دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

اور اس کاترجمہ کیا “ ہم نے پوچھا انس بیٹے مالك سے یہ کہ مقرر ایك قوم گمان کرتی ہے یہ کہ نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  ہمیشہ قنوت پڑھتے تھے نمازفجرمیں ، سو جواب دیا مالك نے کہ وہ لوگ اپنے گمان میں جھوٹے ہیں سوائے اس کے نہیں کہ قنوت پڑھی آپ نے مہینہ ایک ، سوبھی بددعاکرنے کو اوپرقبیلوں کے قبیلوں سے مشرکین کے “ ۔

اوّلاً محاورہ عرب میں زعم بمعنی مطلق قول بھی شائع یہاں تك کہ صحیح حدیث میں زعم جبریل تك واقع۔

ثانیاً کلام نامحقق یاخلاف تحقیق بھی مراد ہو تویہ حکم اس قائل کے نزدیك ہوتاہے جواسے بلفظ زعم تعبیرکرتاہے اس سے یہ مستفاد نہیں کہ وہ زاعم خود بھی اسے مشکوك یامظنون سمجھتاہے ، زید نے زبردستی یزعمون کے معنی یہ بنالئے کہ جو قنوت فجر کی بقا کے قائل ہیں خود ہی اسے شك وگمان کے مرتبے میں جانتے ہیں اور اسی بنا پر کذبوا کاترجمہ کیا “ کہ وہ اپنے گمان میں جھوٹے ہیں “ یہ نیوجماکراب اس پرفائدہ جڑا ، اس حدیث سے یہ بھی سمجھاجاتاہے کہ زمانہ تابعین میں قنوت کافقط گمان ہی گمان تھا یقینی امرنہ تھا ، پس جتنی روایات ان روایات کے مخالف ہیں وہ سب ظنیات ہونی چاہئیں واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب۔ افسوس کہ جوکہنا چاہاتھا وہ بھی کہہ نہ جانا عقلمند سے پوچھاجائے کہ قائلان قنوت مالکیہ وشافعیہ نے کس دن کہاتھا کہ قنوت فجر یقینی ہے یامانعان قنوت حنفیہ وحنبلیہ کب کہہ سکتے ہیں کہ عدم قنوت قطعی ہے مسائل اجتہادیہ دونوں طرف ظنیات ہوتے ہیں پھر یہ کون سا فائدہ آپ نے نکالا اور اس سے بحث میں کیانفع حاصل ہو۔

ثالثاً اس سب سے قطع نظر کیجئے تو ان قوما یزعمون میں لفظ قوم نکرہ حیزاثبات میں ہے جس کا مفاد صرف اس قدر ہوگا کہ کچھ لوگ طور وہم بقائے قنوت مانتے ہیں ا سے کب لازم ہوا کہ زمانہ تابعین میں سب قائلان قنوت اسے اسی درج میں جانتے ہیں ۔

جہالت۹ : حدیث ام المومنین ام سلمہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  :  

نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن القنوت فی الفجر[1]۔

نبی   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے قنوت فجر سے منع فرمایا :

جس میں تین راوی ضعیف وشدیدالضعیف ہیں ذکرکرکے تضعیف رواۃ کا جواب دیا کہ “ امام صاحب کی تحقیق کو وہ مانع نہیں ۔ “

دوم :  یہ کہ انس بن مالك نے بدعت اور محدث کہا توگمان یہ ہوسکتاہے کہ آپ کو اس نہی کی ضرور خبرہوگی اگرچہ بدعت اور محدث کی جگہ لفظ نہی کانہ ذکرکیاہو اور اسی پراکتفاکیا ، قطع نظر اس سے کہ بدعت یامحدث کے قائل حضرت طارق اشجعی ہیں نہ حضرت انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما توپیداکہنے سے اس گمان کی راہ کدھر سے ملی ضرور انہیں اس نہی کی خبر ہوگی ، انہوں نے صراحۃً نوپیدا ہونے کی وجہ ارشاد فرمادی تھی کہ میں نے سیدعالم وخلفاء کرام صلی اﷲ تعالٰی علیہم وسلم سب کے پیچھے نمازپڑھی ، اے فرزند! وہ نئی نکلی ہے اس میں نہی پراطلاع کی بوبھی نہیں نکلتی ، نہ کہ اس سے گمان ہوکہ ضرورنہی معلوم ہوگی بلکہ انصافاً اس سے یہی متبادر کہ نہی یا تو واقع ہی نہ ہوئی یا ہوئی تو انہیں خبرنہ تھی ورنہ عدم فعل کاذکرنہ کرتے صاف جواب دیتے کہ رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  تو اسے منع فرماچکے ہیں ، جواب مسئلہ میں دلیل اقوی کا ترك کیوں کیاجاتا۔

جہالت۱۰ : ایك حدیث کی سند ذکرکی : عن عبداﷲ بن مسعود   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ، اور ترجمہ میں بھی لکھا “ اس نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی “ عنہما “ سے۔ عالم صاحب کواتنی خبرنہیں کہ صحابیت درکنارمسعود سرے سے مسلمان ہی نہ ہوا ، جاہلیت میں مرا۔ اُسے   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  میں شامل کرنا کیسی جہالت اور دانستہ ہوتو سخت ترآفت۔

جہالت۱۱ : آگے لکھا فتح القدیرمیں تحت حدیث عبداﷲ بن مسعود کے بیان کیاہے چنانچہ

لم یکن انس نفسہ یقنت فی الصبح کما رواہ الطبرانی واذا ثبت النسخ وجب حمل الذی عن انس من روایۃ ابی جعفر اما علی الغلط او علی طول القیام ،  فانہ یقال علیہ ایضا فی الصحیح عنہ علیہ الصلٰوۃ

خود حضرت انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فجرمیں قنوت نہیں پڑھتے تھے اس کوطبرانی نے روایت کیاہے ، اور جب نسخ ثابت ہوگیا تو وہ روایت “ حضرت انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  جو ابوجعفر سے مروی ہے یا تو اسے غلطی پر محمول کیاجائے گا یا طول قیام پر

والسلام افضل الصلٰوۃ طول القنوت ای القیام [2]۔

کیونکہ حدیث صحیح میں اس پرقنوت کااطلاق موجود ہے کہ آپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   نے فرمایا : نماز میں افضل ترین عمل طول قنوت یعنی قیام ہے۔ (ت)

قطع نظر اس سے کہ تحت حدیث فلاں یازیرآیت چناں اہل علم کے محاورہ میں اس معنی پربولاجاتاہے کہ اس آیت وحدیث کی تفسیر وشرح یا اس کی بحث میں ایساکہا ، یہاں مبحوث عنہ حدیث ابی جعفر رازی ہے اسی کے تحت اسی کی بحث میں حدیث ابن مسعود وحدیث طبرانی وغیرہما مذکور ہیں نہ کہ ایك دوسرے کے تحت میں عبارت فتح کاصاف مطلب جسے ہرحرف شناس عربی بے تکلف پہلی ہی نگاہ میں سمجھ لے یہ ہے کہ حدیث ابی جعفر میں جو دوام قنوت مذکورہواممکن ہے کہ وہاں قنوت سے طول قیام مراد ہوکہ لفظ قنوت اس معنی پر بھی بولاجاتاہے دیکھو حدیث صحیح میں ارشاد ہوا کہ بہترنماز طول قنوت ہے یعنی جس میں قیام دیرتك ہو۔ مصنف “ ضروری سوال “ ایسی سلیس عبارت کے واضح معنی کو خاك نہ سمجھا لفظ ایضا کو کہ صراحۃً “ یقال “ کی طرف ناظرتھا اس سے قطع نظر کرکے مابعد سے ملایا اور “ ایضا فی الصحیح “ کوسندجداگانہ ٹھہرایا ولہٰذا لفظ “ ایضا “ پرنشان(ــــ)کہ علامت فعل ہے لگایا اور عبارت کاترجمہ یوں فرمایا “ کیونکہ وہ لفظ قنوت کامقرربولا گیاہے اوپرطول قیام کے ، اور بھی بیچ حدیث کے وہ لفظ قنوت کاآیاہے جومروی ہے آنحضرت   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے کہ افضل ترین نمازوں کی وہ نماز ہے جس میں قنوت یعنی قیام درازہو “ ۔ اس جہالت کی کچھ حد ہے اور ذرایہ حسن ادابھی قابل لحاظ کہ “ بیچ صحیح حدیث کے وہ لفظ قنوت کاآیاہے “ گویایہاں اس کی بحث تھی کہ حدیث میں کہیں لفظ قنوت آیاہی نہیں ۔

جہالت ۱۲ : اسی عبارت فتح کے آخرمیں تھا :

والاشکال نشأ من اشتراك لفظ القنوت بین ماذکر وبین الخضوع والسکوت والدعاء وغیرھا [3]۔

یہاں اشکال قنوت کے ان معانی میں اشتراك کی وجہ سے پیداہواہے یعنی مذکورہ شئی (طول قیام) خضوع ، سکوت اور دعا وغیرہ کے درمیان لفظ قنوت مشترك ہے۔ (ت)

یہاں ماذکر سے مراد وہی طول قیام تھا اور اس کے معطوفات خضوع وسکوت ودعا وغیرہا یعنی قنوت کا لفظ جبکہ ان سب معانی پربولاجاتاہے اس وجہ سے حدیث ابی جعفر میں قائلان قنوت فجر کو اشتباہ پیش آیا اس سے سمجھ لئے حالانکہ مراد طول قیام تھا کہ ہمیشہ نبی   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے نماز فجرمیں قیام طویل فرمایا یہ ایسے صاف معنی ہیں کہ عربی کاہرمبتدی بے تامل سمجھ لے ، اب مصنف صاحب کا علم دیکھئے عبارت صرف “ ماذکر “ تك نقل کی اور ترجمہ فرمادیا “ اور جو مشکلیں پیداہوئی ہیں وہ لفظ قنوت کے مشترك المعنی کے سبب اور وجہ سے بیان اس چیز کے جومذکور ہوئی یعنی اپنے محل پر پوراہوا ترجمہ فتح القدیرکی عبارت کا “ گویا آپ کے نزدیك بین صرف شے واحد پر داخل ہوتاہے معطوف کی حاجت ہی نہیں ماذکر کے معنی یہ کہ اپنے محل پر مذکورہوئی ہے اسی پرمطلب تمام ہوگیا۔

 



[1]   سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی القنوت فی صلوٰۃ الفجر مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۸۹

[2]   فتح القدیر باب صلوٰۃ الوتر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۷۷

[3]   فتح القدیر باب صلوٰۃ الوتر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۷۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن