30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثالثاً : مگرشرائط بحث میں توصاف صاف وہی معمولی تقریر وہابیہ کہ “ قرون ثلثہ کی سند معتبرہے “ باقی سب باطل صراحۃً لکھ دی اور اس کے ساتھ اور تنگی بڑھادی کہ صحابہ وتابعین کی سندبھی مقبول نہیں جب تك اس پر عمل نہ جاری ہواہویہ باتیں ضروروہابیت کی ہیں ۔
رابعًا : اور شرط لگائی کہ “ کوئی مسئلہ کسی کتاب میں بے سندلکھاہو وہ بغیراسناد کے تسلیم نہ کیاجائے گا “ ہرشخص جانتاہے کہ کتب فقہیہ متون وشروح وفتاوٰی کسی میں ذکراسناد نہیں ہوتا تو اس شرط میں صاف بتادی کہ کتب فقہ مہمل وناقابل عمل ہیں ان کامسئلہ تسلیم نہ کیاجائے گا ، یہ اول نمبر کی وہابیت غیرمقلدی ہے ان وجوہ سے ضرورظاہرہوتاہے کہ زیداپنی قدیم وہابیت پرباقی ہے والعیاذباﷲ تعالٰی واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
بالجملہ ان تمام بیانات جلیلہ سے واضح ہوا کہ “ ۱ضروری سوال “ کی تحریر ہمارے علمائے کرام کے خلاف ہے۔ وہ ۲ سراسر غلطیوں سے بھری ہے ، ۳جواسے صحیح بتائے سخت جاہل ونافہم ہے ، ۴ضروری سوال کامصنف علم دین سے بہرہ نہیں رکھتا ، ۵وہ نہ عبارت سمجھ سکتاہے ، ۶نہ ترجمہ کی لیاقت رکھتاہے پھرمطلب ۷سمجھنا توبڑا درجہ ہے ، ۸وہ خود اپنا لکھانہیں سمجھتانہ نافع ومضر میں تمیرکرتاہے اور ۹ اس کے ساتھ کلمات علماء کوبدلنا ، گھٹانا ، بڑھانا ، مغالطہ ، عوام کوکچھ کاکچھ مطلب بنانا ، علاوہ ہے ۱۰ایسابے علم وکج فہم ہرگز فتوٰی دین کی قابلیت نہیں رکھتا نہ اسے فتوٰی پر اعتماد ہوسکتاہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم و مسندامام احمدو جامع ترمذی و سنن ابن ماجہ میں حضرت عبداﷲ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے ہے رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
اتخذالناس رؤساجھا لا فسئلوفافتوا بغیرعلم فضلوا واضلوا [1]۔
لوگ جاہلوں کوسردار بنائیں گے ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے وہ بغیرعلم کے فتوٰی دیں گے آپ بھی گمراہ ہوں گے اوروں کوبھی گمراہ بتائیں گے۔
اس صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ جو ایسے شخص کے فتوے پراعتماد کرے گا گمراہ ہوجائے گا ۱۱نیز اس کے اقوال و کلمات سے یہ بھی ظاہرہوا کہ وہ فقہائے کرام کی شان میں گستاخ ہے ارشادات علماء کوکذب وبہتان بتاتااور ۱۲مذہب اہل حق کوضلالت وفی الناربتاتا اور ۱۳تمام کتب فقہ کومہمل وبیکارٹھہراتاہے ۱۴اس نے اپنی توبہ توڑی اور ۱۵قدیمی وہابیت اب تك نہ چھوڑی مسلمانوں کو اس کی صحبت سے احترازچاہئے کہ بحکم صحیح گمراہی میں پڑنے کا اندیشہ ہے ایسی حالت جو اس کی اعانت کرے گمراہی کی بنیادقائم کرتاہے ہاں اگروہ پھر ازسرنو ان تمام حرکات سے تائب ہواور ایك زمانہ ممتد گزرے جس میں اس سے وہ باتیں صادر ہوں جن سے اس کی توبہئ دوم کابرخلاف توبہ اول سچا ہوناظاہر ہوتو اس وقت اس سے تعرض نہ کیاجائے گا مگر اس کے فتوے پر اعتماد پھر بھی نہیں ہوسکتا ك اس قدر س اس کاجہل زائل ہوکر عالم نہ ہوجائے گا لاکھوں عوام سنی المذہب بحمداﷲ ایسے ہیں جن سے تمام عمر میں کبھی کوئی بات بدمذہبی یاگستاخی شان ائمہ وفقہا وکتب فقہیہ کی صادر ہی نہ ہوئی مگرجبکہ وہ بے علم ہیں مفتی نہیں بن سکتے۔ اﷲ عزوجل خذلان سے بچائے اور بطفیل خاکپائے بندگان بارگاہ بیکس پناہ حضور پرنورسیدیوم النشور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم توفیق علم وعمل عطافرمائے اٰمین اٰمین اٰمین والحمد ﷲ رب العٰلمین وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا واٰلہٖ صحبہٖ اجمعین اٰمین۔
واﷲ تعالٰی سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ وجل مجدہ اتم واحکم کتبہ محمد ن المعروف بحامد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن النبی الامی صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم۔
اور اﷲ تعالٰی پاك وبلند زیادہ علم والاہے اور اس کا علم اتم اور زیادہ محکم ہے۔ اس کو لکھا محمدالمعروف حامد رضابریلوی نے ، اﷲتعالٰی اس کو اپنے پیارے اُمیّ نبی محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے وسیلہ سے معاف فرمائے۔ (ت)
فی الواقع یہ تفصیل کہ قنوت نازلہ جائز ہے مگر اس کاجواز صرف ایك نازلہ سے خاص ، باقی اس میں ناجائز ، ہمارے ائمہ کرام کامذہب نہیں ، مصنف “ ضروری سوال “ کی تحریروں ے اس کی جہالت وبطالت صاف ظاہرہے بیشك ایسے شخص کو مفتی بنناحلال نہیں ، نہ اس کے فتوے پراعتمادجائز ، مجیب سلمہ القریب المجیب نے جواموربالجملہ میں لکھے ضرورقابل لحاظ ومستحق عمل ہیں مسلمانوں کو ان کی پابندی چاہئے کہ باذنہٖ تعالٰی مضرت دینی سے محفوظ رہیں ۔
وباﷲ العصمۃ واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم کتبہ عبدہ المذنب احمدرضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
اﷲ کی رحمت سے ہی حفاظت ہے اور اﷲتعالٰی سبحانہ ، زیادہ علم والاہے۔ اس کوگنہگار بندے احمدرضابریلوی نے لکھا اسے حضرت محمدمصطفی النبی الامی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے وسیلہ سے معافی ہو۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۹۶ : ازرنگون گلی نمبر۲۵ ، دکان نمبر۴۴۵ مسئولہ حافظ محمدیوسف صاحب ۵ذیقعدہ ۳۲۹ھ
ہمارے سنی حنفی عالم لوگ اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ اس شہر میں ایك مسجد کا امام صاحب دوتین روز سے فجرکے فرض دوسری رکعت میں سمع اﷲ لمن حمدہ کے بعد ہاتھ اٹھاکر قنوت پڑھتاہے یعنی سلطان کے واسطے دعامانگتاہے اور سب مقتدی لوگ بلندآواز سے پکارتے ہیں پس دریافت طلب یہ بات ہے کہ ہمارامذہب حنفی سے یہ امام صاحب کیسے ہیں اور ان کے پیچھے نماز کاکیاحکم ہے؟
الجواب :
اگرچہ متون میں مطلق حکم ہے کہ لایقنت فی غیرہ [2]غیر وترمیں قنوت نہ پڑھے ، مگرمحققین شراح نے باتباع امام طحاوی وقت نازلہ وحدوث بلائے عام نمازفجرمیں قنوت پڑھنے کی اجازت دی ہے لہٰذا یہ مسئلہ ایسانہیں جس کی بناپر اس عالم کے پیچھے نمازمیں کچھ حرج ہو جبکہ وہ واقع میں سنی المذہب صحیح العقیدہ ہے ، اور اگرغیرمقلد ہے توآپ ہی گمراہ بددین ہے اور اس کے پیچھے نمازناجائز محض کماحققناہ فی النھی الاکید عن الصلٰوۃ وراء عدی التقلید(جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ “ النھی الاکید عن الصلٰوۃ وراء التقلید “ میں تحقیق کی ہے۔ ت) درمختارمیں ہے : لایقنت لغیرہ الالنازلۃ [3] (صرف مصیبت میں قنوت نازلہ پڑھے۔ ت)غنیہ میں ہے : ھو مذھبنا وعلیہ الجمہور[4]۔ (یہی ہمارا اور جمہورکامذہب ہے۔ ت) ردالمحتار میں کلام امام طحاوی نقل کرکے فرمایا :
ھو صریح فی ان قنوت النازلۃ عندنا مختص بصلٰوۃ الفجر دون غیرھا من الصلٰوۃ الجھریۃ والسریۃ[5]۔
یہ اس بات کی صراحت ہے کہ قنوت نازلہ صرف فجر کی نماز کے لئے مختص ہے دوسری جہری یاسری نمازوں میں ہیں ۔ (ت)
امام کوچاہئے کہ یہ قنوت بھی آہستہ پڑھے اور مقتدی بھی دعا ہی میں پڑھیں ، ہاں اگرامام قنوت بآواز پڑھے تو مقتدی آمین کہیں مگربآواز نہ کہیں بلکہ آہستہ کہ جہربآمین نمازمیں مکروہ ہے ، پھر علماء کو اختلاف ہواکہ یہ قنوت رکعت ثانیہ کے رکوع کے بعد ہو یاپہلے ، اور تحقیق یہ ہے کہ رکوع سے پہلے ہونا چاہئے۔ ردالمحتارمیں ہے :
ھل المقتدی مثلہ ام لاوھل القنوت قبل الرکوع
کیاقنوت نازلہ پڑھنے میں مقتدی بھی امام کی طرح پڑھے یانہیں ، اور کیاقنوت رکوع سے قبل پڑھی جائے
[1] صحیح بخاری کتاب العلم باب کیف یقبض العلم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۰ ، صحیح مسلم کتاب العلم باب رفع العلم وقبضہ الخ مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۲ / ۳۴۰
[2] کنزالدقائق باب الوتروالنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۴۱
[3] ردالمحتار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۴
[4] غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی صلٰوۃ الوتر مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۲۰
[5] ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۹۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع