30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں نظر دو طرف جاتی ہے اگر معنی آیت مطلقًا ممانعت اور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا تارك فرمانا بربنائے ارتقاع شریعت ہو یعنی فجر میں قنوت اصلا مشروع نہ رہی تو عموم نسخ ثابت ہوگا اور اب قنوت نازلہ بھی منسوخ ٹھرے گی ، اور اگر معنی آیت ان خاص لوگوں پر دعائے ہلاکت سے ممانعت ہوکہ ان میں بعض علم الہی میں مشرف باسلام ہونیوالے تھے اور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا ترك انہیں کے بارے میں ہو ، نہ مطلقًا تو صرف نسخ عموم ہی ثابت ہوگا اور قنوت نازلہ مشروع رہے گی ، یہی دونوں نظریں امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر پھر ان کی تبعیت سے علامہ محقق حلبی نے شرح کبیر میں افادہ فرمائیں ، ان دونوں کتابوں اور مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں کہے :
واذا ثبت النسخ وجب حمل الذی عن انس من روایۃ ابی جعفر ( ھو الرازی ) و نحوہ ( کدینار بن عبداﷲ خادم انس رضی اﷲ تعالی عنہ مازال رسول ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ سلم یقنت فی الصبح حتی فارق الدنیا) اما علی الغلط ( لان الرازی کثیر الوھم قالہ ابوزرعۃ و دینار وقد قیل فیہ ماقیل ) او علی طول القیام فانہ یقال علیہ ایضا او یحمل علی قنوت النوازل ویکون قولہ (ا ے قول انس رضی اﷲ تعالی عنہ ) ثم ترك فی الحدیث الاخر (المراد فی الصحاح ) یعنی الدعا علی اولئك القوم لامطلقا [1] اھ مختصرا مزید منی مابین ھلالین
جب نسخ ثابت ہو تو اس روایت کو جسے حضرت انس سے ابوجعفر( رازی) یا اس کی مثل دیگر روایات( مثلا : دینار بن عبداﷲ حضرت انس کے خادم ہیں سے مروی ہے کہ رسالتماب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم وصال تك فجر کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے ) یا غلطی پر محمول کیا جائے گا ( کیونکہ بقول رازی ابو زرع کثیر الوہم ہیں ، اور دینار کے بارے میں بھی جو کچھ کہا یا ہے وہ ہی کچھ ہے ) یا طول قیام پر محمول کیا جائے گا کیونکہ قنوت کا اطلاق اس پر بھی ہوتا ہے یا اسی قنوت نازلہ پر محمول کیا جائے گا اور ان ( حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ ) کا قول دوسری حدیث (جو صحح میں موجود ہے ) میں کہ پھر اسے ترك کردیا گیا یعنی قوم کے خلاف دعا ترك کردی نہ کہ ہر دعا اھ اختصار ا اور میری طرف سے وہ اضافہ ہے جو ہلالین کے درمیان ہے ( ت)
نیزکتابین مذکورین میں ہے :
فیجب کون بقاء القنوت فی النوازل مجتھدا فیہ وذلك ان ھذا الحدیث (ای حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ بطریقی حماد بن ابی سلیمان وابی حمزۃ القصاب عن ابراھیم عن علقمۃ عنہ قال لم یقنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الصبح الاشھر اثم ترکہ لم یقنت قبلہ ولابعدہ ولفظ حمادلم یرقبل ذلك ولابعدہ) لم یؤثر عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من قولہ ان لاقنوت فی نازلۃ بعد ھذہ ، بل مجرد العدم بعدھا فیتجہ الاجتھاد بان یظن ان ذلك انما ھولعدم وقوع نازلۃ بعدھا تستدعی القنوت فتکون شرعیۃ مستمرۃ وھو محمل قنوت من الصحابۃ بعد وفاتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، او ان یظن رفع الشرعیۃ نظرا الی سبب ترکہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھو انہ لما نزل قولہ تعالٰی لیس لك من الامر شیئ ترک۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ ١ھ بزیادۃ[2]۔
مصائب کے وقت قنوت پڑھنے کوباقی رکھنے کے معاملے کو اجتہادی قراردینا واجب ہے کیونکہ یہ حدیث (یعنی حدیث ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دوطریقوں سے مروی ہے حماد بن ابی سلیمان ، ابوحمزہ قصاب نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے کہ رسالت مآب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ایك ماہ تك صبح کی نماز میں قنوت پڑھا پھر آپ نے اسے ترك فرمادیا اس سے پہلے بھی آپ نے قنوت فجر میں کبھی نہ پڑھی اور نہ بعد میں ۔ حماد کے الفاظ یہ ہیں کہ اس سے پہلے بھی نہ دیکھا اور نہ بعد میں اور نہ ہی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے یہ قول منقول ہے کہ شدید مصیبت میں اس کے بعد قنوت نہیں پڑھی جائے گی بلکہ اس کے بعد محض عدم منقول ہوا لہٰذا اس معاملہ میں اجتہاد ہوگا بایں طور کہ غالب گمان ہے کہ اس کے بعد کوئی ایسی شدیدمصیبت ہی نازل نہ ہوئی جو قنوت کا تقاضا کرتی لہٰذا قنوت دائماً جائز ہوگی اور یہی محمل ہے اس قنوت کا جو حضور علیہ السلام کے صحابہ رضوان اﷲتعالٰی علیہم سے منقول ہے یابایں طور کہ گمان یہ ہے کہ اس کاجواز ختم ہونا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے ترك کے باعث ہے ، سبب یہ کہ جب اﷲتعالٰی کاقول لیس لك من الامر شیئ نازل ہو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اس کوترك کردیا واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۱ھ بزیادۃ۔ (ت)
روشن علم تو یہ ہے مگرمصنف “ ضروری سوال “ کی سخت نافہمی کہ دومتنافی باتوں کوایك کردیا اور کچھ نہ سمجھا ، خود اسی کا ایك کلام دوسرے کو رَد کردے گا مسلك تو وہ اختیار کیا کہ قنوت نازلہ باقی ہے منسوخ نہیں اگرچہ نازلہ کے معنی خاص فتنہ وفساد وغلبہ کفار کے لئے ایك جگہ لکھا عندالنازلہ بدعت نہیں مداومت بدعت اوردین میں نیاکام ہے۔ پھرلکھا “ دلیل اوپرنسخ قنوت کے مداومت کے طوپر اوردلیل واسطے جواز قنوت کے عندالنازلہ “ پھرلکھا مداومت کے طور پرمنسوخ اور عندلنازلہ غیرمنسوخ “ ۔ اور مزے سے وہی آیہ کریمہ اور وہی حدیث بحوالہ صحیحین ذکرکرکے کہہ دیا “ اسی آیت سے اور حدیث متفق علیہ سے نسخ قنوت عموماً ثابت ہوا سوائے قنوت وترکے “ ذی ہوش سے پوچھاجائے کہ اس حدیث سے کس چیز پرقنوت مذکورتھی ، نازلہ پر اور نزول آیت کس قنوت کے بارے میں ہوا ، قنوت نازلہ میں ، اگر آیت وحدیث سے اس کانسخ ثابت مانتاہے تو قنوت نازلہ کہاں باقی رہی ، وہ ہی توصراحۃً ان سے منسوخ ہوئی ، یہ طرفہ تماشا ہے کہ وہی منسوخ وہی باقی ، ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
جہالت۳ : حدیث طارق اشجعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دربارہ انکار قنوت فجر(جس طرح معمول شافعیہ ہے) نسائی نے اس طرح روایت کی کہ میں نے حضورسیدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم وخلفائے اربعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے پیچھے نماز پڑھی کسی نے قنوت نہ پڑھی وہ بدعت ہے[3]۔ اور ترمذی و ابن ماجہ نے یوں کہ ان کے صاحبزادے سعدابومالك نے اُن سے پوچھا آپ نے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم وخلفائے اربعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے پیچھے نمازیں پڑھیں کیا وہ فجر میں قنوت پڑھتے تھے؟ فرمایا : نئی نکالی ہوئی ہے۔ [4]۔ ایك ہی حدیث مضمون ، ایك ہی صحابی ایك ہی مخرج اور مصنف “ ضروری سوال “ نے اسے بلفظ اول ذکرکرکے نسائی و ابن ماجہ و ابن ترمذی سب کی طرف نسبت کیا اور لفظ دوم کو بے نسبت چھوڑکرکہہ دیا : “ ان دونوں حدیثوں میں لفظ بدعت اور محدث کاواردہے “ ۔ ایسی حدیث کو دوحدیثیں کہنا اصطلاح فقہادرکنار اصطلاح محدثین پربھی ٹھیك نہیں آسکتا یہ زید کی بے خبری وغفلت ہے۔
جہالت ۴ : قنوت مذکورہ ائمہ شافعیہ وائمہ مالکیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کوحدیث مذکور سے بدعت بتاکر آگے حاشیہ جمایا : “ اورحکم بدعت کایہ ہے کہ کل محدث بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار “ (ہرنوپیداچیز بدعت ہے اور ہربدعت گمراہی ہے اور ہرگمراہی دوزخ میں جائے گی۔ ت) قطع نظر اس سے کہ جملہ اولٰی حکم بدعت نہیں ، حکم بہ بدعت ہے ، اجتہادیات ائمہ دین کو ایسے احکام کاموردقراردیں کیسی بے باکی وجرأت ہے حاشاائمہ کرام اہلسنت کاکوئی مسئلہ ضلالت وفی النار کامصداق نہیں وہ سب حق وہدایت وسبیل جنت ہے۔
جہالت ۵ تا ۸ : حدیث عاصم بن سلیمن ذکرکی :
قلنا لانس بن مالك ان قوما یزعمون ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لم یزل یقنت فی الفجر فقال کذبوا انما قنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم شھرا واحدا یدعو علی احیاء من احیاء المشرکین[5] ۔
[1] فتح القدیر باب صلوٰۃ الوتر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۷۹ ، مرقاۃ شرح مشکوۃ باب القنوت الفصل الثانی مطبوعہ مکتبۃ ادادیہ ملتان۳ / ۱۸۲
[2] فتح القدیر باب الصلوۃ الوتر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۷۹
[3] سنن النسائی باب لعن المنافقین فی القنوت مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۱۲۸
[4] جامع الترمذی باب فی ترك القنوت مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۱ / ۵۳ ، سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی القنوت فی صلوٰۃ الفجر مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۸۹
[5] مرقات شرح مشکوٰۃ بحوالہ قصاب باب القنوت فصل ثانی مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ / $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع