30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جناب فیض انتساب فضائل مآب جناب مولانا صاحب زاد فضلکم بعد آداب گزارش ہے کہ جو شخص صوم وصلوٰۃ کاپابند ہے مگر تراویح قصدًا چھوڑدیتاہے اس کے واسطے وعید ہے یانہیں ؟ اور یہ بھی تحریرکریں کہ حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کیوں نہیں پڑھیں ؟ ان پروعید ہے یانہیں ؟
الجواب :
رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :
علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین عضوا علیھا بالنواجذ[1]۔
تم پرلازم ہے میری سنت کااتباع اور خلفائے راشدین کی سنت کا ، اسے دانتوں سے مضبوط پکڑو۔
اور فرمایا :
اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکروعمر[2]۔
ابوبکر و عمر( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا) کی پیروی کرو جو میرے بعد خلیفہ ہوں گے۔
سیّدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے تین شب تراویح میں امامت فرماکر بخوف فرضیت ترك فرمادی تواس وقت تك وہ سنت مؤکدہ نہ ہوئی تھی ، جب امیرالمومنین فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے اجرا فرمایا اور عامہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اس پرمجتمع ہوئے اس وقت سے وہ سنت مؤکدہ ہوئی نہ فقط فعل امیرالمومنین سے ، بلکہ ارشادات سیدالمرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے۔ اب ان کاتارك ضرورتارك سنت مؤکدہ ہے اور ترك کاعادی فاسق وعاصی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷۶ : از بنارس رام نگر مرسلہ حافظ امام الدین صاحب ۵ رمضان ۱۳۳۶ھ
جب احقرکاحافظہ ہوگیا تو لوگوں نے اسی سے پڑھوایا مسجد کے پیش امام صاحب نے بخوشی صہ۵ پانچ روپے احقرکوعنایت کئے جسے احقرنے اُسی وقت اپنے استاد مکرم کی نذرکردی میرے ایك مکتبی بھائی کی خواہش تھی کہ ان پانچ میں سے چندہ تبرك میں کچھ دوں مگرحضرت استاذی کی حالت بمقابلہ تبرك قابل ترجیح معلوم ہوئی لہٰذا میں نے چندہ تبرك میں اس میں سے کچھ نہ دیا دوسرے سال معلوم ہوا کہ اب کے سال امام صاحب معـــ۷ ــہ دیں گے پھرسناگیا کہ صـ۵ــہ ہی دیں گے ، اس پرقوی خیال کی بنا پرسمجھاگیا کہ انہیں مکتبی بھائی صاحب کی بدولت پانچ کردیا گیاہے جن کی غرض کے مطابق چندہ تبرك میں نے نہیں دیاتھا اس لئے میں نے ان سے شکایت کی کہ استاذ میرے بھی ہیں اور آپ کے بھی ، پھر آپ ان کی بھلائی کے بجائے ان کی نقصان رسانی کے درپے کیوں ہیں ؟ اس پربات بڑھی اور امام صاحب مسجد کے کانوں تك پہنچی ، اس کے بعد مجھے روپے کی گفتگو پرسخت افسوس ہو اور دل میں خطرہ پیداہوا کہ کہیں میراثواب نہ زائل ہو جائے اس لئے میں نے باعلان کہا کہ صاحبو میں کوئی اُجرت نہیں مقررکرتا ، یہ جس قدرباتیں ہوئی ہیں بھائی صاحب سے بات بڑھ جانے کے سبب ہوئیں ، پھرختم کے دن امام صاحب نے سات ہی روپے دئیے جنہیں لیتے وقت احقرکے دل کی عجیب حالت تھی مگربخیال نفع استاد مکرم کے لئے اور اسی وقت اُن کی خدمت میں پیش کردیا تاہم مجھے ہروقت اس کاخطرہ رہتاہے کہ گو ہم اپنے لئے نہیں لیتے پھربھی لیتے ہیں ۔ لیکن اس خیال سے کہ اب استاذمکرم کوبھروسا رہتاہوگا کہ اسے سات روپے ملیں گے اور یہ مجھے دے گا اور پھر اس سے میرافلاں فلاں کام چلے گا لینے سے انکار کرتے بھی نہیں بنتا۔ شبینہ کیساہے جوایك دن میں چندحفاظ مل کرختم کرتے ہیں ۔
الجواب :
مولٰی سبحانہ وتعالٰی ایسے بندوں کوبرکت دے جوقرآن عظیم پر اُجرت لینے سے بچیں آپ صاف کہہ دیں کہ محض ادائے سنت وحصول ثواب کے لئے پڑھتاہوں کوئی معاوضہ نہ چاہتاہوں نہ ہوگا اس کے بعد امام یاجومسلمان کچھ خدمت کریں وہ اُجرت نہیں ہوسکتی اُس کالینا حلال اور استاذ کو دینا سعادت مندی ، فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے : الصریح یفوق الدلالۃ[3] (صریح کودلالت پرفوقیت ہے۔ ت)شبینہ کہ ایك یاچند حافظ مل کرکرتے ہیں مکروہ ہے ، اکابر نے ایك ایك رات میں برسوں ختم فرمایا ہے مگروہ خاص اپنے لئے نہ کہ جماعت میں جس میں ہرقسم کے لوگ ہوں خصوصًا اکثربلکہ شاید کل وہی ہوں جو اسے بارسمجھیں اور شرما شرمی شریك رہیں ۔ حدیث صحیح میں ہے : اذا ام احدکم الناس فلیخفف[4] (جب تم میں کوئی لوگوں کی امامت کرائے توتخفیف سے کام لے۔ ت) اور ارشادفرمایا : لایسأم حتی تسأموا[5] (اﷲ تعالٰی ثواب میں کمی نہیں فرماتا جب تك تم نہ اکتاؤ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷۷ : از اوریاضلع اٹاوہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ عبدالحَی صاحب مدرس ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تراویح کے ہر چار رکعت پرہاتھ اٹھاکر دعامانگنا چاہئے یاصرف تسبیح بلاہاتھ اٹھائے پڑھے ؟
الجواب :
تسبیح میں ہاتھ اٹھانے کی کیاضرورت ، ہاں کوئی دعامانگے تو ہاتھ اٹھائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۰۷۸ : از کلکتہ مانك تلہ حاجی زکریالین نمبر۱ مرسلہ شیخ روشن علی صاحب ۳ / شوال ۱۳۳۷ھ
ایك شخص جو اپنے کو اہلسنت سے کہتا ہے اس کاقول ہے کہ نماز تراویح کے اندر دوچیزیں ہیں ایك قرأت قرآن مجید کی جوکہ فرض ہے اور دوسری تراویح سنت مؤکدہ ۔ جب نماز تراویح میں قرآن شریف پڑھاگیا تودونوں مذکورہ بالاچیزوں سے ایك ادا ہوئی ایك باقی رہ گئی ہے یعنی تراویح سنت مؤکدہ کا ثواب توحاصل ہوا مگرقرأت کے ثواب سے محروم رہ گیا جوکہ فرض ہے اس لئے جماعت کے لوگ بعدنماز تراویح کے بیٹھ جائیں کسی سے قرآن شریف سن لیں تاکہ دونوں ثواب حاصل ہوجائیں ، کیایہ قول زید کاصحیح ہے؟
الجواب :
زیدکاقول محض باطل اور دین میں بدعت پیداکرناہے اور شریعت مطہرہ پرافتراء ہے ، تراویح سنت مؤکدہ ہے صرف ایك آیت کاپڑھنا ہرنماز میں ہرمہینے ہروقت میں فرض ہے تمام قرآن مجید کی تلاوت خارج نمازخاص رمضان شریف میں فرض ہو یہ جہل محض ہے ، جب تراویح پڑھیں اور اُن میں قرآن عظیم پورا پڑھاسنا دونوں سنتیں اداہوگئیں دونوں کاثواب بعونہٖ تعالٰی مل گیا بعد تراویح بیٹھ کر پھرقرآن مجید پورا سننافرض درکنار نہ واجب نہ سنت مؤکدہ نہ غیرمؤکدہ۔ اگرکوئی کرے تو ایك مستحب ہے جیسے اور اوقات میں تلاوت اور اسے فرض یاواجب یامؤکد سمجھنا حرام وبدعت ، اور وہ قرآن کریم کہ تراویح میں پڑھاگیا اسے ناکافی سمجھنا سخت جہالت ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ ردالمحتارمیں ہے :
[1] سنن ابوداؤد آخرباب فی لزوم السنۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۲۷۹
[2] جامع الترمذی مناقب ابی بکر الصدیق رضی اﷲ عنہ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی بھارت ۲ / ۲۰۷
[3] درمختار ، کتاب الہبہ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۲ / ۱۵۹
[4] صحیح البخاری باب اذا صلی لنفسہ فلیطول ماشاء مطبوعہ قدیمی کتب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع