دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

درخلاصہ فرمود یشتغل بالترویحۃ الفائتہ لانہ لایمکنہ الاتیان بھا بعد الوتر[1]وبرمذہب دوم بہردوامر مخیراست اما اختلاف درافضل افتاد ہرکہ دروتر انفرادرا بہتردانستہ نزد اواشتغال بترویحہ فائتہ رابس انداختن خوشتر وماناکہ ہمیں احب باشد وفقیر گویم چوں صحیح دوم جانب عدم صحت تراویح بعد وتراست ینبغی انسب مراعات آں باشد واﷲ تعالٰی اعلم۔  قال فی الدرالمختار وقتھا بعد صلاۃ العشاء الی الفجر قبل الوتر وبعدہ فی الاصح فلوفاتہ بعضھا وقام الامام الی الوتر اوتر معہ ثم صلی مافاتہ[2] ۱ھ قال فی ردالمحتار قولہ فلوفاتہ بعضھا الخ تفریع علی الاصح لکنہ مبنی علی ان الافضل فی الوتر الجماعۃ لاالمنزل

ساتھ وترنہ پڑھے بلکہ بقیہ تراویح کوپہلے پڑھے کیونکہ اس قول والوں کے ہاں وتر کے بعد تراویح کاوقت ختم ہوجاتاہے۔

امام طاہربن احمدبخاری خلاصہ میں فرماتے ہیں کہ وہ بقیہ تراویح اداکرے کیونکہ وتر کے بعد اس کوتراویح پڑھناممکن نہیں ۔ اور دوسرے قول کے مطابق اس کو دونوں طرح اختیار ہے کہ بقیہ تراویح وترسے پہلے پڑھے یابعد۔ لیکن افضل ہونے میں ضرور اختلاف ہے کہ جولوگ وترتنہا پڑھنا افضل کہتے ہیں کہ تراویح پہلے پڑھے اور جو جماعت کوبہترجانتے ہیں ان کے نزدیك پہلے وترجماعت کے ساتھ پڑھ کراس کے بعد باقی ماندہ تراویح پڑھے ، یہ تسلیم ہے کہ پسندیدہ امریہی ہے لیکن ایك قول میں وتر کے بعد تراویح جائزنہیں ہے ، اس لئے یہ فقیر کہتاہے کہ اس قول کی رعایت زیادہ مناسب ہے ، واﷲ تعالٰی اعلم۔ درمختارمیں کہا کہ تراویح کا وقت عشاء کی نماز کے بعد تاطلوع فجر ہے وترسے قبل یا بعد یہ اصح قول ہے۔ پس اگرکچھ تراویح رہ جائیں اور امام وتر کے لئے کھڑاہوجائے تو اسے چاہئے کہ وہ امام کے ساتھ وترپڑھے اور فوت شدہ تراویح اس کے بعد پڑھے۱ھ۔ اس پر ردمحتارمیں کہا (قولہ فلوفاتہ بعضہا الخ) یعنی ماتن کاقول کہ اگرکچھ تراویح رہ جائیں ، یہ اصح قول پرتفریع ہے لیکن یہ تفریع اس بات پرمبنی ہے کہ وترگھر کی بجائے  وفیہ خلاف سیأتی فقولہ اوتر معہ ای علی وجہ الافضلیۃ [3] الخ ۔ بالجملہ بریك مذہب راہ ہمیں ست کہ بجماعت وترشرك نکند وبرمذہب دیگرنزد بعضے افضل ہمیں ست ونزد کہ صاحب فوائد نوشت مذہب ہیچ عالمے نیست نہ زنہارا از شرع بروے دلیلے۔ ثانیاً قول اوپس بسبب سنت ، جماعت واجب راترك نماید وسنت راادا اسازد کے روابود طرفہ استدلالے ست اگر لفظ واجب صفت جماعت سنت بداہتہ غلط وباطل بالاگفتہ ایم کہ جماعت وترنزد ہیچ کسے واجب نیست واگرمضاف الیہ است پس دلیل واجح الاختلال ، سخن درترك جماعت ست نہ درترك وتر پس قول او “ کے روابود “ کے روابود ، الحاصل حکم ہمان ست کہ فقیر درفتوائے پیشیں نوشتہ ام وازردوقدح ہمچو کلمات سکوت اولی بود اگر ایضاح صواب وکشف ارتیاب مقصود نبودے ، بازدرضمن بیان ، مسائل نافعہ کہ بروئے کارآمد نفع خوبی ست کہ حامل بریں تحریر می تواند شد مہربانا سخن برانچہ نقل فرمودہ اند رواں کردم ورنہ فقیرکتاب فوائد الاعمال ہم ندیدہ ام ، ندانم کہ اصل عبارتش چیست ومولفش کیست واﷲ تعالٰی اعلم۔

باجماعت پڑھنا افضل ہے اور اس میں اختلاف ہے جو آگے آرہاہے اور اس کا قول کہ امام کے ساتھ وترپڑھے یعنی مستحب یہ ہے۔ اصل کلام یہ ہے کہ ایك قول میں یہ متعین ہے کہ وہ جماعت کے ساتھ وترنہ پڑھے اور دوسرے مذہب پرافضل یہ ہے کہ وترباجماعت نہ پڑھے ، ایك قول کے مطابق اور دوسرے قول کے مطابق اگرچہ اقتداء اور جماعت افضل ہے تاھم جماعت کالازم ہونا اور واجب ہونا وترکے لئے کسی عالم کامذہب اور قول نہیں جیسا کہ فوائد الاعمال والے نے لکھاہے اور نہ ہی شرع میں اس پرکوئی دلیل ہے۔ ثانیاً اس کایہ کہنا کہ سنت کی وجہ سے جماعت واجب کاترك کرنا کیسے جائز ہوسکتاہے ، یہ عجیب استدلال ہے ، اس میں لفظ واجب اگر جماعت کی صفت ہے تویہ غلط اورباطل ہے کیونکہ وتر کی جماعت کسی کے ہاں بھی واجب نہیں ہے اور لفظ واجب جماعت کا مضاف الیہ ہے یعنی واجب کی جماعت ، توپھریہ دلیل واضح طورپرخلل والی ہے کیونکہ بات تو ہورہی ہے جماعت کےترك میں نہ کہ واجب یعنی وتر کے ترك میں ، اس کا یہ کہنا کہ “ کیسے جائزہوسکتاہے “ کیسے جائز اور درست ہوسکتاہے! الحاصل یہ کہ مسئلہ کاحکم وہی ہے جو اس فقیرنے پہلے فتوے میں لکھاہے ، ایسی باتوں پربحث کرنے سے سکوت بہترتھا ، اگردرست موقف کی وضاحت اور شکوك کودفع کرنا مقصود نہ ہوتا نیز بحث میں ضمنی مسائل ہیں جوکہ بروئے کارلانے میں مفیدہوسکتے تھے جن کی وجہ سے میں نے یہ بحث کی ہے ورنہ ضرورت نہ تھی ،  مہربانوں نے جیسے عبارت نقل کی اس کے مطابق میں نے تسلیم کرتے ہوئے جواب لکھ دیا ورنہ اس فقیرنے کتاب فوائد الاعمال نہیں دیکھی اور نہ یہ معلوم کہ اصل عبارت کیااور کتاب کامصنف کون ہے ، واﷲتعالٰی اعلم

مسئلہ ۱۱۱۰ : مرسلہ مولوی محمدعبداﷲصاحب پنجابی ہزاری مدرس اول مدرسہ عربیہ بریلی ۱۹  ربیع الآخر شریف ۱۳۰۶ھ

ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی فی الرجل الذی اقتدی بالامام فی التراویح وقد صلی الفرض فی بیتہ اومع غیرذلك الامام ھل یصلی الوتر بالجماعۃ ام لا والوتر بالجماعۃ تابع لرمضان ام لجماعۃ الفرض بینواتوجروا۔

اﷲتعالٰی آپ پررحم فرمائے ، آپ کا کیا ارشاد ہے ایسے شخص کے بارے میں جس نے فرض اکیلے گھرمیں پڑھے یاکسی دوسرے امام کے ساتھ جماعت میں پڑھے کیاوہ شخص باجماعت تراویح والے امام کے پیچھے وترباجماعت پڑھ سکتاہے یانہیں ؟ اور وتر باجماعت رمضان کے تابع ہے یافرض کی جماعت کے تابع ہیں ، بیان کروا اجرپاؤ۔ (ت)

الجواب :

من صلی الفرض منفرد الایدخل فی جماعۃ الوتر ومن صلاھا جماعۃ ولوخلف غیرھذا الامام فلہ ان یأتم بہ فی الوتر ای وان لم یکن ادرك التراویح معہ ھو الصحیح المعتمد فی الغنیۃ شرح المنیۃ للعلامۃ ابراھیم الحلبی ،  اذا لم یصلی الفرض مع الامام فعن عین الائمۃ الکرابیسی انہ لایتبعہ فی التراویح ولاالوتر و کذا اذا لم یتعابعہ فی التراویح لایتابعہ فی الوتر وقال ابویوسف البانی اذا صلی مع الامام شیئا من التراویح یصلی معہ الوتر وکذا اذا

جس نے فرض اکیلے پڑھے ہوں وہ وتر کی جماعت میں شریك نہ ہو اور جس نے فرض جماعت سے اداکئے ہوں اگرچہ کسی دوسرے کی جماعت کے ساتھ پڑھے ہوں وہ اس وتر پڑھانے والے کے ساتھ جماعت میں شریك ہوسکتاہے اگرچہ اس نے اس امام کے ساتھ تراویح نہ پڑھی ہوں ، یہی صحیح اور قابل اعتماد ہے ، منیہ کی شرح غنیہ میں علامہ ابراہیم حلبی نے فرمایا کہ جب فرض جماعت کے ساتھ نہ پڑھے تو عین الائمہ کرابیسی سے روایت ہے کہ وہ تراویح اور وترامام کے ساتھ نہ پڑھے اور یوں اگر اس نے تراویح امام کے ساتھ نہ پڑھی ہو و بھی وہ وتر امام کے ساتھ نہ پڑھے ، اور ابویوسف البانی نے فرمایا کہ اگر امام کے ساتھ کچھ تراویح پڑھ لی ہوں تو اس کے ساتھ وترپڑھ سکتاہے اور یوں ہی اگر اس نے تراویح

لم یدرك معہ شیئا منھا وکذا اذا صلی التراویح مع غیرہ لہ ان یصلی الوترمعہ وھو الصحیح ذکرہ ابواللیث وکذا قال ظھیرالدین المرغینانی لوصلی العشاء وحدہ فلہ ان یصلی التراویح مع الامام وھو الصحیح حتی لودخل بعد ماصلی الامام الفرض وشرع فی التراویح فانہ یصلی الفرض اولا وحدہ ثم یتابعہ فی التراویح وفی القنیۃ لوترکواالجماعۃ فی الفرض لیس لھم ان یصلواالتراویح جماعۃ لانھا تبع للجماعۃ[4]  ۱ھ

وقال فی ردالمحتار عند قولہ لولم یصلھا (ای التراویح) بالامام لہ ان یصلی الوتر معہ ،  فی التتارخانیۃ عن التتمۃ انہ سئل علی بن احمد عمن صلی الفرض و التراویح وحدہ اوالتراویح فقط ھل یصلی الوتر مع الامام فقال لا۱ھ ثم رأیت القھستانی ذکر تصحیح ماذکرہ المصنف (ای من جوز الوتر جماعۃ لمن صلی التراویح منفردا ای و الفرض جماعۃ قال الشامی                      

جماعت سے کچھ بھی نہ پڑھی ہوں تو وہ شریك ہوسکتاہے ، اور اگر اس نے ایسے ہی تراویح کسی دوسرے امام کے ساتھ پڑھی ہوں تو وہ وتر کی جماعت میں شریك ہوسکتاہے ، یہی صحیح ہے ا س کو ابولیث نے ذکر کیاہے اور ظہیرالدین مرغینانی نے بھی یہی کہاہے کہ اگر اس نے فرض اکیلے پڑھے ہوں توتراویح امام کے ساتھ پڑھ سکتاہے یہی صحیح ہے حتی کہ اگر وہ امام کے فرض پڑھالینے کے بعد اور تراویح میں شروع ہونے کے بعد مسجدمیں آیا تو اس کوچاہئے کہ پہلے اکیلے فرض پڑھ کر بعد میں تراویح کی جماعت میں شریك ہو۔ اور قنیہ میں ہے اگرکچھ لوگوں نے فرض کی جماعت ترك کردی تو ان کو تراویح باجماعت نہیں پڑھنی چاہئے کیونکہ تراویح فرض باجماعت کے تابع ہیں ۱ھ ۔ اور ردمحتار میں اس کے قول پر ، اگر اس نے تراویح امام کے ساتھ نہ پڑھی ہوں تو اس کو وترامام کے ساتھ پڑھنے کی اجازت ہے “ ۔ تتارخانیہ میں تتمہ سے نقل ہے کہ علی بن احمد سے سوال کیاگیا کہ وہ شخص جس نے فرض اور تراویح



[1]   خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثالث فی التراویح مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۶۳

[2]   درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۸

[3]   ردالمحتار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۱

[4]   غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی باب التراویح مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۱۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن