30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سادساً : عامر بن طفیل کاحامل فرمان اقدس حرام بن ملحان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کوشہید کرنابھی خلاف تحقیق ہے بلکہ ان کاقاتل اور شخص تھا کہ بعد کوسلام لے آیا کما رواہ الطبرانی عن ثابت البنانی عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ (اس کوطبرانی نے ثابت بنانی سے انہوں نے انس بن مالك سے روایت کیا۔ ت) اور عدواﷲ عامر بن طفیل کفرپر مرا کما فی صحیح البخاری عن اسحٰق بن ابی طلحۃ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ (جیسا کہ صحیح بخاری میں اسحق بن ابی طلحہ سے انہوں نے انس بن مالك سے روایت کیا۔ ت)صحیح بخاری شریف میں ہے :
جعل یحدثھم فاومأ والی رجل فاتاہ من خلفہ فطعنہ[1]۔
یعنی حرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ان کافروں کوپیام اقدس پہنچاتے اور ان سے باتیں فرمارہے تھے کہ انہوں نے کسی کو اشارہ کیا اس نے پیچھے سے آکر نیزہ مارا۔ (ت)
امام حافظ الشان عسقلانی نے فتح الباری میں فرمایا : لم اعرف اسم الرجل الذی طعنہ[2] مجھے اس نیزہ مارنے والے کانام معلوم نہ ہوا۔ زرقانی شرح مواہب میں ہے :
فی الطبرانی من طریق ثابت عن انس ان قاتل حرام بن ملحان اسلم وعامر بن الطفیل مات کافرا کما تقدم انتھی من الفتح[3]۔
طبرانی میں ثابت کے طریق سے حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حرام بن ملحان کاقاتل مسلمان ہوگیا اور عامربن طفیل کفرپر مرا جیسا کہ پہلے فتح الباری سے گزرا انتہی۔ (ت)
سابعاً : ان سب سے قطع نظر کے بعد اس میں ایك غلطی یہ ہے کہ “ جب وہ خط عامرنے پڑھا آگ بگولہ ہوگیا “ ۔ کتب سیر میں تصریح ہے کہ اس خبیث نے فرمان اقدس تك نہیں ۔ سیرت ابن اسحق و سیرت ابن ہشام و مواہب لدنیہ میں ہے : لما اتاہ لم ینظر الی الکتاب[4] (جب اسے حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کا خط ملا تو اس نے خط نہ پڑھا۔ ت)
ثامنا : سخت غلطی فاحش یہ ہے کہ “ منذر کوزندہ قیدکرلیا “ حالانکہ منذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عین معرکہ میں شہید ہوئے ، معالم التنزیلف میں ہے :
قتل المنذر بن عمرواصحابہ الاثلثۃ نفر کانوا فی طلب ضالۃ لھم [5] الخ
منذر بن عمر اور اس کے ساتھی شہید ہوئے صرف وہ تین بچے جوایك گم شدہ کی تلاش میں گئے تھے الخ۔ (ت)
مدارج میں ہے :
تمام اصحاب شہید شدند الامنذر بن عمروباوگفتند اگر خواہی تراامان دہیم اوامان ایشاں راقبول نہ کرد و باایشاں مقاتلہ کردتاشہید شد[6]۔
تمام صحابہ شہید ہوگئے مگر منذر بن عمرو کو انہوں نے کہا اگرتوچاہے توہم تجھے امن دیں مگر اس نے ان کا امن قبول نہ کیا اور ان سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ (ت)
سیرتین ابنائے اسحاق وہشام میں ہے :
لمارأوھم اخذواسیوفھم ثم قاتلوھم حتی قتلوا من عند اخرھم یرحمھم اﷲ
جب کفار نے مسلمانوں کو دیکھا توکفار نے ان سے تلواریں چھین لیں اور پھر ان کوشہید کردیا مگرانہوں نے
الاکعب بن زید اخابن دینار بن النجار فانھم ترکوہ وبہ رمق فارتت من بین القتلی فعاش حتی قتل یوم الخندق شہیدا یرحم اﷲ[7]
کعب بن زید ، دیناربن نجار کے بھائی کو زخمی حالت میں چھوڑدیا اور لاشوں میں سے وہ زندہ رہے اور بعد میں وہ اپنی زندگی میں جنگ خندق میں شریك ہوئے اور وہاں وہ شہید ہوئے ، رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تعالٰی(ت)
مواہب میں ہے : قتلوا الی اخرھم الاکعب بن زید[8] الخ(انہوں نے سب کوشہید کردیا صرف کعب بن زید زندہ بچے الخ۔ ت) خمیس میں ہے : قتلوا من عند اخرھم الاکعب بن زید[9] الخ (انہوں نے کعب بن زید کے علاوہ سب کو موقعہ پرشہید کردیا الخ۔ ت)خود حدیث میں ہے حضور سیدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے خبردی۔
ان اخوانکم لقوا المشرکین فاقتطعوھم فلم یبق منھم احدوانھم قالوا ربنا قومنا انا قدرضینا ورضی عناربنا فانا رسولھم الیکم قدرضوا ورضی عنھم[10] رواہ الحاکم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
تمہارے بھائی مشرکین سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے ان میں سے کوئی نہ بچا اور انہوں نے شہید ہوتے ہوئے یہ دعا کی کہ اے ہمارے رب! ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچادے کہ ہم اﷲتعالٰی سے راضی ہوئے اور اﷲتعالٰی ہم سے راضی ہوا ، حضورعلیہ السلام نے فرمایا میں ان کاپیغام تمہیں پہنچارہاہوں کہ وہ بھی اور اﷲ بھی راضی ہوا۔ اس کو حاکم نے ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا۔ (ت)
فریب دہی عوام : جہالت واغلاط کثیرہ کے ساتھ فریب دہی عوام بھی “ ضروری سوال “ میں ضرورہے :
فریب ۱ : حدیث مذکور ابن حبان ذکر کی جو صراحۃً مطلق تھی کہ رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نمازصبح میں قنوت نہ پڑھتے مگر جب کسی قوم کے نفع یاضرر کی دعا فرمائی ہوتی تومصنف “ ضروری سوال “ نے اس کاترجمہ لکھ کرمعاً جوڑلگادیا “ یعنی سوا اس کے پیمبرخدا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اور کسی مصیبت پرقنوت نہیں پڑھتے تھے “ جس سے عوام سمجھیں حدیث مین کسی خاص مصیبت کاذکرہے اسی کے لئے قنوت پڑھنے کاثبوت ہے
باقی بے ثبوت ، اس مغالطے سے جو فائدہ اٹھاناچاہا اسے یہیں ظاہر بھی کردیا کہ “ اب یہان سے سمجھاگیا کہ کفار ظلم کریں تونمازفجر میں نصرت چاہے ، طاعون یاوبا کے لئے قنوت ثابت نہیں “ حالانکہ ہرابجدخواں عربی بتاسکتاہے یہ محض دھوکادیاہے حدیث میں اصلاً کسی مصیبت خاص کانام نہیں جس کے غیر پرنفی قنوت ہو۔
[1] صحیح بخاری غزوۃ الرجیع ورعل وذکوان الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۵۸۶
[2] فتح الباری شرح البخاری غزوۃ الرجیع ورعل وذکوان الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۸ / ۳۹۱
[3] شرح الزرقانی علی المواہب سریہ بئرمعونہ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۷۶
[4] مواہب لدنیہ سریہ بئرمعونہ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۴۲۶ ، تاریخ الخمیس سریہ منذر بن عمرو الی بئر معونہ مطبوعہ مؤسسۃ شعبان بیروت ۱ / ۴۵۳
[5] معالم التنزیل
[6] مدارج النبوۃ ، سریہ بئرمعونہ ، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۴۴
ف : معالم التنزیل میں منذر بن عمرو کا ذکر دوجگہ (ص۴۱۷ و ۴۴۸) پرنظر سے گزراہے وہاں یہ عبارت نہیں مل سکی البتہ تاریخ الخمیس میں معالم التنزیل کے حوالے س بعینہٖ یہی عبارت نقل کی ہے اس لئے تاریخ الخمیس سے حوالہ نقل کیاہے۔ نذیراحمد
[7] <
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع