30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب :
اگرچہ قرآن عظیم وتہلیل وتکبیر وتسبیح و ذکرشریف حضورپرنورسیدالعالمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سب ذکرالٰہی ہیں کریمہ ورفعنا لك ذکرك کی تفسیرمیں حدیث قدسی ہے :
جعلتك ذکرا من ذکری فمن ذکرك فقد ذکرنی[1]۔
یعنی رب العزت عزوجل اپنے حبیب اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے فرماتاہے میں نے تمہیں اپنے ذکر میں سے ایك ذکربنایا توجس نے تمہاراذکر کیا اس نے میراذکرکیا۔ (ت)
مگرقرآن عظیم اعظم طرق اذکار الٰہیہ ہے حدیث قدسی میں سیدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں رب عزوجل فرماتاہے :
من شغلہ القراٰن عن ذکری ومسألتی اعطیتہ افضل من اعطی السائلین ، وفضل کلام اﷲ علی سائر الکلام
جسے قرآن عظیم میرے ذکر ودعا سے روکے یعنی بجائے ذکرودعا قرآن عظیم ہی میں مشغول رہے ، اسے مانگنے والوں سے بہترعطاکروں اور کلام اﷲ کافضل
کفضل اﷲ علی خلقہ[2] ۔ رواہ الترمذی وحسنہ ۔
سب کلاموں پرایساہے جیسا اﷲعزوجل کا فضل اپنی مخلوق پر۔ اسے ترمذی نے روایت کرکے حسن قراردیاہے۔ (ت)
خصوصًا تراویح کاایك ختم کہ سنت جلیلہ ہے اور مجلس میلاد مبارك عمل مستحبات اور سنت مستحب سے بلاشبہہ افضل ، ہاں اگرکسی شخص کے لئے کوئی عارض خاص پیدا ہو تو ممکن کہ ذکرشریف سننا اس کے حق میں قرآن مجید سننے بلکہ اصل تراویح سے بھی اہم وآکد ہوجائے مثلًا اس کے قلب میں عدورجیم نے معاذاﷲ حضورپرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی طرف سے کچھ وساوس ڈالے اور ایك عالم دین مجلس مبارك میں ذکر اقدس فرمارہاہے اس کاسننا اس وساوس کو دور کرے گا اور دل میں معاذاﷲ معاذاﷲ اُن کے جم جانے کااحتمال ہے توقطعًا اس پرلازم ہوگا کہ ذکرشریف میں حاضرہوکہ محبت وتعظیم حبیب کریم علیہ وعلٰی آلہٖ افضل الصلوٰۃ والتسلیم اصل کارومدارایمان ہے ، معاذ اﷲ یہ نہ ہو توپھر نہ قرآن مفید نہ تراویح نافع ، نسأل اﷲ العفو والعافیۃ (ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اور درگزر کاسوال کرتے ہیں ۔ ت)
مسئلہ ۱۰۸۴ : از بنگالہ ضلع چاٹگام تھانہ راؤجان موضع پھمرا مرسلہ مولوی مہدی صاحب ۱۴شول ۱۳۲۱ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندرین مسئلہ کہ درماہ رمضان المبارك جماعت وترنہ نمودن وہرروز ازجماعت موجودہ بیروں رفتن شرعًا جائز است یانہ وتارك جماعت وتررافاسق وفاجر و غیرآں خواند شودیانہ؟ حسب شرع چہ حکم ست۔ بیّنوتوجروا۔
اس مسئلہ میں علمائے دین کیافرماتے ہیں کہ ماہ رمضان میں جماعت وتر میں شرکت نہ کرنا اور ہرروز جماعت موجودہ سے باہر چلاجانا شرعًا جائز ہے یانہیں ؟ وتر کی جماعت کے تارك کوفاسق وفاجر وغیرہ کہاجاسکتاہے یانہیں ؟ شریعت کاحکم کیاہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب :
جماعت وترنہ واجب ست نہ مؤکد در ترك اوہیچ بزہ کاری نیست بلکہ اختلاف درانست کہ افضل جماعت ست یاوتر تنہا گزاردن فی الدرالمختار ھل الافضل فی الوتر[3]
جماعت وترنہ واجب نہ سنت مؤکدہ ، اس کے ترك میں کوئی گناہ نہیں بلکہ اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ جماعت افضل ہے یاتنہا وتراداکرنا۔ درمختارمیں ہے کہ کیا وترجماعت کے ساتھ افضل
الجماعۃ ام المنزل تصحیحان[4]١ھ واﷲ تعالٰی اعلم
ہیں یاگھرپرتنہاپڑھنا ، دونوں قولوں کی تصحیح ہوئی ہے الخ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۸۵ : ازموضع خوردمؤ ڈاك خانہ بدوسرائے ضلع بارہ بنکی مسئولہ سیدصفدرعلی صاحب ۲۳محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ کچھ قید ہےکہ نماز وتر کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے ساتھ سورہ اخلاص ہی ضم ہو دوسری سورۃ نہ ہو؟
الجواب :
کوئی قیدنہیں اختیارہے جوسورۃ چاہے پڑھے یاچھوٹی آیتیں یابڑی ایك آیت۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۰۸۶ : ازمولوی عبداﷲصاحب مدرس مدرسہ منظرالاسلام بریلی ۹صفر ۱۳۳۹ھ ، وتروں میں مشابہ سے دعائے قنوت بھول جانے پرکیا پڑھناچاہئے؟ اور ایسی حالت میں سجدہ سہو کرناہوگا یانہیں ؟
الجواب :
ہردعا پڑھنے سے واجب قنوت ساقط ہوجاتاہے ، ہاں اگربالکل کوئی دعابھول کرنہ پڑھی تو سجدہ سہو کرے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۸۷ : از شہر مرادآباد محلہ مغلپورہ حصہ اول مرسلہ مولینا مولوی سیداولادعلی صاحب ۹ / رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وتروں کے مسبوق کواپنے فوت شدہ رکعت میں قنوت پڑھنی چاہئے یانہیں ؟
الجواب :
مسبوق کی اگر وتر کی تینوں رکعتیں فوت ہوئیں اخیرمیں قنوت پڑھے اور اگرایك رکعت بھی ملی ہے اگرچہ تیسری کے رکوع ہی میں شامل ہواتو اب باقی نماز میں قنوت نہ پڑھے گا۔ درمختارمیں ہے :
المسبوق فیقنت مع امامہ فقط ویصیر مدرکًا بادراك الرکوع الثالثۃ[5]۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسبوق امام کے ساتھ صرف قنوت پڑھے اور وہ تیسری رکعت کارکوع پانے سے مدرك ہوجائے گا واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۸۸ : مسئولہ شوکت علی صاحب ۱۷ / ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع