دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

سختی کے لئے قنوت ہمارے نزدیك نمازفجر سے خاص ہے۔

مرقاۃ شرح مشکوٰۃمیں ہے :

قال الخطابی فیہ دلیل علی جواز القنوت فی غیرالوتر قلت لکن یقید بما اذا نزلت نازلۃ و حینئذ لاخلاف فیہ[1]۔

یعنی نماز فرض میں قنوت خاص اس صورت میں ہے جب کوئی سختی اُترے اس وقت اس میں خلاف نہیں ،

کلام یہاں مسئلہ قنوت نوازل اور اس کے اجماعی یاخلافی ہونے کے بحث میں نہیں ۔

وقد تقدم عن الشرنبلالی والحلبی و نوح اٰفندی والطحطاوی بنسبۃ الی الجمہور المشعرۃ بحصول خلاف و افادالامام ابن الھمام فی الفتح وتبعہ الحلبی فی الغنیۃ ان قنوت النوازل امر

پہلے شرنبلالی ، حلبی ، نوح آفندی اور طحطاوی سے جمہور کی نسبت گزرا جواختلاف کی طرف مشعرہے ، امام ابن ھمام نے فتح اور حلبی نے ان کی اتباع میں غنیہ میں کہا کہ قنوت نازلہ اجتہادی معاملہ ہے اور دونوں طرف کے دلائل

مجتھد فیہ وذکر کلام النظرین۔

ذکرکئے۔ (ت)

کلام اس میں ہے کہ اولا ان سب عبارات میں نازلہ ، بلیہ ، حادثہ سب لفظ مطلق ہیں کسی میں خاص فتنہ وغلبہ کفار کی تخصیص نہیں ، نازلہ ہرسختی زمانہ کو کہتے ہیں جولوگوں پرنازل ہو۔ اشباہ میں ہے :

قال فی المصباح النازلۃ المصیبۃ الشدیدۃ تنزل بالناس انتھی وفی القاموس النازلۃ الشدیدۃ انتھی وفی الصحاح النازلۃ الشدیدۃ من شدائد الدھر تنزل بالناس[2] انتھی

مصباح میں ہے کہ قنوت نازلہ اس وقت پڑھی جائے گی جب لوگوں پرشدید قسم کی مصیبت نازل ہو انتہی ، قاموس میں ہے نازلہ کامعنی شدیدۃ انتہی ، صحاح میں ہے کہ نازلہ اسے کہتے ہیں جو شدائد دہرمیں لوگوں پرنازل ہوں ۔ انتہی(ت)

خود مصنّفِ “ ضروری سوال “ کو اقرارہے کہ عندنا النازلۃ (سخت مصیبت کے وقت۔ ت) کی قید سے ہرسختی سمجھی جاتی ہے بااینہمہ برخلاف اطلاقات علماء اپنی طرف سے خاص فتنہ وفساد وغلبہ کفار کی قیدلگانا اور کہنا کہ “ ہرایك نازلہ نہیں “ کلام علمامیں تصرف بیجا ہے۔

ثانیاً “ میں اطلاق سے احتجاج کرتاہوں “ کلمات علماء میں صاف تعمیم موجود ہے عامہ عبارت مذکورہ دیکھئے لفظ نازلۃ یا بلیۃ نکرہ موضع شرط میں واقع ہوا کہ اگرکوئی سختی یا کسی قسم کی بلاآئے تونمازفجر میں قنوت پڑھے یہ صراحۃً ہرمصیبت ناس کو عام ہے “ لما نصوا ان النکرۃ فی حیزالشرط تعم “ (کیونکہ علماء نے تصریح کی ہے کہ نکرہ شرط کے تحت ہو توعام ہوتاہے۔ ت) تو زید کا ان کے معنی میں وہ حکم لگادینا کلمات علماء کابگاڑنا بدلناہے۔

ثالثاً ابن حبان نے اپنی صحیح بالتقاسیم والانواع میں بطریق ابراہیم بن سعد عن الزہری عن سعید و ابی مسلمہ حضرت ابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کی :

قال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایقنت فی صلٰوۃ الصبح الا ان یدعوا لقوم او علی قوم[3]۔

رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نمازِ صبح میں قنوت نہ پڑھتے مگرجب کسی قوم کے لئے ان کے فائدے کی دعافرماتے یا کسی قوم پر ان کے نقصان کی دعافرماتے۔

فتح القدیر و غنیہ و مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرمایا :

وھو سند صحیح[4]

یہ سند صحیح ہے۔ خطیب بغدادی

نے کتاب القنوت میں بطریق محمدبن عبداﷲ الانصاری ثناسعید بن ابی عروبۃ عن قتادہ حضرت انس بن مالك   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کی :

ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان لایقنت الا اذا دعا لقوم اودعا علی قوم[5]۔

نبی   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  قنوت نہ پڑھتے مگرجب کسی قوم کے لئے یا کسی قوم پردعا فرمانی ہوتی۔

کتب ثلٰثۃ مذکورہ میں ہے :

ھذا سند صحیح قالہ صاحب تنقیح التحقیق[6]

یہ سند صحیح ہے صاحب تنقیح التحقیق نے اس کی تصریح کی۔

امام زیلعی نصب الرایہ میں یہ دونوں حدیثیں ذکرکرکے فرماتے ہیں :

قال صاحب التنقیح وسند ھذین الحدیثین صحیح وھما نص فی ان القنوت مختص بالنازلۃ[7] ۔

یعنی صاحب تنقیح نے کہا ان دونوں حدیثوں کی سند صحیح ہے اور ان میں صاف تصریح ہے کہ قنوت وقت مصیبت کے ساتھ خاص ہے۔

یہ دونوں حدیثیں بھی مطلق ہیں ان میں کوئی تخصیص فتنہ وغلبہ کفار کی نہیں اور شك نہیں کہ مثلا رفع طاعون ، دفع وبا ، زوال قحط کے لئے دعابھی “ دعا لقوم “ کے اطلاق میں داخل کہ یہ بھی مسلمانوں کے لئے دعائے نفع ہے ، توصحیح حدیثوں سے اس کا جواب ثابت ہوا۔

فان اعتل بحمل المطلق علی المقید ،  قلنا لیس ھذا محلہ فان ذکر واقعۃ عین داخلۃ فی اجمال بیان لایحصرہ فیھا عند احد علی انہ انما ھو مسلك الشافعیۃ وانت تظھر من نفسك الاعتماد علی مذھب الحنیفۃ وقد انبأت فی غضون کلامك انك ھھنا بصدد اثبات مذھبھم وصرحت فی اٰخر الرسالۃ انھا علی اصول مذھب                        

 



[1]   مرقاۃ شرح مشکوٰۃ  باب القنوت ، الفصل الاول مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ / ۱۷۹

[2]   الاشباہ والنظائر فائدہ فی الدعاء لرفع الطاعون مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۶۳۔ ۲۶۲

[3]   مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب القنوت الفصل الثانی مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان ،  ۳ / ۱۸۲

[4]   مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب القنوت الفصل الثانی مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان ۳ / ۱۸۲

[5]   مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب القنوت الفصل الثانی مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان ۳ / ۱۸۲

[6]   مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب القنوت الفصل الثانی مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان ۳ / ۱۸۲

[7]   نصب الرایہ لاحادیث الہدایۃ باب احادیث القنوت فی الفجر مطبوعہ مکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۲ / ۱۳۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن