دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

یہ بات ثابت کرتی ہے کہ قومہ قنوت کے محل سے خارج ہے مگرجب ایسے امام کی اقتداء کی ہو جووتروں میں بعد از رکوع قنوت پڑھنے کاقائل ہو توپھر امام کی پیروی کرے ، باتفاق یہ حکم ہے۱ھ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)

مسئلہ ۱۱۰۷ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دفع طاعون ووباء کے لئے نمازفجر میں قنوت پڑھناجائز ہے یانہیں ؟ بیّنوا توجوا۔

الجواب :

وقت نزول نوازل وحلول مصائب اُن کے دفع کے لئے نمازفجر میں قنوت پڑھنا احادیث صحیحہ سے ثابت اور مشروعیت اس کی مستمرغیرمنسوخ۔

روی الامام البخاری والامام مسلم فی للبخاری قال اخبرنا احمد بن یونس ثنازائدۃ عن التیمی عن ابی مجلز عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قنت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم شھرا یدعو علی رعل وذکوان [1] ولفظ المسلم من طریق المعتمر عن سلیمٰن التیمی عن ابی مجلز عن انس ابن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ قنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم شھرا بعد الرکوع فی صلٰوۃ الصبح یدعوا علی رعل وذکوان ویقول عصیۃ عصت اﷲ ورسولہ[2]۔  وفی صحیحہ                

بخاری اور مسلم نے اپنی صحیحین میں اور حافظ نسائی نے اپنی سنن میں اور بخاری کے الفاظ یہ ہیں ، احمد بن یونس نے خبردی کہ زائدہ نے تیمی اور انہوں نے ابومجلز سے اور انہوں نے حضرت انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کی کہ رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے قنوت پڑھتے ہوئے رعل اور ذکوان پر ایك ماہ بدعا فرمائی ، اور مسلم نے معتمر عن سلیمن التیمی عن ابی مجلز عن انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ، یہ الفاظ کہے ، حضور  عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  نے ایك ماہ فجر کی نماز میں رکوع کے بعد رعل ، ذکوان اور عصیّہ کے خلاف قنوت کے ذریعہ بدعافرمائی اور فرمایا عصیہ نے اﷲ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔ اور امام مسلم کی صحیح میں بھی یہ ہے کہ محمد بن

ایضا حدثنا محمد بن مھران الرازی فذکر باسنادہ عن ابی سلمۃ عن ابی ھریرۃ حدثھم ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قنت بعد الرکعۃ فی صلوات شھرا ،  اذا قال سمع اﷲ لمن حمدہ یقول فی قنوتہ اللھم انج الولید بن الولید ،  اللھم  انج سلمۃ بن ھشام ،  اللھم نج عیاش بن ابی ربیعۃ ،  اللھم انج المستضعفین من المؤمنین ،  اللھم اشدد وطأتك علی مضر ،  اللھم اجعلھا علیھم سنین کسنی یوسف ،  قال ابوھریرۃ ثم رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ترك الدعا بعد ،  فقلت اری رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قد ترك الدعاء لھم ،  قال فقیل وما تراھم  قدقدموا[3]۔                         

مہران نے اپنی سند کے ساتھ ابوسلمہ سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیا کہ حضور   عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  نے ایك ماہ رکوع کے بعد سمع اﷲ لمن حمدہ کہنے پرقنوت پڑھی اور قنوت میں یہ پڑھا : اے اﷲ! نجات دے ولید کو ، اے اﷲ! نجات دے سلمہ بن ہشام کو ، اے اﷲ نجادت دے عیاش بن ابی ربعیہ کو ، اے اﷲ نجات دے ضعیف مومنوں کو۔ اے اﷲ! اپنی سخت پکڑفرما مضرپر ، اے اﷲ! ان پرقحط مسلط فرما جتنے سال یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں قحط نازل ہوا۔ ابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ میں حضور  عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  کو دیکھاکہ آپ نے بددعاچھوڑدی تومیں نے دل میں کہا رسول اﷲ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے بددعاچھوڑدی او ر کہا کہ مجھے کہاگیاکہ وہ حفاظ آگئے تمہارا کیاخیال ہے۔ (ت)

عبدالرزاق ، حاکم ، دارقطنی باسناد صحیح بطریق امام باقر حضرت انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روای :  

انہ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم لم یزل یقنت فی الصبح حتی فارق الدنیا[4]۔

حضوراکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  یہ قنوت تاحیات پڑھتے رہے۔ (ت)

یہ حدیث اور دیگراحادیث قنوت فجر ، برخلاف شافعیہ کہ انہیں فجرمیں دوام قنوت کی دلیل ٹھہراتی ہیں صریح نوازل ہیں اور وارداُن پرمحمول ، پس حاصل یہ کہ جناب سیدالمرسلین   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے وقت نزول شدائد دواماً قنوت پڑھی اور جب وہ بلادفع ہوجاتی بوجہ ارتفاع ضرورت ترك فرماتے اور مشروعیت  اس قنوت کی کتب حنفیہ میں بھی مصرح جیسا کہ ۱ اشباہ ، ۲ درمختار ، ۳ بحرالرائق ، ۴ غایت ، ۵ ملتقط ، ۶سراج ، ۷ شرح نقایہ شمنی ، ۸فتح القدیر ابن الہمام ، ۹ کلام رئیس الحنفیہ امام ابوجعفر بن سلامہ طحاوی وغیرہ سے ثابت متون میں غیروترمیں قنوت پڑھنا ممنوع ٹھہرایا شارحین کرام نے قنوت نوازل کو اس سے استثناء فرمایا۔

فی الدرالمختار ولایقنت فی غیرہ الالنازلۃ فیقنت الامام فی الجھریۃ وقیل فی الکل[5]  وفی البحرالرائق فی شرح النقایۃ معزیا الی الغایۃ وان نزل بالمسلمین نازلۃ قنت الامام فی صلٰوۃ الجھر وھو قول الثوری واحمد ،  وقال جمہور اھل الحدیث القنوت عند النوازل مشروع فی الصلوات کلھما[6]  ۔  وفی الاشباہ والنظائر فائدۃ فی الدعاء برفع الطاعون سئلت عنہ فی طاعون سنۃ تسع وستین وتسعمائۃ بالقاھرۃ ،  فاجبت بانی لم ارہ صریحا ،  ولکن صرح فی الغایۃ وعزاہ الشمنی الیھا بانہ اذا نزل بالمسلمین نازلۃ قنت الامام فی صلواۃ الفجر وھو قول الثوری واحمد ،  وقال جمہور اھل الحدیث القنوت عند النوازل مشروع فی الصلوات کہما انتھی ،  وفی فتح القدیر ان مشروعیۃ القنوت للنازلۃ مستمرۃ لم تنسخ ،  وبہ قال جماعۃ من اھل الحدیث و حملو علیہ حدیث ابی جعفر

 درمختارمیں ہے کہ غیروتر میں صرف قنوت نازلہ پڑھ سکتاہے اور قنوت نازلہ امام جہری نماز میں پڑھے ، اور بعض نے کہا تمام نمازوں میں پڑھے ، اور بحرالرائق میں ہے کہ شرح نقایہ میں غایہ کے حوالہ سے ذکرکیا کہ اگرمسلمانوں پرکوئی مصیبت نازل ہو تو امام نمازفجر میں قنوت پڑھے ، یہ امام احمد اور امام ثوری کا قول ہے اور جمہورمحدثین نے کہا کہ قنوت نازلہ تمام نمازوں میں جائز ہے۔ اور الاشباہ والنظائر “ طاعون کوختم کرنے میں دعا کافائدہ “ میں ہے قاہرہ میں ۹۹۹ھ میں طاعون کے موقعہ پر مجھ سے اس بارے میں سوال کیاگیا تومیں نے جواب میں کہا کہ میں نے صریح طور پر اس بارے میں نہیں دیکھا لیکن غایہ میں تصریح ہے کہ شمنی نے اس بات کو صاحبین کی طرف منسوب کیا اور کہا کہ اگرکوئی مصیبت نازل ہو تو امام نمازفجر میں قنوت پڑھے ، یہ امام احمد اور امام ثوری کاقول ہے اور جمہور اہلحدیث نے فرمایا کہ تمام نمازوں میں قنوت جائزہے انتہی ، اور فتح القدیرمیں ہے قنوت نازلہ جاری ہے منسوخ نہیں ہے ، اور اہل حدیث کی جماعت کایہ قول ہے اور انہوں نے ابوجعفر کی حضرت انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے

عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہما مازال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقنت حتی فارق الدنیا ای عندالنوازل ،  وماذکرنا من اخبار الخلفاء یفید تقررہ لفعلھم ذلك بعدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وقد قنت الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی محاربۃ الصحابۃ رضی اﷲ عنھم مسیلمۃ الکذاب وعندمحاربۃ اھل الکتٰب ،  وکذلك قنت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ،  وکذلك قنت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی محاربۃ معاویۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھما ،  وقنت معاویۃ فی محاربتہ رضی اﷲ تعالٰی عنھما انتھی ،  فالقنوت عندنا فی النازلۃ ثابت وھو الدعاء برفعھا ولاشك ان طاعون من اشد النوازل ،  قال فی المصباح ،  النازلۃ المصیبۃ الشیدۃ تنزل بالناس انتھی ،  وذکر فی السراج الوھاج قال الطحاوی ولایقنت فی الجر عندنا من غیر بلیۃ فان وقعت بلیۃ فلاباس بہ کما فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فانہ قنت شھرا فیھا یدعو علی رعل وذکوان وبنی لحیان ثم ترکہ کذا فی الملتقط [7]  انتھی(ملتقطا

 



[1]   صحیح بخاری کتاب المغازی ، باب غزوۃ الرجیع الخ  مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۵۸۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن