دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

قرأۃ الختم فی صلٰوۃ التراویح سنۃ ،  و صححہ فی الخانیۃ وغیرھا ،  وعزاہ فی الھدایۃ الی اکثر المشایخ ،  وفی الکافی الی الجمہور ،  وفی البرھان ،  و ھوالمروی عن ابی حنیفۃ والمنقول فی الاثار[1]۔

تراویح میں ختم قرآن سنت ہے ، خانیہ وغیرہ میں اسی کو صحیح کہاہے ، ہدایہ میں اس کی نسبت اکثرمشائخ کی طرف کی ہے ، کافی میں جمہور کی طرف کی ہے اور برہان میں ہے کہ یہی امام ابوحنیفہ   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے اثارمیں منقول ہے۔ (ت)

کافی و ہندیہ میں ہے :

السنۃ فی التراویح انما ھو الختم

تراویح میں ایك دفعہ ختم قرآن سنت ہے توقوم

مرۃ فلایترك لکسل القوم[2]۔   واﷲ تعالٰی اعلم

کی سستی اور کاہلی کی وجہ سے اسے ترك نہ کیاجائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)

مسئلہ ۱۰۷۹ :         ازقصبہ کاشیپور محلہ قاضی باغ ضلع نینی تال مسئولہ جناب شیخ اﷲ بخش و محمد وزیرخاں ۱۴ / محرم ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قرآن شریف کے اندر جو ایك سوچودہ سورتیں ہیں اگر حافظ قرآن تراویح میں ہرسورۃ میں بسم اﷲ شریف پڑھے توجائز ہے یانہیں ؟ یاکیانفع نقصان ہے؟ ایك شخص یہاں پر ہرسورہ میں بسم اﷲ شریف ظاہرکرکے پڑھتے ہیں تواُن پراعتراض واجب ہے یانہیں ؟ ان سے کہتے ہیں کہ آپ ہرسورہ میں بسم اﷲ شریف پڑھتے ہیں ہم نے کسی حافظ اور عالم کوظاہرکرکے بسم اﷲ پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔

الجواب :

نمازمیں بسم اﷲ شریف آواز سے پڑھنا منع ہے صرف تراویح میں جب ختم کلام مجید کیاجائے سورہ بقرہ سے سورہ ناس تك کسی ایك سورہ پر آواز سے پڑھ لی جائے کہ ختم پورا ہو ، ہر سورۃ سے آواز سے پڑھنا ممنوع ہے اور مذہب حنفی کے خلاف۔ گنگوہ وغیرہ کے بعض جاہلوں نے جو اس کے خلاف فتوٰی دیاہے حماقت وجہالت ہے والتفصیل فی رسالتنا وصاف الرجیح فی بسملۃ التراویح(اس کی تفصیل ہمارے رسالہ “ وصاف الرجیح فی بسملۃ التراویح “ میں ہے۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۰۸۰ :         ازدھرم پور ضلع بلندشہر پرگنہ ڈبائی کو ٹھی نواب صاحب مسئولہ عبدالرحیم        ۲۸ / رمضان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نمازتراویح حافظ کے نہ ہونے سے سورہ الم ترکیف سے پڑھی جائیں بیس رکعت ، لیکن اس طریق سے کہ ایك ایك رکعت میں ایك سورۃ دوسری میں قل ھواﷲ یہاں تك کہ بیس رکعت میں نو سورہ الم ترکیف سے اور گیارہ سورہ قل ھواﷲ پڑھی جائیں مگرگیارہویں رکعت میں جبکہ سورہ اذا جاء پڑھی جائے اور بارہویں میں قل ھو اﷲ توایك سورہ تبت بیچ میں رہ جاتی ہے اور اسی طرح سے جب انیسویں رکعت میں قل ھواﷲ اور بیسویں میں ناس تو فلق رہ جاتی ہے اس صورت میں کچھ کراہت ہے یانہیں ؟ بیّنوا توجروا۔

الجواب :

یہ دونوں صورتیں وجہ کراہت ہوں گی کہ بیچ میں چھوٹی سورت کاچھوڑدینا مکروہ ہے یہ آسان ہے کہ دس رکعتوں میں سورہ فیل سے سورہ ناس تك پڑھے پھرانہیں کااعادہ کرے۔

اما مافی الدر المختار ،  ولایکرہ فی النفل شیئ من ذلك [3] فمع قطع النظر عما اورد علی ھذہ الکلیۃ لم یثبت ان النفل ھھنا یشمل السنۃ المؤکدۃ بل ھو مقابلھا وقدقالہ فی الدر المختار قبیلہ ،  وفی الحجۃ یقرأ فی الفرض بالترسل حرفا حرفا وفی التراویح بین بین وفی النفل لیلا ،  لہ ان یسرع بعد ان یقرأ کمایفھم[4] ۔  ١ھ وفی الغنیۃ الاصح کراھۃ اطالۃ الثانیۃ علی الاولٰی فی النفل ایضا الحاقا لہ بالفرض فیمالم یرد فیہ التخصیص من التوسعۃ کجوازہ قاعدا بلا عذر ونحوہ [5] ۔   واﷲ تعالٰی اعلم۔                                

درمختارمیں جوہے کہ ان میں سے کوئی شئے نوافل میں مکروہ نہیں ، تو اس پروارد شدہ اعتراض سے قطع نظر کرتے ہوئے یہاں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نفل سنت مؤکدہ کوبھی شامل ہے بلکہ وہ اس کے مقابل ہے ، اس سے تھوڑا پہلے درمختار میں ہی بات کہی : حجہ میں ہے کہ فرائض میں قرأۃ آہستہ آہستہ حرف حرف پڑھے اور تراویح میں ترسل واسراع کے درمیان درمیان اور رات کے نوافل میں اتنا تیزپڑھ سکتاہے جو سمجھ آسکے اھ۔ غنیہ میں ہے کہ اصح یہ ہے کہ نوافل میں بھی دوسری رکعت کو پہلی رکعت پرطویل کرنا مکروہ ہے یہ حکم نفل کوفرض کے ساتھ ان امورمیں ملحق کرنے کی بناء پر ہے جن میں نفل کے لئے تخصیص وسعت واردنہیں ہوئی ، واﷲ تعالٰی اعلم (ت)

مسئلہ ۱۰۸۱ :          از مین پوری مسئولہ حکیم محمد احمدصاحب علوی شب          ۱۰ / شوال ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شبینہ پڑھنا یعنی ایك شب میں قرآن مجید ختم کرنا تراویح یا تہجد یانفل میں جائز ہے یانہیں اور جوشخص اس طرح پرکہ نہایت صحت اور قواعد کے ساتھ صاف صاف پڑھتاہے اس کی اقتداء میں اگرکچھ لوگ ذوق وشوق اور خلوص وہمت سے داخل ہوکرشرکت کریں تو ان مقتدیوں اور امام کی بابت کیاحکم ہے ، زید کہتاہے کہ شبینہ مطلقًا ناجائزہے اس کی کوئی اصل نہیں بلکہ حرام ہے صحابہ و تابعین وتبع تابعین کے زمانہ میں کبھی نہیں ہوا ، اور یہ جوبعض بزرگوں کی نسبت مشہور ہے کہ فلاں بزرگ نے ایك رات میں اتنے اتنے ختم کئے بالخصوص حضرت سیدنا امام اعظم   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی نسبت وہ مخص خصوصیات ہیں اُن کا یہ فعل ہمارے لئے حجت نہیں ہے ، بکرکہتاہے کہ نفس شبینہ جائز اورمباح ہے بلکہ بزرگان دین کامعمول ہے یہ اور بات ہے کہ اگرمنہیات شرع اس میں شامل ہوں یالوگ اس کو اچھی طرح نہ سنیں بلکہ اس و قت بیٹھے باتیں کریں یاحقہ اورچائے پینے میں مشغول رہیں یاقرآن مجیدایساغلط اور جلدجلد پڑھاجائے کہ سمجھ میں نہ آئے توبیشك ایسی صورت ناجائز ہوگی بلکہ ایسی صورت اگر تراویح میں واقع ہوتوتراویح کے لئے کیاحکم نہ ہوگا کیانفس تراویح ان عوارض کی وجہ سے ناجائز ٹھہرے گی؟ زیدکہتاہے شبینہ پڑھنے والے اور سننے والے کوپانسو جوتے لگانے چاہئیں ، امسال رمضان مبارك ۱۳۳۹ھ میں ہم چند مسلمانانِ مین پوری نے اپنے اپنے ذوق وشوق سے چند حافظ بلوائے جونہایت عمدہ اور صاف پڑھنے والے تھے نہ کسی پربار ہواسب نے نہایت مستعدی اور سکون سے سنا اس پر زیدکو بہت غصہ آیا زید امام جامع مسجد ہے انہوں نے بالاعلان ہم سب مسلمانوں پراسی جامع مسجد میں بعد نمازمغرب مصلے پرکھڑے ہوکر ماں بہن کی گالیاں دیں اور کہا شبینہ سننا اور وہاں جانا سب گناہ ہے کوئی شبینہ کوجائز ثابت کردکھائے تو پچاس روپیہ دوں گا ایسے شخص کی نسبت جو اس قسم کے سب وشتم مسلمانوں کو دے بازاری اور فحش کلمات اس کے زبان زدرہتے ہوں اور مسلمانوں کوجو اس کے مقتدی نہیں ماں بہن کی گالیاں دے ، چنانچہ اس بنا پر وہ کل مقتدی اس سے ناخوش ہوں اس کی امامت کا کیاحکم ہے؟ بیّنوا توجروا۔

الجواب :

 



[1]   ردالمحتار باب الوتروالنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۴۶

[2]   فتاوٰی ہندیہ فصل فی التراویح مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن