دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

مسئلہ ۱۱۰۳ :          ازدھامپور محلہ موچیاں ڈاك خانہ خاص ضلع بجنور مسئولہ غلام محمدصاحب          ۸شعبان ۱۳۳۹ھ

جناب مولوی صاحب رہنمائے گمرہان دام افضالہ ، بعدادائے نیازمندانہ کے معروض خدمت ہے یہاں قصبہ دھام پور میں زمرہ خلافت نے نمازمین ایك نیاطریقہ نکالاہے وہ یہ ہے کہ پانچوں وقت کی نماز میں اخیرفرض میں رکوع کرکے کھڑے ہوجاتے ہیں اور امام صاحب دعابآواز بلندپڑھتاہے اور مقتدی بآوازبلندکئی کئی مرتبہ آمین کہتے ہیں بلکہ بیس بیس مرتبہ سے زیادہ مقتدی آمین کہتے ہیں بعدہ ، سجدہ میں جاکر سلام پھیرتے ہین ، عالی جاہ! ہمارے امام صاحب حنفی کے طریقہ میں یہ نمازجائز ہے یاناجائز؟ یاکہ کسی اصحاب نے یاکہ امامین میں سے کسی نے پڑھی ہے؟ اور اس طریقہ سے نمازہوتی ہے یاکہ فاسد ہوجاتی ہے؟ ہم کو اس نماز میں شریك ہوناچاہئے یانہیں ؟

الجواب :

یہ طریقہ قنوت نازلہ کاہے جومتون مذہب حنفی کے خلاف ہے مگربعض شراح نے اجازت دی ہے اس سے بھی چارباتوں میں مخالف ہے :

اول : بعد رکوع ہمارے نزدیك محل قنوت ہی نہیں کماحققہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر (جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیرمیں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت)

دوم : امام کاجہر سے دعاپڑھنا مخالف قرآن کریم ومذہب حنفی ہے۔

سوم : یونہی مقتدیوں کاآمین بالجہر۔

چہارم : قنوت نازلہ ہمارے یہاں صرف نماز فجرمیں ہے اور بعض کتب میں نمازجہر واقع ہوا ، اپانچوں نمازوں میں ہونا ہمارے یہاں کسی کاقول نہیں تو ہمارے نزدیك اس کے سبب تاخیرفرض لازم آئے گی اور اس کے سبب نمازواجب الاعادہ ہوگی ایسی نماز میں شرکت نہ کی جائے جبکہ خالص حنفی جماعت مل سکتی ہو اور شرکت کی ہو ظہروعصربلکہ عندالتحقیق غیرفجر کااعادہ کرلیں بلکہ فجر کابھی جبکہ لوگ بعد رکوع قنوت کریں کہ مذہب حنفی میں خلاف محل ہے اگرچہ شامی و شرنبلالی کو شبہہ ہوا ، وہ مذہب میں صاحب قول نہیں واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۱۰۴ تا ۱۱۰۵ :                            ازکوہ کسوٹی کمسریٹ روٹی گودام مسئولہ عبداﷲ              ۱۰رمضان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ عرصہ ایك سال سے میں سناکرتاہوں کہ :

(۱) اس جگہ اور دیگر شہروں میں ایك نماز واجباً پڑھی جارہی ہے جس کا ثبوت مجھ کو آج تك کسی نے نہ دیا اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ حدیث کی کتابوں میں دیکھو توتم کومعلوم ہوجائے گا ، نماز اس طرح پڑھی جاتی ہے کہ ہرایك فرض نماز کی آخررکعت میں بعدرکوع امام کچھ پڑھتاہے اور مقتدی آمین کہتے ہیں اور استفسار کرنے پر کہ امام کیا پڑھتا ہے یہ جواب ملتاہے کہ دعائے قنوت پڑھی جاتی ہے اور اگردعائے قنوت کی عربی دریافت کی جاتی ہے تو اس سے صاف جواب۔ سخت حیرت اور تعجب کامقام ، میں مسجد جانے سے قاصر بلکہ مستثنیٰ ، اس وجہ سے یہ مسئلہ حل طلب بہت ضروری ہے۔

(۲) اس خادم کی نظر سے ربع اول “ مظاہرحق “ جلداول کتاب الصلٰوۃ باب القنوت مندرجہ ذیل احادیث گزریں جس سے بالکل حضور سرورکائنات   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کاامرظاہر نہیں ہوتا کہ آپ نے امت کے لوگوں کو امرکیا ہوکہ وہ بھی اس کوپڑھاکریں بلکہ حدیث خودظاہر کررہی ہے کہ حضور نے بفرمان ربی اس کو ترك کردیا ، فصل اول کتب مذکور :

وعن ابی ھریرۃ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان اذا اراد ان یدعو علی احد اویدعولاحد قنت بعد الرکوع فربما قال اذا قال سمع اﷲ لمن حمدہ ربنا لك الحمد اللھم انج الولید وسلمۃ بن ھشام وعیاش بن ابی ربیعۃ اللھم اشدد وطأتك علی مضر سنین کسنی یوسف یجھر بذلك وکان یقول فی بعض صلوتہ اللھم العن فلانا وفلانا لاحیاء من العرب حتی انزل اﷲ لیس لك من الامرشیئ الایۃ متفق علیہ وعن عاصم الاحول قال سئلت عن انس بن مالك عن القنوت فی الصلٰوۃ کان قبل الرکوع  

حضرت ابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہ حضور  عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  جب کسی کے خلاف یا کسی کے حق میں دعافرمانے کاارادہ فرماتے تو کبھی رکوع کے بعد سمع اﷲ کہہ کریوں فرماتے : اے اﷲ! ولید ، سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے ، اے اﷲ! قبیلہ مضر کوسخت پکڑ ، ان پرقحط نازل فرما جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے زمانے میں قحط نازل ہوا ، اور یہ بدعابلندآواز سے پڑھتے اور کبھی آپ کسی نمازمیں یوں پڑھتے : اے اﷲ! فلاں وفلاں پرلعنت فرما۔ اس سے مراد عرب کے بعض قبائل مراد ہوتے ، حتی کہ اﷲتعالٰی نے آیہ کریمہ نازل فرمائی کہ اے پیارے حبیب! یہ معاملہ آپ کے ذاتی اختیارمیں نہیں ہے۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور حضرت عاصم احول   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہ میں نے حضرت انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے پوچھا

اوبعدہ قال قبلہ انما قنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد الرکوع شھرا انہ کان بعث اناسا یقال لھم القراء فاصیبوا فقنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد الرکوع شھرا یدعوا علیھم متفق علیہ فصل ثانی کتاب مذکور عن ابن عباس قال قنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم شھرا متتابعا فی الظھر والعصر والمغرب والعشاء وصلٰوۃ الصبح اذا قال سمع اﷲ لمن حمدہ من الرکعۃ الاخیرۃ یدعوا علی احیاہ من بنی سلیم ،  رعل وذکوان وعصیۃ ویومّن من خلفہ رواہ ابوداؤد ،  وعن انس ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قنت شھرا ثم ترکہ۔  رواہ ابوداؤد والنسائی۔                         

کہ کیانماز میں قنوت رکوع سے پہلے تھی یابعد میں ، توانہوں نے فرمایاپہلے تھی ، حضورعلیہ السلام نے صرف ایك ماہ رکوع کے بعد قنوت پڑھی کیونکہ آپ نے قراء کی ایك جماعت کو تعلیم کے لئے بھیجا توان کو راستہ میں شہیدکردیاگیا ، تو اس واقعہ پر حضورعلیہ السلام نے ایك ماہ رکوع کے بعد قاتلین پر بدددعافرمائی (متفق علیہ) کتاب مذکور کی دوسری فصل میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰیعنہ سے مروی ہے کہ حضور  عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  نے ایك ماہ مسلسل ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور فجر کی نماز میں قنوت پڑھی اور جب نماز کی آخری رکعت کے رکوع کے بعد سمع اﷲ لمن حمدہ کہتے تو اس وقت عرب کے قبائل بنی سلیم ، ذکوان اور عصیہ پر بددعا فرماتے اور مقتدی آمین کہتے۔ اس کوابوداؤد نے روایت کیاہے اور حضرت انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہ حضورعلیہ السلام نے یہ قنوت ایك ماہ پڑھ کر پھرچھوڑدی ، اس کو ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیاہے۔ (ت)

چونکہ حنفی مذہب کے مطابق آمین آواز سے کہناروکاگیاہے مگراب توپورے پندرہ منٹ آمین اس زور سے کہی جاتی ہے کہ مسجد گونج اُٹھتی ہے بلکہ نماز جمعہ میں لوگوں کی کثرت سے آمین کاشور توحد درجہ بڑھ جاتاہے اس بستی میں صرف ایك مسجد ایك قبرستان ہے ، مذہب حنفی کے سب پیروہیں ، امام مسجد جن سے اس کارواج ہواہر شخص کومجبورکررہے ہیں کہ اس کی ادامیں اگرکوئی قاصرہوگا اسلام سے خارج سمجھاجائے گا اس کا جنازہ مسلمان نہیں اُٹھائیں گے بسبب ملازمت لوگ باہر سے آتے ہیں ان کے لئے ایسا نادرشاہی ھکم بہت گراں ہورہاہے اور بے وقت پردیس میں موت ہونے کے لحاظ سے مجبوراً اداکررہے ہیں وہی مثل کہ “ زبردست مارے رونے نہ دے “ ، اور حنفیہ “ قہردرویش برجان درویش “ کے مصداق ہورہے ہیں ۔ والسلام

الجواب :

(۱) اصل مسئلہ متون یہ ہے کہ وتروں کے سوا کسی نمازمیں دعائے قنوت نہیں ، تنویرالابصار وغیرہ میں ہے : ولایقنت فی غیرہ [1](غیرمیں قنوت نہ کرے۔ ت)مگرامام طحاوی وغیرہ شراح نے معاذاﷲ کسی نازلہ یعنی عام مصیبت کے وقت اس کے دفع کے لئے بھی قنوت جائررکھی ، اسی بارے میں حدیث ہے :

قنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم شھرا علی عدۃ قبائل من الکفار[2]۔

 



[1]   کنزالدقائق باب الوتروالنوافل ،  مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۴۱

[2]   شرح معانی الآثار باب القنوت فی صلٰوۃ الفجر وغیرہا مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۱۲۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن