دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

ذی ہوش نے یہ بھی نہ دیکھا کہ روایت میں غفار مرفوع ہے نہ منصوب نہ ولید پرعطف کیونکر ممکن اغلاط روایت “ ضروری سوال “ میں واقعہ بئر معونہ بطور خود ذکرکیا جسے بے اصل اغلاط سے بھردیا ، خلاصہ عبارت یہ ہے ایك عامر بیٹا مالك کا دوگھوڑے دو۲ اونٹ پیغمبر خدا   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے پاس ہدیہ لایا حضور نے فرمایا ہم کافر کاہدیہ قبول نہیں کرتے ، وہ اسلام تو نہ لایا مگرانکار بھی نہ کیا اور بولا اے حبیب خدا! میرے پیچھے ایك قوم ہے آپ چند اصحاب ہمراہ دوتوامید کہ وہ سب مسلمان ہوجائیں ، آنحضرت   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  ستریاچالیس جوان انصار عــــہ سے جو سب کے سب قرآن مجید کے حافظ تھے عامر کے ہمراہ کردئیے اور ایك راہبر بھی ہمراہ ہولیا ان

عــــہ : سب انصاری نہ تھے بعض مہاجر تھے خمیس میں ہے : کان اکثرھم من الانصار واربعۃ من المہاجرین[1]  (ان میں اکثر انصار تھے اور چارمہاجرین۔ ت)  (باقی اگلے صفحہ پر)

پرمنذرکوسردار کیا اور بنام عامر بن طفیل ایك خط لکھواکر حوالہ منذر کے کردیا ، یہ صحابہ بئرمعونہ کے قریب پہنچ کر وہیں قیام کیا پھر ایك شخص کے ہاتھ وہ خط عامر بن طفیل کے پاس بھجوادیا ، جب وہ خط عامر بن طفیل نے پڑھا آگ کا شعلہ بن گیا اور جھپٹ کرخط پہنچانے والے کو قتل کرڈالا ، پھراپنے تمام حلیفوں اور قبیلوں کی کمك کے ساتھ اُن صحابہ کوقتل کرڈالا اور منذر کو زندہ قیدکرلیا ، قطع نظر اس سے اوّلاً عامر بن مالك ابوبراء نے “ اے حبیب خدا “ ہرگز نہ کہا کہ یہ خاص کلمہ اسلامی تھا۔

ثانیاً “ : ہمراہ ہولیا “ سے ظاہریہ کہ بطورخود ساتھ ہولیا حالانکہ حدیث میں ہے خود حضوراقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے مطلب سلمی رضی اﷲ تعالٰیعنہ کو رہبری کے لئے ہمراہ فرمادیا تھا۔

فقد اخرج الطبرانی من طریق عبداﷲ ابن لھیعۃ عن ابی الاسود عن عروۃ قال ثم بعث النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المنذر بن عمروالساعدی وبعث معہ المطلب السلمی لیدلھم علی الطریق ،  الحدیث ذکرفی الاصابۃ فی ترجمۃ المطلب[2]۔       

طبرانی نے اس کی تخریج عبداﷲ بن لہیعہ کے طریق سے انہوں نے ابوالاسود انہوں نے عروہ سے روایت کیا ، کہا کہ پھر حضور  عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  نے منذر بن عمرو الساعدی کو بھیجا اور ان کے ساتھ مطلب اسلمی کو بھی بھیجا تاکہ ان کو راستہ بتائیں ، الحدیث۔ اس کو الاصابہ میں مطلب کے عنوان کے تحت ذکرکیا۔ (ت)

ثالثاً  فرمان اقدس خاص بنام عامر بن طفیل نہ تھا بلکہ رؤسائے نجدوبنی عامر کے نام تھا ، خمیس میں ہے : وکتب

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) مدارج میں ہے : اکثرایشاں انصاربودند وبعضے ازمہاجراں [3]  (ان میں اکثر انصارتھے اور کچھ مہاجر تھے۔ ت) نیز خمیس میں ہے :

لم یکن القراء المذکورون کلھم من الانصار بل کان بعضھم من المہاجرین مثل عامر بن فھیرۃ مولی ابی بکر الصدیق ونافع بن بدیل بن ورقاء  الخزاعی وغیرھما رضی اﷲ تعالٰی عنھم[4]۔

مذکور تمام اقراء انصار نہ تھے بلکہ کچھ مہاجربھی تھے ، جیسا کہ عامر بن فہیرہ مولٰی ابوبکرالصدیق اور نافع بن بدیل بن ورقاء خزاعی وغیرہما   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   مہاجرتھے۔ (ت)

کتابا الٰی رؤساء نجد وبنی عامر[5] (اور آپ نے نجد کے رئیسوں اور بنی عامر کے نام خط لکھا۔ ت) مدارج میں ہے : مکتوبے برؤسائے نجدوبنی عامر نوشت [6]۔

رابعاً  حافظ قرآن کے اگریہ معنی کہ قرآن مجید سے کچھ یادتھا تو اس میں ان صحابہ کی کیا خصوصیت ، انہیں قُراّء نام رکھنے کی یہ وجہ نہیں ہوسکتی اور اگریہ مراد کہ جس قدر قرآن عظیم اس وقت اُترا وہ سب اُن سب کو یادتھا تھا تو اس کاکوئی ثبوت نہیں بلکہ انہیں قراّء کہنے کی وجہ یہ کہ شب کودرس وتلاوتِ قرآن مجیدمیں بکثرت مشغول رہتے۔  صحیح بخاری ف میں انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ہے : یتدارسون القراٰن باللیل ویصلون[7] (رات کو قرآن مجید اور نمازپڑھتے۔ ت) عمدۃ القاری کتاب الجہاد باب العون بالمدد میں ہے : سموابہ لکثرۃ قراء تھم[8] (قراء اس لئے انہیں کہاگیا کہ کثرت سے قرآن پاك پڑھتے تھے۔ ت)

خامساً عامربن طفیل کے خاص اپنے قبیلہ بنی عامر نے ہرگز کمك نہ دی بلکہ صاف انکار کردیا کہ تیراچچا عامر بن مالك انہیں اپنی پناہ میں لے چکا ہے ہم اس کاذمہ ہرگز نہ توڑیں گے۔ مواہب لدنیہ میں ہے :

استصرخ علیھم بنی عامر فلم یجیبوہ ،  وقالوا لن تخفرابابراء  ،  وقد عقدلھم عقداً وجواراً [9]۔

عامر بن طفیل نے مسلمانوں کے خلاف بنوعامرقبیلہ کومدد کے لئے آواز دی پس انہوں نے مدد سے انکار کیا اور انہوں نے صاف کہہ دیا ہم تیرے چچا ابوبراء کامعاہدہ نہیں توڑیں گے کیونکہ اس نے ان مسلمانوں کو پناہ دینے کا معاہدہ کر رکھا ہے ۔ ت)

سیرت ابن ہشام میں ہے :

استصرخ علیھم بنی عامر فابوا ان یجیبوہ الی مادعالھم الیہ وقالوا لن نخفر الی اٰخر مامر[10]۔

عامر بن طفیل نے مسلمانوں کے خلاف بنوعامر کواپنی مدد کے لئے پکارا توانہوں نے اس کی مدد کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ ہم تیرے چچا کامعاہدہ نہیں توڑیں گے الخ۔ (ت)

خمیس میں ہے :

استصرخ عامر بن الطفیل بنی عامر علی المسلمین فامتنعوا وقالوا لانخفرذمۃ ابی براء عمک[11] ۱لخ۔

عامر بن طفیل نے بنوعامر کومسلمانوں کے خلاف کاروائی کے لئے آواز دی توانہوں نے انکارکیا اور کہا تیرے چچا ابوبراء کے ذمہ کونہیں توڑیں گے الخ۔ (ت)

مدارج میں ہے : تمامہ بنی عامر ازجنگِ مسلمانان اباآوردند[12] (تمام بنوعامر نے مسلمانوں سے جنگ کرنے سے انکار کردیا۔ ت)

 



[1]   تاریخ الخمیس سریۃ المنذر الٰی بئر معونۃ  مطبوعہ موسسۃ شعبان بیروت ۱ / ۴۵۲

[2]   الاصابہ فی تمییز الصحابۃ بحوالہ الطبرانی ترجمہ عبدالمطلب السلمی ۸۰۲۹ مطبوعہ دارصادربیروت ۳ / ۴۲۵

[3]   مدارج النبوۃ سریہ بئرمعونہ  مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۴۳

[4]   تاریخ الخمیس سریۃ المنذر بن عمروالٰی بئر معونۃ  مطبوعہ مؤسسۃ شعبان بیروت ۱ / ۴۵۲

[5]   تاریخ الخمیس سریۃ المنذر بن عمروالٰی بئرمعونہ مطبوعہ موسسۃ شعبان بیروت ۱ / ۴۵۲

[6]   مدارج النبوۃ سریہ بئر معونہ  مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن