دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

جامعہ وابن ابی الدنیا فی التھجد و ابن خزیمۃ فی صحیحہ والحاکم فی المستدرك وصححہ والبیھقی فی سننہ عن ابی امامۃ الباھلی واحمد والترمذی وحسنہ والحاکم والبیھقی عن بلال والطبرانی فی الکبیر عن سلمان الفارسی وابن السنی عن جابر بن عبدالله وابن عساکر عن ابی الدرداء رضی الله تعالٰی عنھم اجمعین۔                                              

ابن ابی الدنیا نے کتاب التہجد ، ابن خزیمہ نے اپنی صحیح اور حاکم نے مستدرك میں روایت کرکے صحیح کہا ، اور بیہقی نے سنن میں حضرت ابوامامہ باہلی سے ، اور احمد اور ترمذی نے صحیح قراردیتے ہوئے روایت کیا ، حاکم اور بیہقی نے حضرت بلال  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیاہے اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت سلمان فارسی سے ، اور ابن سنی نے حضرت جابر بن عبدالله سے اور ابن عساکر نے حضرت ابودرداء   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  اجمعین سے روایت کیاہے۔

توفوت جماعت کا الزام تہجد کے سررکھنا قرآن وحدیث کے خلاف ہے اگرمیزان شرع مطہر لے کر اپنے احوال وافعال تولے تو کھل جائے کہ یہ الزام خود اسی کے سرتھا بھلا یہ تہجد وقیلولہ وہ ہیں جو اس نے خود ایجاد کئے جب تو انہیں تفویت شعارعظیم اسلام کے لئے کیوں عذربناتاہے اور اگر وہ ہیں جو حضورسیدعالم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے قولًا وفعلًا منقول ہوئے تو بتائیے کہ حضوراقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے کب ایسے تہجد وقیلولہ کی طرف بلایا جن سے جماعت فریضہ فوت ہو ، کیاقرآن وحدیث ایسے ہی تہجد کی ترغیب دیتے ہیں ؟ کیا سلف صالح نے ایسے ہی قیام لیل کئے ہیں ؟ حاشا وکلاّ   ؎

ترسم نہ رسی بکعبہ اے اعرابی

کیں رہ کہ تومیروی بترکستان است

(اے اعرابی! مجھے ڈر ہے کہ تو کعبہ کونہیں پہنچے گا کیونکہ جس راستہ پر تو چل رہاہے وہ ترکستان کوجاتاہے)

یاہذا سنت اداکیاچاہتاہے تو بروجہ سنت اداکر ، یہ کیا کہ سنت لیجئے اور واجب فوت کیجئے ، ذرابگوش ہوش سن اگرچہ حق تلخ گزرے ، وسوسہ ڈالنے والے نے تجھے یہ جھوٹا بہانہ سکھایا کہ اسے مفتیان زمانہ پرپیش کرے جس کا خیال ترغیبات تہجد کی طرف جائے تجھے تفویت جماعت کی اجازت دے جس کی نظرتاکیدات جماعت پرجائے تجھے ترك تہجد کی مشورت دے کہ من ابتلی بلیتین اختاراھونھما (دوبلاؤں میں مبتلا شخص ان دو میں سے آسان کو اختیار کرے۔ ت) بہرحال مفتیوں سے ایك نہ ایك کے ترك کی دستاویز نقد ہے مگرحاشاخدام فقہ وحدیث نہ تجھے تفویت واجب کا فتوٰی دیں گے نہ عادی تہجد کوترك تہجد کی ہدایت کرکے ارشاد حضور سید الاسیاد  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم :

یاعبدالله لاتکن مثل فلان کان یقوم اللیل فترك قیام اللیل[1] رواہ الشیخان عن عبدالله بن عمر وبن العاص رضی الله تعالٰی عنھما۔

اے عبدالله ! فلاں شخص کی طرح نہ ہو جو رات کا قیام کرتاتھا مگر اب اس نے ترك کردیا۔ اسے بخاری و مسلم نے حضرت عبدالله بن عمروبن عاص  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کیاہے۔ ت)کاخلاف کریں گے۔

یہ اس لئے کہ وہ بتوفیقہ عزوجل حقیقت امر سے آگاہ ہیں ان کے یہاں عقل سلیم ونظرقدیم دوعادل گواہ شہادت دے چکے ہیں کہ تہجد وجماعت میں تعارض نہیں ان میں کوئی دوسرے کی تفویت کاداعی نہیں بلکہ یہ ہوائے نفس شریر وسوئے طرزتدبیر سے ناشی ہوا  یا ھذا اگر تو وقت جماعت جاگتاہوتا اور بطلب آرام پڑارہتا ہے جب توصراحۃً آثم وتارك واجب ، اور اس عذرباطل میں مبطل وکاذب ہے۔ سیدعالم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :

الجفاء کل الجفاء والکفر والنفاق من سمع منادی الله ینادی الی الصلٰوت فلایجیبہ[2]۔   حدیث حسن قدذکرنا تخریجہ ولفظ الطبرانی ینادی بالصلاۃ ویدعو الی الفلاح[3]۔

ظلم پورا ظلم اور کفر اور نفاق ہے کہ آدمی الله کے منادی کو نماز کی طرف بلاتا سنے اور حاضر نہ ہو۔ یہ حدیث حسن ہے اس کی تخریج کاذکر ہم نے پیچھے کردیا۔ طبرانی کے الفاظ یوں ہیں : “ نماز کی طرف بلانے والے اور فلاح کی دعوت دینے والے کوسنے “ ۔

اور اگرایسا نہیں تو اپنی حالت جانچ کہ یہ فتنہ خواب کیونکر جاگا اور یہ فساد عجاب کہاں سے پیدا ہو اس کی تدبیر کر۔ کیا توقیلولہ ایسے تنگ وقت کرتاہے کہ وقت جماعت نزدیك ہوتاہے ناچارہوشیار نہیں ہونے پاتا ، یوں ہے تواول وقت خواب کر ، اولیائے کرام قدسنا الله تعالٰی باسرارہم نے قیلولہ کے لئے خالی وقت رکھا ہے جس میں نماز وتلاوت نہیں یعنی ضحوہ کبرٰی سے نصف النہار تک ، وہ فرماتے ہیں چاشت وغیرہ سے فارغ ہوکر خواب خوب ہے کہ اس سے تہجد میں مدد ملتی ہے اور ٹھیك دوپہر ہونے سے کچھ پہلے جاگناچاہئے کہ پیش از زوال وضو وغیرہ سے فارغ ہو کر وقت زوال کہ ابتدائے ظہر ہے ذکروتلاوت میں مشغول ہو۔  امام اجل شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عوارف شریف میں فرماتے ہیں :

النوم بعد الفراغ من صلاۃ الضحٰی وبعد الفراغ من اعداد اخر من الرکعات حسن قال سفٰین کان یعجبھم اذا فرغوا ان یناموا طلباللسلامۃ وھذا النوم فیہ فوائد ،  منھا انہ یعین علٰی قیام اللیل (الی قولہ قدس سرہ) وینبغی ان یکون انتباھہ من نوم النھار قبل الزوال بساعۃ حتی یتمکن من الوضوء والطھارۃ قبل الاستواء بحیث یکون وقت الاستواء مستقبل قبلۃ ذاکرا اومسبحا اوتالیا [4] الخ                                            

نماز چاشت سے فراغت کے بعد اور اس کے بعد کی مقررہ تعداد کی رکعتیں اداکرکے سونا اچھا اور مناسب ہے۔ سفیان ثوری نے فرمایا کہ صوفیہ کرام جب نماز واوراد سے فارغ ہوجاتے تو سلامتی اور عافیت کے لئے سونے کو پسند کرتے تھے اور اس (دوپہر سے قبل) سونے میں متعدد فوائد ہیں ان میں سے ایك رات کے قیام (شب بیداری) میں مدد ملتی ہے۔ (آگے چل کر شیخ قدسرہ ، نے) فرمایا : طالب حقیقت کوچاہئے کہ زوال سے کچھ وقت پہلے نیند سے بیدارہوجائے تاکہ استواء سے پہلے وضو اور طہارت سے فارغ ہوکر استواء کے وقت (جوابتدائے ظہرہے) قبلہ رخ ہوکر ذکر یاتسبیح یاتلاوت میں مصروف ہوجائے الخ(ت)

ظاہر ہے کہ جو پیش اززوال بیدار ہولیا اس سے فوت جماعت کے کوئی معنی ہی نہیں ۔ کیااس وقت سونے میں تجھے کچھ عذر ہے ، اچھاٹھیك دوپہر کو سو مگرنہ اتنا کہ وقت جماعت آجائے ، ایك ساعت قلیلہ قیلولہ بس ہے ، اگرطول خواب سے خوف کرتاہے ۱تکیہ نہ رکھ بچھونا نہ بچھا کہ بے تکیہ وبے بستر سونا بھی مسنون ہے ، ۲سوتے وقت دل کوخیال جماعت سے خوب متعلق رکھ کہ فکر کی نیند غافل نہیں ہوتی ، ۳کھانا حتی الامکان علی الصباح کھاکہ وقت نوم تك بخارات طعام فروہولیں اور طول منام کے باعث نہ ہوں ، ۴سب سے بہتر علاج تقلیل غذا ہے ، سید المرسلین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :

مامَلأَ  اٰدِمیّ وعاء شرًا من بطنہ بحسب ابن اٰدم اکلاتُ یقمن صلبہ فان کان لامحالہ فثلث لطعامہ وثلث

آدمی نے کوئی برتن پیٹ سے بدتر نہ بھراآدمی کو بہت ہیں چندلقمے جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھیں اور اگر یوں نہ گزرے توتہائی پیٹ کھانے کے لئے تہائی

لشرابہ وثلث لنفسہ[5]۔  رواہ الترمذی وحسنہ وابن ماجۃ وابن حبان عن المقدام بن معد یکرب رضی الله تعالٰی عنہ۔

پانی تہائی سانس کورکھے ، اسے ترمذی نے روایت کرکے حسن کہا۔ ابن ماجہ اور ابن حبان نے حضرت مقدام بن معدیکرب  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیاہے۔

 



[1]    صحیح البخاری باب مایکرہ من ترك قیام اللیل الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵۴

[2]    مسند احمد بن حنبل حدیث معاذ بن انس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۴۳۹

[3]    المعجم الکبیر ازمعاذبن انس حدیث ۳۹۴ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۲۰ / ۱۸۳

[4]   عوارف المعارف ملحق احیاء العلوم الباب الخٰمسون فی ذکر العمل فی جمیع النہار  مطبوعہ مطبع المشہد الحسینی قاہرہ مصر ص۱۹۵

[5]   جامع الترمذی باب ماجاء فی کراہیۃ کثرۃ الاکل مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۶۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن