30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوبعدہ لم ارہ والذی یظھر لی ان المقتدی یتابع امامہ الا اذاجھر فیؤمّن وانہ یقنت بعد الرکوع ثم رأیت الشرنبلالی فی مراقی الفلاح صرح بانہ بعدہ واستظھر الحموی انہ قبلہ والاظھر ماقلناہ واﷲ تعالٰی اعلم[1] اقول : بل الاحق بالقبول ماقال السید الحموی لقول الفتح ولما ترجح ذلك خرج مابعدالرکوع من کونہ محلا للقنوت۱ھ وقال ایضا وھذا تحقیق خروج القومۃ عن المحلیۃ بالکلیۃ الا اذا اقتدی بمن یقنت فی الوتر بعدالرکوع فانہ یتابعہ اتفاقا [2] ۱ھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
یابعدمیں ، مجھے یہ تفصیل نظرنہیں آئی ، مگرمجھے معلوم ہوتاہے کہ مقتدی امام کی اتباع کرے لیکن جب امام قنوت پڑھنے میں جہرکرے تومقتدی کوچاہئے کہ وہ آمین کہے ، اور قنوت رکوع کے بعد پڑھے ، اس کے بعد مجھے شرنبلالی کا قول مراقی الفلاح میں ملا جس میں انہوں نے رکوع کے بعد کی تصریح کی ہے اور حموی نے رکوع سے قبل ظاہرقراردیالیکن زیادہ واضح یہی ہے جو میں نے کہاہے واﷲ تعالٰی اعلم۔ اقول : بلکہ حموی کاقول زیادہ مقبول ہو کیونکہ فتح القدیر کاقول یہ ہے کہ “ جب رکوع سے قبل کوترجیح ہے تورکوع کے بعد قنوت کامحل نہ رہا “ ۱ھ اور انہوں نے یہ بھی کہاکہ قومہ کلیۃً قنوت کی محلیت سے باہرہے تحقیق یہی ہے ، ہاں اگر کوئی ایسے امام کی اقتداء میں ہے جو رکوع کے بعدوتر میں قنوت پڑھتاہے تونمازی کوچاہئے کہ وہ اس امام کی اتباع کرے اس میں اتفاق ہے۱ھ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۹۷ : از کراچی گاڑی حاطہ مولیڈنہ میمن محلہ رام باغ مرسلہ نوراحمد ۱۹ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
کیاحنفی امام نمازفجر میں دعائے قنوت ودیگر دعاؤں کوبآواز بلند پڑھے توجائز ہے یانہیں ؟
الجواب :
حنفی مذہب میں وتر کے سوا اور نمازوں میں قنوت منع ہے متون کامسئلہ ہے ولایقنت فی غیرہ (غیروترمیں قنوت نہ پڑھے۔ ت) مگرجب معاذاﷲ کوئی بلائے عام نازل ہوجیسے طاعون ووباء وغیرہ ، تو امام اجل طحاوی و امام محقق علی الاطلاق وغیرہ شراح نے نمازفجر میں دعائے قنوت جائزرکھی ہے کما فضلناہ فی فتاوینا (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تفصیل کردی ہے۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۹۸ : سائل مذکورالصدر
حنفی امام بسم اﷲ واٰمین آہستہ حنفی طریقہ پرنہ پڑھے اوردعائے قنوت ودیگر دعاؤں کوشافعی طریقہ سے پڑھے تونماز اور ایسے امام کی اقتداء جائزہے یانہیں ؟ یہ فعل امام نے متواتر تین روز بغیراطلاع مقتدیوں کے کیا جس سے مقتدیوں کی جداگانہ حالتیں مثلاً کوئی رکوع میں کوئی قیام میں اور کوئی سجدہ میں تھا یہ نمازہوئی یانہیں ؟
الجواب :
(۱) بے صورت نازلہ جوکوئی ایساکرے گاموجب کراہت ہوگا اسے منع کیاجائے گا اگرنہ مانے اس کی اقتداء نہ کریں۔
(۲) جس نے امام سے پہلے کوئی فعل کیااور امام سے پہلے ہی فارغ ہولیا اور پھرامام کااس میں ساتھ نہ دیا مثلاً وہ متوجہ قنوت ہو اور یہ رکوع میں گیا اور امام رکوع میں نہ آنے پایاتھا کہ اس نے سراُٹھالیا اور پھر امام کے ساتھ یابعد ، رکوع نہ کیاتو ایسے مقتدی کی نمازنہ ہوئی ، ورنہ ہوگئی اور اس میں بدنظمی ہوئی اس کاوبال امام کے سرپر ، ائمہ دین نے توجمعہ وعیدین میں سجدہ سہومعاف رکھاہے جبکہ جماعت کثیرہوکہ ہرقسم کے لوگوں کا مجمع ہوگا بعض کوباعث وحشت ہوگا کہ یہ کیاچیزہے حالانکہ یہ وہ بعد ختم نماز ہے کہ عین وسط نماز میں ، بے اطلاع مقتدیان ایسی نئی حرکت کس قدرباعث فتنہ ہے نسأل اﷲ العفو والعافیۃ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۹۹ : از کراچی بندر صدربازار دکان سیٹھ حاجی احمد حاجی کریم محمدشریف جنرل مرچنٹمرسلہ عبداﷲ ولدحاجی ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
امام حنفی المذہب دروقت حدوث حادثہ ونازلہ طاعون ووباء دررکعت اخیرنماز فرض فجر دعاقنوت شفعویہ مع چندالفاظ دعائے عربیہ دافع الوباسہ روزیا ہفت روز خواندآیا دریں صورت ایں فعل امام مطابق مذہب جمہور حنفیہ است یانہ واگر کسے این امام رابباعث مرتکب شدن فعل صدروہابی وغیرمقلد خوانست پس حکم اوچیست۔
کسی حادثہ یاطاعون کی وباء وغیرہ کے پھیلنے کے موقعہ پرحنفی امام فجر کی آخری رکعت میں دعائے قنوت مرویہ اور اس کے ساتھ چندمزید عربی الفاظ جودافع بلاء کے لئے تین یاسات روزپڑھے توکیایہ فعل جمہوراحناف کےمطابق ہے یانہیں ؟ اور اگرکوئی شخص امام کے مذکورعمل کی بناپر امام کووہابی اور غیرمقلد کہہ دے توایسے شخص کاکیاحکم ہے؟
الجواب :
قنوت درنازلہ محققین حنفیہ مثل امام طحاوی وامام ابن الہمام وغیرہما کبرائے اعلام اثبات کردہ اند عمل بروہیچ علاقہ بوہابیت حنفی محققین مثلاً امام طحاوی ، امام ابن ہمام وغیرہما بڑےحضرات نے مصیبت کے نزول پر قنوت نازلہ کے عمل کا اثبات کیا ہے ، اور اس معاملہ میں وہابیت وغیرمقلدی ندارد وہرکہ بایں طعنہ زندہ جاہل ست تفہیم بایدکرد آنجا کہ مجمع ہمچوعوام باشد اقدام بایں کارنباید کرد کہ باعث تنفیر وفتح باب غیبت نشود قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بشرواولاتنفروا [3] ائمہ منع فرمودہ اند کہ پیش جہال قراء تہائے کہ گوش اوباوآشنا نیست نخوانند تامنجربفتنہ ایشاں نشوداگرچہ ہمہ قراء تہا یقینا حق ست کمافی غنیۃ العلامۃ ابراھیم الحلبی وغیرہا واﷲ تعالٰی اعلم۔ اور غیرمقلدیت کا کوئی دخل نہیں جویہ طعنہ دے وہ جاہل ہے اسے سمجھاناچاہئے ، اور عوام کے مجمع میں ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جوعوام میں نفرت پیداکرے اور غیبت بنے ، حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ہے کہ لوگوں کے لئے نفرت کی بجائے خوشی کاسامان بنو۔ اسی لئے ائمہ کرام نے ایسی قرائت جولوگوں میں معروف ومانوس نہیں ہے پڑھنے سے منع فرمایا ہے تاکہ لوگوں میں شکوك وشبہات کا فقنہ نہ بنے اگرچہ تمام قرأات برحق ہیں ، جیسا کہ علامہ ابراہیم حلبی کی غنیہ وغیرہا میں ذکر فرمایا ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۱۰۰ تا ۱۱۰۲ : ازبمبئی ۳ مسئولہ محمدسعداﷲ گلی خطیب زکریا مسجد ۳صفر ۱۳۳۹ھ
ماقولکم دامـ فضلکم(علمائے کرام اﷲ تعالٰی تمہارے فضل وکرم کو قائم ودوام فرمائے آپ کا کیاارشادہے۔ ت) نظربرمصائب حاضرہ جنہوں نے آج کل بالخصوص سلطنت اسلامیہ عثمانیہ اور بالعموم تمام مسلمانان عالم کوگھیررکھاہے بعض مفتین جہری فرض نمازوں میں بآوازبلند قنوت خوانی کا فتوٰی دیتے ہیں نمونتاً فتوٰی مولوی کفایت اﷲ دہلوی کالفافہ ہذا ہے علمائے احناف اہلسنت کے نزدیک : (۱) وقت نازلہ قنوت تمام جہری فرض نمازوں میں ہے یاصرف فجرمیں ؟ (۲) بعد سمع اﷲ لمن حمدہ ہاتھ اٹھاکر بجہر پڑھی جائے یاکس طرح؟ (۳) یہ وقت اس کامقتضی ہے یانہیں کہ قنوت پڑھی جائے؟ بیّنوااجرکم اﷲ
الجواب :
قنوت نازلہ امام طحاوی وغیرہ شراح نے جائز رکھی ہے وہ صرف نماز فجرمیں ہے اور ہمارے نزدیك بعدرکوع قنوت کامحل ہی نہیں قبل رکوع چاہئے کما نص علیہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر (جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اس کی تصریح فرمائی ہے۔ ت) اس ہندوستان میں اسلام اس وقت خود مسلمان کہلانے والوں کے ہاتھوں سے سخت نزع ہے قنوت کاوقت ہے واﷲ تعالٰی اعلم وہ رکعت ثانیہ میں بعد قرأت ہاتھ اٹھاکر تکبیر کہیں اور امام ومقتدی سب آہستہ قنوت پڑھیں جس مقتدی کویادنہ ہو آہستہ آہستہ آمین کہتارہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع