دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

فقیر۲۹شعبان سے بوجہ علالت رمضان شریف کرنے اور شدت گرماگزارنے کوپہاڑپرآیا ہوا ہے وطن سے مہجور اپنی کتب سے دور ، لہٰذا زیادہ شرح وبسط سے معذور مگرحکم مسئلہ بفضلہ تعالٰی واضح ومیسور۔ شبینہ فی نفسہٖ قطعًا جائز و رواہے اکابرائمہ دین کامعمول رہا ہے اسے حرام کہنا شریعت پرافتراہے ، امام الائمہ سیّدنا امام اعظم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے تیس برس کامل ہر رات ایك رکعت میں قرآن مجید ختم کیاہے۔ ردالمحتارمیں ہے :

قال الحافظ الذھبی قدتواتر قیامہ باللیل و تھجدہ وتعبدہ ،  ای ومن ثم کان یسمی بالوتد لکثرۃ قیامہ باللیل ،  بل احیاہ بقرأۃ القراٰن فی رکعۃ ثلاثین سنہ[1]۔

حافظ ذہبی نے فرمایا کہ آپ کاقیام اللیل ، تہجد اور تعبد تواتر کے ساتھ منقول ہے ، یہی وجہ ہے کہ آپ کو وتد (کِیل) کہاجاتاہے کیونکہ آپ کے قیام لیل میں کثرت تھی بلکہ آپ تیس سال تك رات کو ایك رکعت میں پورے قرآن کی تلاوت کرتے(ت)

بلادلیل شرعی کسی حکم کوبعض عباد سے خاص مان لینا جزاف ہے اور یہ کہنا کہ اُن کا یہ فعل ہمارے لئے حجت نہیں ادب کے خلاف محض لاف ہے ، ان کافعل حجت نہ ہوگا تو کیا زیدوعمرو کاہوگا! جواہر الفتاوٰی ا مام کرمانی پھر فتاوٰی عٰلمگیریہ میں ہے : انما یتمسك بافعال اھل الدین[2]۔ اہل دین کے افعال سے تمسك کیاجائے گا(ت)علمائے کرام نے فرمایا ہے سلف صالحین میں بعض اکابر دن رات میں دوختم فرماتے بعض چار بعض آٹھ ، میزان الشریعہ امام عبدالوہاب شعرانی میں ہے کہ سیدی علی مرصفی قدس سرہ نے ایك رات دن میں تین لاکھ ساٹھ ہزارختم فرمائے[3]۔ آثارمیں ہے امیرالمومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہ الکریم بایاں پاؤں رکاب میں رکھ کر قرآن مجید شروع فرماتے اور دَہنا پاؤں رکاب تك نہ پہنچتا کہ کلام شریف ختم ہوجاتا۔ بلکہ خود حدیث میں ارشاد ہے کہ داؤد علیہ السلام اپنے گھوڑے زین کرنے کو فرماتے اور اتنی دیر سے کم میں زبور یاتوراۃ مقدس ختم فرمالیتے۔ توراۃ شریف قرآن مجید سے حجم میں کئی حصے زائد ہے

والحدیث رواہ احمد والبخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال خفف علی داؤد القراٰن فکان یامر بدوابہ فتسرج فیقرأ القراٰن من قبل ان تسرج دوابہ[4]۔

امام احمد اور امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے یہ حدیث شریف روایت کی ہے کہ رسالت مآب   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا : حضرت داؤدعلیہ السلام پراﷲ تعالٰی نے تلاوت آسان فرمادی تھی آپ سواری پرزین رکھنے کاحکم دیتے اور زین رکھی جاتی توآپ زین رکھنے سے پہلے زبورتلاوت کرلیتے۔ (ت)

یہ سب روایات اوران سے زائد ہماری کتاب “ الفیوض المکیۃ لمحب الدولۃ المکیۃ “ میں ہیں ان افعال کریمہ کوحجت نہ ماننا کیسی گستاخی ہے ، جاہل وہ کہ اُسوت اور حجت میں فرق نہ جانے ، ہم ان میں اقتداء پرقادرنہیں مگروہ حجت شرعیہ ضرور ہیں کہ فی نفسہٖ یہ فعل حسن ہے کراہت یاممانعت اگرآئے گی تو عوارض سے ، اور وہ یہاں پانچ ہیں :

اوّل عدم تفقّہ یعنی جلدی کی وجہ سے معانی قرآن کریم میں تفکروتدبرنہ ہوسکے گا ، اصل وجہ منصوص فی الحدیث ہی ہے سنن دارمی و ابی داؤد و ترمذی و ابن ماجہ میں عبداﷲ بن عمرو   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ہے :

لم یفقہ من فرائض القراٰن فی اقل من ثلاث[5]۔

جس نے تین رات سے کم میں قرآن مجید ختم کیا اس نے سمجھ کرنہ پڑھا۔

یہ وجہ صرف نفی افضلیت کرتی ہے جس سے کراہت بھی ثابت نہیں ہوتی۔ ولہٰذا عٰلمگیری میں کراہت شبینہ کے قول کو بصیغہ ضعف ومرجوحیت نقل کیا :

حیث قال افضل القرأۃ ان یتدبر فی معناہ حتی قیل یکرہ ان یختم القراٰن فی یوم واحد[6] ۔

یہاں الفاظ یہ ہیں کہ افضل قرأت یہ ہے کہ اس کے معانی میں تدبر ہوحتی کہ یہ کہاگیا ہے کہ ایك دن میں ختم قرآن مکروہ ہے۔ (ت)

اقول :  پھریہ بھی ان کے لئے ہے جوتفکر معانی کریں یہاں کے عام لوگ کہ کتناہی دیرمیں پڑھئے تفکر سے محروم ہیں اُن کے لئے دیر بے سود ہے اور وہ مقصود لذاتہٖ نہیں بلکہ اسی لئے مقصود ہے اُن کے لئے معتدل جلدی ہی کاافضل ہونا چاہئے کہ جس قدر جلد پڑھیں گے قرأت زائد ہوگی اورقرآن کریم کے ہرحرف پردس نیکیاں ہیں سَوکی جگہ پانسوحرف پڑھے تو ہزار کی جگہ پانچ ہزارنیکیاں ملیں ، نبی   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

من قرأ حرفا من کتاب اﷲ فلہ حسنۃ و الحسنۃ بعشرا مثالھا لااقول المـ حرف ولکن الف حرف ولام حرف ومیم حرف[7] ۔  رواہ الدارمی و الترمذی و صححہ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

جس نے قرآن کریم کا ایك حرف پڑھا اس کے لئے ایك نیکی ہے اور ہرنیکی دس نیکیاں ، میں نہیں فرماتا کہ المـ ایك حرف ہے بلکہ الف ایك حرف ہے اور لام ایك حرف ہے اور میم ایك حرف ہے۔ اسے دارمی اور ترمذی نے حضرت عبداﷲ بن مسعود   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیااور اسے صحیح کہا۔ (ت)

اور ہرثواب فہم پرموقوف نہیں ، امام احمد   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے رب عزوجل کوخواب میں دیکھا عرض کی : اے میرے رب! کیاچیزتیرے بندوں کو تیرے عذاب سے نجات دینے والی ہے۔ فرمایا : میری کتاب۔ عرض کی : یارب بفھم اوبغیرفھم اے میرے  رب! سمجھ کر یابے سمجھ بھی۔ فرمایا : بفھم وبغیرفھم سمجھ کر اور بے سمجھے۔

دوم کسل ، نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ان اﷲ لایسأم حتی تسأموا[8] بیشك اﷲتعالٰی ثواب دینے میں کمی نہیں فرماتا جب تك نہ اکتاؤ۔

اقول : یہ وجہ عام عوام کو عام ہے اور احکام فقہیہ میں غالب ہی کااعتبار ہوتاہے کمابیناہ فی رسالتنا کشف الرین علی حکم مجاورۃ الحرمین ورسالتنا جمل النور فی نھی النساء عن زیارۃ القبور(جیسا کہ ہم نے اسے اپنے رسالے کشف الرین علی حکم مجاورۃ الحرمین اور اپنے رسالے جمل النور فی نہی النساء عن زیارۃ القبور میں بیان کیاہے۔ ت) مگر اس وجہ کا مفاد صرف کراہت تنزیہی ہے ، علماء نے تصریح فرمائی کہ کسل قوم کے سبب تراویح میں قرآن نہ چھوڑیں ۔ تنویرالابصار و درمختارمیں ہے :

الختم مرۃ سنۃ ولایترك الختم لکسل القوم[9]  (ملخصا)

ایك دفعہ ختم قرآن سنت ہے لہٰذا اسے قوم کی سستی کی بناپر ترك نہ کیاجائے(ملخصا)۔ (ت)

 



[1]   ردالمحتار مقدمہ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن