جماعت میں شریك ہوسکتاہے ، اور اس بات کو انہوں نے حاشیہ طحطاوی کی طرف منسوب کیاہے ، تو یہ سہوہے۔ حالانکہ میں نے حاشیہ طحطاوی کودیکھا ہے میں نے اس میں یہ بات صراحۃً مذکورنہ پائی ، ہاں علامہ طحطاوی کی ایك عبارت سے اس بات کی بوآتی ہے ، جہاں انہوں نے درمختار کے اس قول “ اگرسب نے جماعت تراویح کو ترك کردیا ہوتو کیا وہ وترجماعت سے اداکرسکتے ہیں ، اس بارے میں رجوع کرناچاہئے “ پرلکھاہے کہ سابقہ مسئلہ کی تعلیل کی طرف رجوع کرنے کااشارہ ہے یعنی وہ سابقہ مسئلہ یہ ہے کہ “ اگر فرض باجماعت کوانہوں نے ترك کیا ہو تو تراویح جماعت سے ادانہ کریں “ اس مسئلہ کی تعلیل یہ ہے ، جس کو انہوں نے یوں بیان کیاہے ، کیونکہ تراویح تابع

للتراویح ولاللعشاء عندالامام رحمہ اﷲ تعالٰی انتھی [5]  حلبی  انتھی  فقد یوھم قولہ “ ولا للعشاء “ جواز الوتر بجماعۃ ولولم یصل ھو بل الکل الفرض بھا لکنہ کما علمت خلاف المنصوص فان الذی فی ردالمحتار عن شرح النقایۃ عن المنیۃ ان لم یحمل علی مامر کان ادخل فی الرد علی ھذا الایھام واما ماذکر انہ لیس بتبع عند الامام فنعم ونعم الجواب عنہ ماافاد المولی المحقق ابن عابدین ان اصالتہ فی ذاتہ لاتنافی کون جماعتہ تبعا۔

قلت الاترٰی ان الظھر و العصر من اعظم الفروض المستقلۃ والجمع بینھما من توابع الوقوف بعرفۃ ولوفی حجۃ نافلۃ فافھم قال الشامی انھم اختلفوا فی افضلیۃ صلاتھا بالجماعۃ بعد التراویح [6] ۱ھ

ہیں ، وہ وتر کو اس صورت میں جماعت کے ساتھ پڑھے کیونکہ وترتراویح کے تابع ہیں اور نہ ہی عشاء کے تابع ہیں امام صاحب   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے نزدیک ، انتہی حلبی انتہی ، اس میں اس کا قول کہ وترعشاء کے تابع نہیں ہے ، وہم پیداکرتاہے کہ اس کے یا سب کے فرض باجماعت پڑھے بغیر وتر کو باجماعت پڑھنا جائز ہے لیکن یہ بات علماء کی نص کے خلاف ہے ردالمحتارمیں شرح نقایہ سے اور اس نے منیہ سے نقل کرتے ہوئے جو ذکرکیاہے اگر اس کوگزشتہ مفہوم پرمحمول نہ کیاجائے تو وہ اس وہم کابہترین رَد ہے اور یہ بیان کہ وترامام صاحب کے نزدیك عشاء کے تابع نہیں ہیں ، ہاں یہ درست ہے۔ اور اس کابہترین جواب وہ ہے جس کو آقا محقق ابن عابدین نے بیان فرمایا ہے کہ وتر فی ذاتہٖ اصل ہیں اور ان کی جماعت کاعشاء کے تابع ہونافی ذاتہٖ اصل ہونے کے منافی نہیں ہے۔ میں کہتاہوں کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ظہراور عصر کے فرض عظیم اصل اور مستقل ہیں لیکن اس کے باوجود ان دونوں فرضوں کومقام عرفات کے تابع قراردے کرجمع پڑھاجاتاہے خواہ نفلی حج ہی کیوں نہ ہو۔ غورکر۔ علامہ شامی نے ماتن کی اس عبارت پرکہ “ وترکوتراویح کے بعد باجماعت پڑھنے کی افضلیت میں اختلاف ہے “ پرفرمایا

ای فکانت جماعتہ ادون حالامن جماعۃ التراویح المسنونۃ عند الجمہور حتی لوترکہا الکل اثموا فکیف بجماعۃ الفرض الواجبۃ علی الصحیح الرجیح فساغ ان یکون تبعا فی الجماعۃ وان کان اصلا فی الذات حتی افسد تذکرہ المکتوبات ۔

قلت علی ان التعلیل بالقضیۃ المذکورۃ تعلیل بالنفی وھو عندنا من التعلیلات الفاسدۃ کما صرحوا باہ فی الاصول و حصرالعلۃ فی التبعیۃ ممنوع محتاج الی البیان ھذا والاخر ان من صلی الفرض بجماعۃ یجوز لہ الدخول فی جماعۃ الوتر سواء صلی الفرض خلف ھذاالامام اوخلف غیرہ کما قررالشامی وسواء صلی التراویح وحدہ او خلف ھذا الامام اوغیرہ کما نصوا علیہ قلت بل ومن لم یصلہا رأسا کما یشملہ اطلاق قولہ ولولم یصلہا بالامام لہ ان یصلی الوتر معہ فانہ یصدق بانتفاء القید و المقید جمیعا ولیحرر ،  اماما ذکروا ان جماعۃ الوتر ھل ھی تبع   

یعنی وتر کی جماعت تراویح کی جماعت سے ادنٰی ہے کیونکہ تراویح کی جماعت جمہور کے ہاں مسنون ہے حتی کہ اگرتمام لوگ تراویح کی جماعت کے تارك ہوں تو سب گنہگار ہوں گے ، توجماعت وتر کافرض کی جماعت سے جوکہ راجح قول کے مطابق واجب ہے ، کیامقابلہ ہے ، پس یہ بات ظاہرہوگئی کہ وتراگرچہ فی ذاتہٖ مستقل نماز ہیں لیکن ان کی جماعت عشاء کی نماز فرض کے تابع ہے اس لئے اگروتر کی جماعت میں یاد آئے کہ عشاء کے فرض باقی ہیں تووترفاسد ہوجائیں گے)

 



[1]   ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۴

[2]   ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۴

[3]   ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۴

[4]    درمختار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹

[5]   حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ بیروت ۱ / ۲۹۷

[6]   ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن