30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے عرب کے چندقبائل کے خلاف قنوت ایك ماہ پڑھی۔ (ت)
اس کے لئے کوئی دعا مخصوص نہیں بلکہ جو بلامثل طاعون ووبا یاغلبہ کفار والعیاذ باﷲتعالٰی اس کے دفع کی دعا کی جائے گی ، تحقیق یہ ہے کہ قنوت صرف نمازفجر میں ہے وما وقع فی بعض الکتب فی صلٰوۃ الجھر فمصحف من صلوۃ الفجر (جو بعض کتب میں آیا ہے کہ جہروالی نماز تو یہ “ جہر “ بدل گیاہے اصل فجر ہے۔ ت) اور تحقیق یہ ہے کہ فجر کی دوسری رکعت میں بعد قرأت قبل رکوع ہو لان مابعد الرکوع قد خرج عن محلیۃ القنوت کما حققہ المحقق فی الفتح (کیونکہ رکوع کے بعد قنوت کامحل نہیں ہے جیسا کہ محقق نے اسے فتح میں ثابت کیاہے۔ ت) اور امام ومقتدی سب آہستہ پڑھیں لانہ دعاء وسنہ الدعاء الاخفاء (کیونکہ وہ دعاہے اور دعا کاطریقہ اخفاء ہے۔ ت) جن مقتدیوں کویاد نہ ہو وہ آہستہ آہستہ آمین کہیں واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲) اوپربیان ہوا کہ اس قنوت کا جوازہی ظاہرمتون مذہب حنفی کے خلاف ہے نہ کہ معاذاﷲ اس پرایسااصرار کہ جونہ کرے خارج ازاسلام سمجھاجائے اور مسلمان اس کاجنازہ نہ اٹھائیں ، یہ ظلم اور اشد ظلم ہے اور سخت کبیرہ ہے اور اﷲ ورسول پرافتراء اورنئی شریعت دل سے گھڑنا اورمسلمانوں کوناحق معاذاﷲ کافربنانا اور بحکم ظواہر احادیث خود کافربننا ہے قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقد باء بہ احدھما (رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : دونوں میں سے ایك اس کو اپنے پر وارد کرے گا۔ ت) اور آمین بالجہر مذہب حنفی میں کہیں نہیں ، ہاں اشراح ، وقت نازلہ قنوت اسی طریقہ پرروا رکھتے ہیں جس کی تحقیق اوپربیان ہوئی اور حدیث فعلی بھی مثل حدیث قولی حجت ہے لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صلوا رأیتمونی اصلی[1] (اس لئے کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایسے نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا۔ ت)اور ترك دعا بوجہ قضائے حاجت یا بعض مخصوصین پردعا سے رب عزوجل کی ممانعت ، نفس دعا سے منع نہیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۱۰۶ : ازدمن قریب سورت بخدمت جناب مولیٰنا مولوی محمد وصی احمدصاحب محدث سورتی ( رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ) وازانجا بفرض تحقیق نزدفقیر ۱۶ربیع الاول شریف ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ دعائے قنوت کا کس مصیبت کے نازل ہونے کے وقت فرض پنجگانہ میں پڑھنا یاخاص کسی وقت کے فرض نماز میں پڑھنا شرع شریف سے ثابت ہے یانہیں ؟ خاص کرایام وبائے طاعون میں اور اس کے پڑھنے کامحل فرض کی آخری رکعت میں قبل رکوع کے یاقومہ میں امام اور مقتدی دونوں پڑھیں یاصرف امام بآوازبلندپڑھے اور مقتدی آمین آہستہ آہستہ کہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط ٭ اللھم لك الحمد (اے اﷲ! تیرے لئے حمد ہے۔ ت) عامہ بلکہ عام متون مذہب میں دربارہ وترارشاد ہوا :
لایقنت فی غیرہ وکذا صرحوا ان الما موم لایتبع امامہ القانت فی الفجر وعللوہ بانہ منسوخ وانہ محدث[2]۔
غیروتر میں قنوت نہ پڑھے جیسا کہ فقہاء کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ مقتدی اس امام کی جو فجر میں قنوت پڑھتاہے پیروی اس معاملہ میں نہ کریں ، اور انہوں نے وجہ یہ بتائی ہے کہ یہ منسوخ ہے لہٰذا یہ نئی چیزہے۔ (ت)
اور محققین شراح مثل امام ابن الہام و علامہ سروجی و امام عینی شارحین ہدایہ و علامہ شمنی شارح نقایہ و علامہ ابراہیم حلبی شارح منیہ و علامہ زین بن نجیم شارح کنز و علامہ شرنبلالی شارح نورالایضاح و علامہ علائی شارح تنویر و علامہ سیدحموی شارح اشباہ وعلامہ نوح آفندی و علامہ سیدابوالسعود ازہری محشی کنز و علامہ سید محمدشامی محشیان درر وغیرہ بہ تبعیت امام اجل حافظ الحدیث ابوجعفر طحاوی ہنگام نزول مثل طاعون وغیرہ (والعیاذباﷲ تعالٰی) صرف نماز فجرمیں تجویز قنوت کی تنقیح وتنقید اور اطلاق متون کی اس سے تقیید فرماتے ہیں ۔ غنیہ المستملی و مراقی الفلاح وغیرہما میں ہے :
وھو مذھبنا وعلیہ الجمہور[3] ۱ھ وقدصح
یہی ہمارامذہب ہے اور جمہوربھی اس کے قائل ہیں ۱ھ
بہ الحدیث فی الصحیحین وغیرھما عن انس وابی ھریرۃ وغیرھما رضی اﷲ تعالٰی عنھم قالوا وھو محمل ماروی من قنوت امراء المؤمنین الصدیق و الفاروق والمرتضٰی ومعٰویۃ وغیرھم رضوان اﷲ تعالٰی علیھم ، قلت ولیست المسئلۃ مما تجری فیہ المماکسۃ۔
اور اس بارے میں صحیح حدیث بخاری اور مسلم وغیرہما میں موجودہے اور وہ حضرت انس اور ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے اور حضرت امیرالمومنین صدیق اکبر ، عمرفاروق ، علی مرتضٰی اور امیرمعاویہ وغیرہم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کاقنوت کے بارے میں عمل اس حدیث کے مطابق تھا ، میں کہتاہوں یہ وہ مسئلہ نہیں جس میں کھنچاؤپایاجائے۔ (ت)
پھربرتقدیرقنوت بلاشبہہ سبیل وہی ہے جو فاضل مجیب سلمہ المجیب نے اختیارفرمائی کہ امام ومقتدی سب آہستہ پڑھیں ۔
اقول : وماوقع من الخلف بین ایمتنا الکرام ومشائخنا الاعلام فی قنوت الوترھل یجھرہ ام یسروھو المختار ، کمافی الھدایۃ وھوالاصح ، کمافی المحیط والصحیح ، کما فی شرح الجامع الصغیر لقاضی خاں وھل یؤمن الماموم ام یقنت وھو السحیح المختار ، کمافی المحیط والشرح المذکور وغیرھما فانما منشؤہ ان لقنوت الوتراللھم انا نستعینك الخ شبھۃ القراٰن علی ماذکروہ فکما یجھر الامام بالقراٰن فکذا بما فیہ شبھتہ وکما لایقرؤالموتم القراٰن فکذا مالہ شبھتہ کماقررہ فی الحلیۃ و الغنیۃ والبحر وغیرھا
اقول : ہمارے ائمہ کرام سے متاخرین اور ہمارے مشائخ عظام نے وتر کی قنوت کے بارے بحث میں جو فرمایا کہ یہ قنوت جہر پڑھی جائے یاآہستہ ، توآہستہ پڑھناہی مختارہے جیسا کہ ہدایہ میں ہے اور یہی اصح ہے ، جیسا کہ قاضی خاں کی شرح جامع صغیرمیں ہے۔ اور یہ کہ کیامقتدی صرف آمین کہیں یاوہ بھی قنوت پڑھیں ، تو ان کا قنوت پڑھناصحیح ومختارہے جیسا کہ محیط اور مذکورشرح وغیرہما میں ہے۔ اور اس بات کی وجہ یہ ہے کہ قنوت وتر جو کہ اللھم انانستعینك الخ ہے کی قرآن سے مشابہت ہے جیسا کہ فقہاء نے بیان کیاہے لہٰذا جس طرح قرآن کاجہر کرتاہے اسی طرح قرآن کے مشابہ چیز کا بھی امام جہرکر ے اور جس طرح مقتدی قرآن کی قرأت نہیں کرتا اسی طرح قرآن کی مشابہت والی چیز کی بھی مقتدی قرأت نہ کرے جیسا کہ حلیہ ، غنیہ ، بحر وغیرہا میں تقریر کی گئی ہے
ولاکذالك قنوت النوازل وانما ھو دعاء محض فیشترك فیہ الامام و الماموم ویخفیانہ کسائر دعیۃ فانہ ھوالمندوب الیہ فی الدعاء۔
جبکہ قنوت نوازل کایہ مقام نہیں ہے وہ تو محض دعا ہے جس میں امام اور مقتدی مساوی شریك ہیں لہٰذا دونوں اس کو آہستہ پڑھیں گے ، جس طرح تمام دعاؤں میں مستحب یہ ہے کہ آہستہ پڑھاجائے۔ (ت)
مگراخفاء واجب نہیں کہ جہرگناہ ہو۔
وقد صرحوابانہ اذا جھر سھوا بشیئ من الادعیۃ والاثنیۃ لایجب علیہ السجود [4] کمافی رد المحتار ولووجب لوجب کمالایخفی۔
جبکہ فقہاء نے تصریح کی ہے اگرکوئی شخص بھول کر کوئی دعاوثناء جہر سے پڑھے توسجدہ سہو واجب نہ ہوگا جیسا کہ ردالمحتارمیں ہے اور اگرقنوت نازلہ یادعا کااخفاء واجب ہوتا تو اس کے جہر سے سجدہ سہوواجب ہوتا جیسا کہ واضح ہے۔ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع