30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوصلاھا مع غیرہ لہ ان یصلی الوترمعہ[1] ایں مسئلہ رابامسئلہ ماچہ علاقہ کہ اینجا کلام درمنفرد فی الفرض ست نہ منفرد فی التراویح وضرورنیست کہ ھرکہ تراویح تنہاگزاردہ است درفرض نیز منفرد بودہ باشد بازشارح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سوالے آوردہ است کہ اگرہمہ ہا جماعت تراویح راترك کردہ باشد آیا ایشاں رامی رسد کہ وتربجماعت گزارند اینجا ، ہیچ حکمے ننمود وامربمراجعت کتب فرمود حیث قال بقی لو ترکھا الکل ھل یصلون الوتر بجماعۃ فلیراجع[2]۔ آرے
اس امام کے پیچھے فرض نہ پڑھے ہوں “ کامطلب یہ ہے اکیلے پڑھے ہوں ، لیکن اگر اس نے فرض کسی دوسرے امام کی اقتدا میں پڑھے ہوں توپھر وترمیں امام کے ساتھ جماعت میں پڑھنے میں کوئی کراہت نہیں ہے ، غور کر۱ھ۔ اور درمختارمیں ہے اس مسئلہ کابالکل ذکرنہیں ہے مصنف اور شارح (اﷲ تعالٰی ان کے اجر کو عظیم فرمائے اور ان کے نور کاہم پرفیضان فرمائے) دونوں نے لکھاہے کہ کسی نے صرف تراویح اکیلے پڑھی ہوں تو وہ وتر کی جماعت میں شریك ہوسکتاہے۔ انہوں نے یوں فرمایا اگراس نے تراویح امام کے ساتھ نہ پڑھی ہوں یاکسی اور امام کے ساتھ پڑھی ہوں تو اس کو اس امام کے ساتھ وتر پڑھناجائزہیں لیکن اس مسئلہ کا ہمار ے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہمارامسئلہ تواکیلے فرض پڑھنے والے کے بارے میں ہے نہ کہ اکیلے تراویح پڑھنے کے بارے میں ہے کیونکہ تراویح اکیلے پڑھنے کویہ لازم نہیں کہ فرض بھی اکیلے پڑھے ہوں ۔ اس کے بعد شارح نے خود سوال اٹھایا کہ اگرتمام حاضرین نے تراویح باجماعت نہ پڑھی ہوں و ان کویہ جائز ہوگا کہ وہ وتر باجماعت اداکریں ۔ شارح نے یہ سوال بیان کرکے کوئی جواب نہ دیا بلکہ یہ کہا اس بارے میں کتب کودیکھاجائے ، انہوں نے اس کویوں بیان فرمایا “ یہ بات باقی ہے کہ اگرتمام حاضرین نے تراویح کی علامہ حلبی محشی درجواب ایں سوال ازرائے وفہم خود چناں بحث کردکہ گوجماعت تراویح یکسر متروك باش تاہم مقتضائے تعلیل آن ست کہ جماعت وتررواباشد زیراکہ اونماز مستقل بنفسہ است وھذا نصہ علی مانقل العلامۃ الطحطاوی قولہ فلیراجع قضیۃ التعلیل فی المسئلۃ السابقۃ بقولھم لانھا تبع ، ان یصلی الوتر بجماعۃ فی ھذہ الصورۃ لانہ لیس بتبع للتراویح ولاللعشاء عندالامام رحمہ اﷲ تعالٰی[3] ایں جانیزچنانکہ دیدی کلام در منفرد فی الفرض نیست ۔ نعم ربما یوھم قولہ ولاللعشاء ، جوازبجماعۃ الوتر وان ترکوا جماعۃ الفرض اصلا لکنہ کما علمت خلاف المنقول وماکان لبحث ان یقبل علی خلاف المنصوص لاسیما وھو غیرمستقیم فی نفسہ اذ لیس قضیۃ التعلیل مامر کما افاد العلامۃ الشامی واحاد حیث قال قولہ بقی الخ الذی یظھر ان جماعۃ الوتر
جماعت کوترك کیاہوتو وترجماعت سے پڑھ سکتے ہیں تو اس مسئلہ میں کتب کودیکھاجائے ، ہاں علامہ حلبی محشی نے ازخود اس سوال کے جواب میں اپنی رائے اور فہم سے یہ بحث کی ہے کہ اگرچہ تراویح کی جماعت متروك ہوگئی مگراب وتر کی جماعت کوترك نہ کریں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وتر ایك مستقل علیحدہ نماز ہے اور ان کابیان یہ ہے جیسا کہ علامہ طحطاوی نے ان کابیان نقل کیاہے “ کتب کی طرف رجوع کرو “ یہ اس علت کاقرینہ ہے جوانہوں نے سابقہ مسئلہ میں بیان کی ہے کہ تراویح تابع ہیں اس لئے اس کو جائز ہے کہ وہ وترباجماعت پڑھے ، کیونکہ وترنہ توتراویح کے تابع ہیں اور نہ ہی عشاء کے۔ امام صاحب کے قول میں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ، آپ نے ملاحظہ کیاکہ یہاں بھی فرض اکیلے پڑھنے والے کے بارے میں بات نہیں ہے۔ ہاں اس کاقول “ عشاء کے بھی تابع نہیں “ وہم پیداکرتاہے کہ وتر کی جماعت جائز ہے اگرچہ سب حضرات نے فرض کی جماعت کوترك کردیاہو ، لیکن آپ کومعلوم ہے کہ یہ بات نقل کے خلاف ہے اور منقول کے خلاف کوئی بحث قابل قبول نہیں ہوتی خصوصاً جبکہ وہ بحث خود بھی درست نہ ہو ، کیونکہ علت والا معاملہ وہ نہیں جو بیان ہوا ، جیسا کہ علامہ شامی نے خوب بیان فرمایا جہاں انہوں نے یہ کہا “ یہ بات باقی ہے الخ “ ان کایہ سوال اس بات کوظاہرکررہاہے کہ وتر کی جماعت
تبع لجماعۃ التراویح وان کان الوتر نفسہ اصلا فی ذاتہ لان سنۃ الجماعۃ فی الوتر انما عرفت بالاثر تابعۃ للتراویح علی انھم اختلفوا فی افضلیۃ صلاتھا بالجماعۃ بعد التراویح کمایأتی [4] ۱ھ
ومن فقیر درفتوی عربیہ کہ بجواب سوال مولوی محمد عبداﷲ صاحب پنجابی ھزاری بتاریخ نوزدہم شہرربیع الآخر ۱۳۰۶ہجریہ نوشتہ ام ایں مقام راباقضائے مراتب تنقیح وتوضیح رساندہ ام وباﷲ التوفیق سخن گفتن ماندازکتاب فوائد الاعمال مہربانا معتبر بودن کتابے نزد بعض معتقدین چیزے ومعتبر بودنش فی نفسہٖ چیزے دیگرست ، باز اعتبار کتابے مستلزم آں نیست کہ ہرچہ درومذکور ست مختار ومنصور ست ، زنہاردرکتب اجلہ ائمہ ہیچ یك کتابے نیابی کہ دربعض مواضع مجال نقدوتنقیح نداشتہ باشد تابتالیف مااحداث ہند ، چہ رسد ، مؤلف اگرایں مسئلہ را ازپیش خود گفتہ است بجوئے نیززدورنہ برولازم بود کہ نص کتاب آوردے یالااقل نام کتاب بردے ، تنہا گفتش کہ ہمیں ست حکم کتب الفقہ ، چگونہ قبول افتد
تراویح کی جماعت کے تابع ہے اگرچہ وترفی نفسہٖ مستقل نمازہے ، کیونکہ وتر کی جماعت کاسنت ہونا ، یہ نقل سے ثابت ہے کہ یہ تراویح کے تابع ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ علماء نے تراویح کے بعد وترباجماعت پڑھنے کی افضلیت میں اختلاف کیاہے ، جیسا کہ آئندہ آرہاہے۱ھ۔ اور مجھ فقیر نے عربی فتوٰی جوکہ مولوی عبداﷲصاحب پنجابی ہزاری کے سوال کے جواب میں بتاریخ ۱۹ربیع الآخر ۱۳۰۶ھ لکھاہے اس میں اس مقام پر خوب اعلٰی تنقیح وتوضیح سے کام لیاہے وباﷲ التوفیق ، فوائد الاعمال کے متعلق بات کرناباقی ہے ، میرے مہربان ، کسی کتاب کامعتقدین کے ہاں معتبر ہونا ایك بات ہے اور اس کتاب کی اپنی حیثیت میں معتبر ہونا اور بات ہے نیز کسی کتاب کے معتبرہونے کایہ مطلب نہیں کہ اس میں جوکچھ موجود ہے وہ تمام معتبر ومختارہوہرگزایسانہیں ہے کیونکہ بڑے بڑے ائمہ کرام کی کتابوں میں سے کوئی بھی کتاب ایسی نہیں کہ اس کے بعض مقامات قابل تنقید وتنقیح نہ ہوں ، تو ہم نئے لوگوں کی کتابوں کے بارے میں یہ کیسےکہاجا سکتا ہے کہ ان میں سب کچھ درست ہے۔ فوائد الاعمال کے مصنف نے اگریہ مسئلہ خود اپنی طرف سے کہہ دیا تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ورنہ ان پرلازم تھا کہ وہ کسی ایك کتاب کاہی حوالہ ذکرکردیتے اور حالانکہ درکتب فقہ ہمچومنیۃ الفقہاء وغنیہ وشرح نقایہ وردالمحتار تنصیص بخلافش می یابیم بازاگربرخاطر احباب گراں نیابد سخن ازنقد کلامش رانم وبرہمگناں واضح ولائح گردانم کہ ایں کلام چہ قدر ، ازپایہئ فقاہت دورومہجور افتادہ است اوّلاً باید دانست کہ علماء رادروقت تراویح دوقول مذیل بطراز تصحیح ست یکے آنکہ وقتش مابین عشاء ووترست تاآنکہ بعد وتر روانبود چنانکہ بیش از فرض روا نیست صححہ فی الخلاصۃ ورجحہ فی غایۃ البیان بانہ الما ثور المتوارث [5] ۱ھ ش عن البحر ، دوم آنکہ بعد عشاء تاطلوع فجروہمیں ست ارجح التصحیحین عزاہ فی الکافی الی الجمہور وصححہ فی الھدایۃ و الخانیۃ والمحیط [6] ۱ھ ش عن الذین برمذہب اول ھرکرا چیزے ازتراویح باقی ماند وامام بوتربرخاست حکم ہمیں ست کہ بہ بقیہ تراویح اشتغال نماید وبجماعت وتردرنیاید زیرا کہ نزدایشاں پس ازوتر وقت تراویح
صرف یہ کہہ دینا کہ کتب فقہ کایہ حکم ہے ، کیسے قابل قبول ہوسکتاہے حالانکہ کتب فقہ مثلاً منیۃ الفقہاء ، غنیہ ، شرح النقایہ اور ردمحتار میں ہم اس کا خلاف پاتے ہیں پھر اگردوستوں پرگراں نہ گزرے توہم اس کا تنقیدی جائزہ پیش کریں ، اور ان پرواضح کردیں کہ ان کے بیان کی کیاحیثیت ہے اور یہ کہ فقہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اوّلاً معلوم ہوناچاہئے کہ تراویح کے وقت کے بارے میں علماء میں اختلاف ہے اور اس میں دو قول ہیں جو کہ تصحیح کے معیار پر آتے ہیں : ایك یہ کہ تراویح کا وقت ، نمازیعنی فرض عشاء اور وتر کے درمیان ہے اس بناپر فرض سے قبل تراویح جائزنہیں جس طرح کہ وترکے بعد جائز نہیں ، اس قول کو خلاصہ میں صحیح قراردیاہے اور غایۃ البیان نے اس کو زمانہ بزمانہ منقول کہہ کر ترجیح دی ہے۱ھ۔ یہ شارح نے بحر سے نقل کیاہے ، دوسراقول یہ ہے کہ اس کاوقت بعدازعشاء تاطلوع فجر ہے ، یہی قول صحت میں راجح ہے اور کافی میں اس کو جمہور کی طرف منسوب کیاہے اور ہدایہ ، خانیہ اور محیط میں اس کوصحیح قراردیاہے۱ھ۔ یہ شارح نے زین سے نقل کیاہے اب پہلے قول کے مطابق اگرکسی کی کچھ تراویح رہتی ہوں اور امام وتر شروع کرچکاہے اس کو یہ حکم ہے کہ وہ امام کےفوت می شود۔ امام طاھربن احمد بخاری
[1] درمختار آخرباب الوتروالنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹
[2] درمختار آخرباب الوتروالنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹
[3] حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الوتروالنوافل مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۹۷
[4] ردالمحتار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۴
[5] ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۱
[6] ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع