دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

مروی حدیث اسی معنی پرمحمول کیاہے اور وہ یہ کہ حضورعلیہ الصلوٰہ والسلام تاحیات قنوت نازلہ مصیبت پرپڑھتے رہے ، اور خلفاء کے عمل کے بارے میں جوج ہم نے ذکرکیاہے وہ بھی اس کی تائید کرتاہے کہ انہوں نے حضور  عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  کے بعد یہ عمل جاری رکھا اور ابوبکرصدیق   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے مسیلمہ کذاب سے صحابہ کی جنگ اور اہل کتاب سے جنگ میں قنوت پڑھی ، اسی طرح عمرفاروق   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے قنوت پڑھی ، اور ایسے ہی علی مرتضٰی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے حضرت امیرمعاویہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے جنگ کے دوران پڑھی اور حضرت معاویہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے جنگوں کے دوران قنوت پڑھی انتہی ، پس قنوت نازلہ ہمارے ہاں مصیبت کو ختم کرنے کے لئے دعا کے طورپر ثابت ہے اور اس میں شك نہیں کہ طاعون بھی بڑی مصیبت ہے ، اور مصباح میں فرمایا کہ نازلہ ، لوگوں پرشدید مصیبت کے نزول کو کہتے ہیں انتہی ، اور سراج الوہاج میں ذکرہے کہ امام طحاوی نے فرمایا کہ نزول مصیبت کے بغیر نمازفجر میں قنوت نہ پڑھی جائے لیکن اگرمصیبت نازل ہو تو ہمارے نزدیك قنوت پـڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ حضور  عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  نے ایك ماہ قنوت پڑھی اور اس میں رعل ، ذکوان اور بنولحیان پربددعا فرمائی اور پھر آپ نے ترك کردی ، ملتقط میں اسی طرح ہے انتہی ملتقطا۔ (ت)

یہاں سے ظاہر کہ اختلاف شافعیہ وحنفیہ دربارہ قنوت فجر کہ وہ علی الدوام حکم دیتے اور ہم انکار کرتے ہیں غیرنوازل میں ہے ، نہ قنوت نوازل میں اور بلاشبہ طاعون ووبا اشدنوازل سے ہیں اور ان کے عموم میں داخل کما مر من الاشباہ (جیسا کہ اشباہ سے گزرا۔ ت) پس اگر امام ، دفع طاعون ووبا کے لئے نمازفجر میں قنوت پڑھے تو اس کے جواز ومشروعیت میں کوئی شبہ نہیں واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۱۰۷ :          ۸جمادی الاخری ۱۳۱۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جسے امام کے پیچھے نمازو وتر میں بھی رکعتیں فوت ہوئیں اور قنوت بھی وہ جب اپنی باقی نمازپڑھنے کو کھڑا ہو تواخیر رکعت میں دعائے قنوت دوبارہ پڑھے یاوہی جوامام کے پیچھے پڑھی کافی ہے۔ بیّنوا توجروا۔

الجواب :

اسی پراکتفا کرے دوبارہ نہ پڑھے کہ تکرار قنوت مشروع نہیں ۔

فی الدر اما المسبوق فیقنت مع امامہ فقط [1] ۱ھ فی ردالمحتار لانہ اٰخر صلٰوتہ ومایقضیہ اولھا حکما فی حق القرائۃ ومااشبھھا واذا وقع قنوتہ فی موضعہ بیقین لایکررلان تکرارہ غیر مشروع شرح المنیۃ  [2] ۱ھ واﷲ تعالٰی اعلم۔                                                 

دُرمیں ہے کہ مسبوق(جس کی کوئی رکعت جماعت سے رہ جائے) صرف امام کے ساتھ قنوت پڑھے۱ھ۔ ردالمحتارمیں ہے کیونکہ امام کے ساتھ اس کی نماز کاآخری حصہ ہے اور جس کوقضاکررہاہے وہ قرأۃ وغیرہ کے اعتبار سے حکماً نماز کا اول ہے اور جب قنوت امام کے ساتھ اپنے محل میں اداہوچکی ہے تو اس کا تکرار نہ کیاجائے کیونکہ اس کاتکرار جائزنہیں ، شرح منیہ۱ھ۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)

مسئلہ ۱۱۰۸ :          ازاوجین علاقہ گولیار مرسلہ محمدیعقوب علی خاں صاحب از مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ یکم ربیع الآخر ۱۳۰۷ھ

دوسہ مردم درآں مسجد کہ امام بجماعت تراویح مشغول تام ست حاضر گردیدند آنہا نمازفرض بجماعت ادانمایند یاجداگانہ خواندہ خواندہ ملحق جماعت تراویح شوند وبازوتر     دوتین آدمی مسجد میں آئے توامام نمازتراویح میں مصروف تھا ، کیا یہ آنے والے اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے جماعت کرائیں یاعلیحدہ علیحدہ پڑھیں اور اس کے بعد

راہمراہ اما بخوانند یا تنہا چراکہ امام رابجماعت فرض نیافتہ ، بیّنواتوجروا۔

تراویح کی جماعت میں شامل ہوں ، اور کیایہ لوگ وتر امام کے ساتھ جماعت سے اداکریں یا اس امام کی جماعت کے ساتھ فرض ادا نہ کرنے کی وجہ سے وتر علیحدہ پڑھیں ؟ بیان کرو اجرپاؤ ۔ (ت)

الجواب :

جماعت تراویح مانع جماعت فرض نیست لان قیام جماعۃ انما یمنع اقامۃ جماعۃ اخری فی زمانھا ومکانھا اذا کانت الاولی داعیۃ لکل من یأتی الی الدخول فی نفسھا وجماعۃ التراویح لاتدعو من لم یصل الفرض الی الدخول فیھا فان الصحیح المعتمد بطلان التراویح قبل اداء الفرض ولذا قال فی جامع الرموز اذا دخل واحد فی المسجد والامام فی التراویح یصلی فرض العشاء اولا ثم یتابعہ[3]  

پس آنا نکہ از پس رسیدند چوں شرعاً مامورند بادائے فرض پیش ازتراویح چراممنوع باشد ازجماعت حالانکہ چوں امام درتراویح ست محراب مشغول باشد پس عدول ازوکہ مبدل ہیأت وبرمذہب صحیح ومفتی بہ نافی کراہت ست کما نص علیہ فی مواضع من ردالمحتار اینجا خود حاصل ست پس برمذہب صحیح ایناں راہیچ مانع ازاقامت جماعت نیست آرے ہرقدرکے تواننددور ازجماعت نیست آرے ہرقدر کہ توانند دورازجماعت قوم جماعت فرض برپاکنند تاہم خویشتن ازالتباس افعال واشتغال بال ایمن باشندوہم براہل تراویح                                               

تراویح کی جماعت ، فرض کی جماعت کے لئے مانع نہیں ہے کیونکہ دوسری جماعت کے لئے وہ موجودہ جماعت مانع ہوتی ہے جو کہ تمام آنے والوں کے لئے یہ پہلی موجودہ جماعت اپنے اندر داخل ہونے کی داعی ہو ، جبکہ بعد میں آنے والے ان لوگوں کوجنہون نے فرض نمازنہیں پڑھی ، کے لئے یہ موجودہ جماعت تراویح داعی نہیں ہے کہ اس میں شامل ہوں ، کیونکہ فرض ادا کرنے سے قبل تراویح کاپڑھنا صحیح مذہب میں باطل ہے ، اسی بناء پر جامع الرموز میں کہاہے کہ جب کوئی ایك شخص جماعت تراویح ہوتے وقت آئے تو اس کو پہلے عشا کے فرض پڑھنے ہوں گے اور اس کے بعد تراویح کی جماعت میں شریك ہو ، پس بعد میں آنے والے لوگ جب اس بات کے پابند ہیں کہ وہ پہلے فرض اداکریں اور بعد میں تراویح پڑھیں توشرعاً ان کو فرض کی ادائیگی جماعت کرانے میں کیامانع ہے خصوصاً جبکہ امام تراویح پڑھاتے ہوئے محراب میں ہے توبعد میں آنے والے اپنی جماعت کومحراب سے ہٹ کر کرائیں گے جس سے پہلی جماعت کی ہئیت تبدیل ہوجائے گی اور دوسری جماعت کی کراہت ختم ہوجائے گی جیسا کہ ردالمحتار

خصوصاً امام تالی قرآن تلبیس ننمایند ھذا کلہ مما لایخفی علی من لہ مساس بالفقہ بازآنکس کہ فرض بجماعت گزاردہ است خواہ کود امام بودیا بامام دیگر غیراین امام اقتدانمودہ اور امیرسد کہ دروتربایں امام اقتدا کند آرے ہرکہ فرج بہ تنہائی ادانمود اوررا دروتر ہم منفرد باید بودعلامہ شامی دررالمحتارفرمود لوصلاھا (یعنی صلاۃ العشاء) جماعۃ مع غیرہ ثم صلی الوتر معہ لاکراھۃ تأمل[4]ومن فقیرایں مسئلہ رادرفتاوٰی خودم ہرچہ تمام تررنگ تفصیل دادہ ام۔ واﷲ تعالٰی اعلم

کی تصریح کے مطابق صحیح اور مفتی بہ مذہب یہی ہے جب کراہت کی وجہ خودبخود ختم ہوگئی تو ان لوگوں کی جماعت کے لئے کوئی بھی مانع نہ رہا ، ہاں ممکن حد تك ان کو چاہئے کہ تراویح کی جماعت سے دور اپنی جماعت کریں تاکہ آپس میں قرأت اور افعال میں اشتباہ نہ پیداہو اور اطمینان قلبی سے نماز اداہوسکے ، نیز تراویح کے امام جوکہ تلاوت میں مصروف ہے کو اشتباہ سے بچایاجاسکے۔ فقہ سے مس رکھنے والے کو یہ تمام معاملہ معلوم ہے ، اور پھر جو شخص عشاء کے فرض جماعت سے اداکرچکا ہوخواہ اپنی جماعت کرائی ہو یاکسی اور امام یا اس تراویح والے کے ساتھ جماعت میں شامل ہواہو اس کوتراویح اور وتر کی جماعت میں شریك ہونا جائزہے ، ہاں جس نے فرض بغیرجماعت اکیلے پڑھے ہوں اس کو وتر اکیلے پڑھنے چاہئیں ، علامہ شامی نے



[1]   درمختار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۴

[2]   ردالمحتار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۹۶

[3]   جامع الرموز الوتروالنوافل مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۲۱۴

[4]   ردالمحتار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن