30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیٹ بھر کر قیام لیل کاشوق رکھنا بانجھ سے بچہ مانگنا ہے ، جو بہت کھائے گابہت پئے گا ، جو بہت پئے گا بہت سوئے گا ، جو بہت سوئے گا آپ ہی یہ خیرات وبرکات کھوئے گا ؎
استغفرالله من قول بلاعمل
لقد نسبت بہ نسلا لذی عقم
(میں الله تعالٰی سے بلاعمل قول سے توبہ کرتاہوں ، تحقیق بانجھ عورت کو بچے کے ساتھ نسل کے اعتبار سے منسوب کیاگیاہے)
ولہذا حدیث میں آیا حضور سیدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :
ان کثرۃ الاکل شؤم[1]۔ رواہ البیھقی فی شعب الایمان عن ام المؤمنین رضی الله تعالٰی عنھا۔
بیشك بہت کھانا منحوس ہے۔ اس کو بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ام المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت کیاہے۔
یوں بھی نہ گزرے۵تو قیام لیل میں تخفیف کردورکعتیں خفیف وتام بعدنمازعشاء ذراسونے کے بعد شب میں کسی وقت پڑھنی اگرچہ آدھی رات سے پہلے ادائے تہجد کو بس ہیں ۔ مثلًا نوبجے عشا پڑھ کر سورہا دس بجے اٹھ کر دورکعتیں پڑھ لیں تہجد ہوگیا ، حدیث میں ہے حضوراقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
یحسب احدکم اذاقام من اللیل یصلی حتی یصبح انہ قدتھجد انما التھجد المرء یصلی الصلٰوۃ بعد رقدۃ[2]۔ رواہ الطبرانی عن الحجاج بن عمر رضی الله تعالٰی
تم میں کسی کایہ گمان ہے کہ رات کو اٹھ کر صبح تك نماز پڑھے جبھی تہجد ہو تہجد صرف اس کانام ہے کہ آدمی ذرا سوکر نماز پڑھے۔ اس کو طبرانی نے حجاج بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے سند حسن ان شاء الله
عنہ بسند حسن عــــہ ان شاء الله تعالٰی۔
تعالٰی سے روایت کیا ہے۔
سوتے وقت الله عزوجل سے توفیق جماعت کی دعا اور اس پرسچا توکل مولٰی تبارك وتعالٰی جب تیرا حسن نیت وصدق عزیمت دیکھے گا ضرور تیری مدد فرمائے گا۔ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗؕ-[3] (جو الله تعالٰی پرتوکل وبھروسہ کرتاہے اس کے لئے الله کافی ہے۔ ت)عوارف شریف میں ہے :
لتغییر العادۃ فی الوسادۃ والغطاء والوطاء تاثیر فی ذلك ومن ترك شیأا من ذلك و الله عالم بنیتہ وعزیمتہ یثیبہ علی ذلك بتیسیر مارام[4]۔ کیونکہ تکیہ ، بچھونے اور لحاف وغیرہ میں عادت کو بدل دینا یعنی ان کو ترك کردینا اس سلسلہ میں بہت مؤثر ہے اور جو ان اشیاء میں سے کسی کو ترك کردے تو الله تعالٰی اس کی نیت وارادہ کودیکھتے ہوئے اس کے مقصد میں سہولت پیدافرمادیتاہے یعنی کم خوابی کے آداب اس کو میسرآجاتے ہیں (ت)
۷اپنے اہل خانہ وغیرہم سے کسی معتمد کو متعین کرکہ وقت جماعت سے پہلے جگادے ۔
کماوکل رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بلالارضی الله تعالٰی عنہ لیلۃ التعریس۔
جیسا کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے لیلۃ التعریس میں حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بیدارکرنے کی ذمہ داری سونپی تھی(ت)
ان ساتوں تدبیروں کے بعد کسی وقت سوئے ان شاء الله تعالٰی فوت جماعت سے محفوظ ہوگا اور اگرشاید اتفاق سے کسی دن آنکھ نہ بھی کھلی اور جگانے والا بھی بھول گیا یاسورہا کما وقع لسیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عــــہ علق بالمشیۃ لان فیہ ابن لھیعۃ والکلام فیہ معروف والاصواب فیہ عندی ان حدیثہ حسن ان شاء الله تعالٰی ۱۲منہ (م)
مشیت باری تعالٰی کے ساتھ معلق کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اس حدیث کی سند میں ابن لہیعہ ہیں اور ان میں کلام معروف ہے اور اس کے بارے میں میری رائے میں یوں کہناچاہئے اس کی حدیث ان شاء الله تعالٰی حسن ہے ۱۲ منہ (ت)
عَنْہُ (جیسا کہ سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ واقعہ ہوا۔ ت) تو یہ اتفاقی عذر مسموع ہوگا اور امید ہے کہ صدق نیت وحسن تدبیر پرثواب جماعت پائے گا وبالله التوفیق۔
کیا تیری مسجد میں بہت اول وقت جماعت کرتے ہیں کہ دوپہر سے اس تك سونے کا وقفہ نہیں جب تو سب وقتوں سے چھوٹ گیا سوکر پڑھی یاپڑھ کر سوئے بات تو ایك ہی ہے جماعت پڑھ ہی کر سوئے کہ خوف فوت اصلًا نہ رہے جیسے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم روزجمعہ کیاکرتے تھے۔
الشیخان عن سھل بن سعد رضی الله تعالٰی عنہ قال ماکنا نقیل ولانتغذی الابعدالجمعۃ[5] ، وفی لفظ للبخاری کنا نصلی مع النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الجمعۃ ثم تکون القائلۃ[6] ، وعندہ عن انس رضی الله تعالٰی عنہ کنانبکر الی الجمعۃ ثم نقیل[7] ۔
بخاری ومسلم نے حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیاہے کہ ہم جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے اور کھاناکھاتے تھے ، دوسری حدیث میں الفاظ بخاری یہ ہیں ہم نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نمازجمعہ اداکرتے پھرقیلولہ ہوتاتھا ، اور بخاری میں ہی حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ہم نمازجمعہ کی طرف جلدی جاتے تھے پھر قیلولہ کرتے تھے(ت)
غرض یہ تین صورتیں ہیں پیش اززوال سواٹھنا ، بعد جماعت سونا ان میں کوئی خدشہ ہی نہیں ، اور تیسری صورت میں وہ سات تدبیریں ہیں رب عزوجل سے ڈرے اور بصدق عزیمت ان پر عمل کرے پھر دیکھیں کیونکر تہجد تفویت جماعت کا موجب ہوتاہے ، بالجملہ نہ ماہ نیم ماہ کہ مہرنیمروز کی طرح روشن ہوا کہ عذر مذکور یکسرمدفوع و محض نامسموع ، جماعت وتہجد میں اصلًا تعارض نہیں کہ ایك کاحفظ دوسرے کے ترك کی دستایز کیجئے اور بوجہ تعذر جمع راہ ترجیح لیجئے ھذا ھو حق الجواب والله الہادی الی سبیل الصواب (اور یہی حق جواب ہے اور الله تعالٰی ہی راہ صواب کی طرف ہادی ہے۔ ت)
بااینہمہ اگر اس تقدیر ضائع وفرض خلاف واقع کامان لینا ہی ضرور توجماعت اولٰی پرتہجد کی ترجیح محض باطل ومہجور ، اگر حسب تصریح عامہ کتب تہجد مستحب وحسب اختیار جمہور مشائخ جماعت واجب مانئے جب توظاہر کہ واجب ومستحب کی کیابرابری ، نہ کہ اس کو اس پرتفضیل وبرتری ، اور اگر تہجد میں اعلی الاقوال کی طرف ترقی اور جماعت میں اونی الاحوال کی جانب تنزل کرکے دونوں کو سنت ہی مانئے تاہم تہجد کو جماعت سے کچھ نسبت نہیں جماعت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع