دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

کیونکہ مشہور حدیث ہے امام احمد نے حضرت عمرو ابن ام مکتوم سے ، ابن ماجہ نے حضرت اسامہ بن زید سے ، طبرانی نے اوسط میں حضرت انس سے مسند جید کے ساتھ اور حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے ، طحاوی نے مشکل الآثار میں حضرت جابر بن عبدالله سے روایت کیاہے ، ہم نے ان تمام احادیث کو اپنے رسالے “ حسن البراعۃ فی تنقید حکم الجماعۃ “ میں ذکرکیاہے ، رہی حدیث ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، تو اسے لاتعداد اصحاب صحاح وسنن اور اصحاب مسانیدومعاجیم نے روایت کیا ہے والله تعالٰی اعلم۱۲منہ(ت)

جامع صغیرمیں اس کی نسبت امام احمد اور ابن حبان کی طرف کی ہے اس کے شارح امام مناوی نے فرمایا اس کو ان سے ابوداؤد وغیرہ نے روایت کیا ہے۱ھ اور بلاشك یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی موجود ہے ۱۲منہ (ت)

عن ابی قتادۃ رضی الله تعالٰی عنہ قال قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم لیس فی النوم تفریط انما التفریط فی الیقظۃ[1] ۔  

مالك فی المؤطا وابوداؤد والنسائی عن ام المؤمنین رضی الله تعالٰی عنہا ان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قال مامن امریئ تکون لہ صلاۃ بلیل یغلبہ علیھا نوم الاکتب الله لہ اجرصلاتہ وکان نومہ علیہ صدقۃ[2] وھو عند ابن ابی الدنیا فی کتاب التھجد بسند جید ، النسائی وابن ماجۃ وخزیمۃ والبزار بسند صحیح عن ابی الدرداء رضی الله تعالٰی عنہ عن النبی صلی الله علیہ وسلم قال من اتی فراشہ وھو ینوی ان یقوم فیصلی من اللیل فغلبتہ عیناہ حتی یصبح کتب لہ ما نوی وکان نومہ صدقۃ علیہ من ربہ عزوجل [3] وھو بمعناہ عند ابن حبان فی صحیحہ عن ابی زر او                          

ابوقتادہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا کہ رسالت مآب  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : تفریط نیند میں نہیں بلکہ بیداری میں ہے۔ (ت)

بلکہ بہ نیت تہجد سونے والے کو اگرچہ تہجد نہ پائے ثواب تہجد کا وعدہ فرمایا اور اس کی نیند کو رب العزت جل جلالہ ، کی طرف سے صدقہ بتایا۔ امام مالك نے مؤطا میں ، ابوداؤد اور نسائی نے ام المؤمنین   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے روایت کی کہ نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ہروہ شخص جورات کی نماز(تہجد) کی نیت رکھتا ہو اس پرنیند غالب آجائے تو الله تعالٰی اسے نماز کا اجروثواب عطا فرمائے گا اور اس کی نیند اس پر صدقہ ہوگی ، یہ حدیث ابن ابی الدنیانے کتاب التہجد میں سند جیّد کے ساتھ یہ حدیث ذکر کی۔ نسائی ، ابن ماجہ ، ابن خزیمہ اور بزار نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابودرداء  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیا نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : جو شخص بستر پر اس نیت سے لیٹا کہ رات کواٹھ کر نماز(تہجد) پڑھے گا مگرنیند کے غلبہ کی وجہ سے صبح تك اس کی آنکھ نہ کھلی تو اسے اس کی نیت کے مطابق اجرملے گا اور اس کی نیند الله عزوجل کی طرف سے اس پر صدقہ ہوگی اور یہ حدیث معنًا ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت ابوذریا حضرت

ابی الدرداء رضی الله تعالٰی عنھما ھکذا بالشک۔

ابودرداء  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے اسی طرح شك کے ساتھ روایت کی ہے۔ (ت)

امیرالمؤمنین عمرفاروق اعظم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ابوحثمہ اور ان کے صاحبزادہ سلیمان  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو جماعت صبح میں نہ دیکھا ان کی زوجہ اور ان کی والدہ شفا  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے سبب پوچھا ، کہا نماز شب کے سبب نیند نے غلبہ کیا نماز صبح پڑھ کر سورہے ، فرمایا : مجھے جماعت صبح میں حاضرہونا نماز تمام شب سے محبوب تر ہے۔

مالك عن ابن شھاب عن ابی بکربن سلیمٰن بن ابی حثمۃ ان عمر بن الخطاب رضی الله تعالٰی عنہ فقد سلیمن ابن ابی حثمۃ فی صلاۃ الصبح وان عمر بن الخطاب غدا الی السوق ومسکن سلیمن بین السوق والمسجد (النبوی) فمرعلی الشفاء ام سلیمٰن فقال لھا لم ارسلیمٰن فی صلٰوۃ الصبح فقالت انہ بات یصلی فغلبتہ عیناہ فقال عمر لان اشھد صلاۃ الصبح فی الجماعۃ احب اِلَیَّ من ان اقوم لیلۃ [4]۔  عبدالرزاق فی مصنفہ عن معمر عن الزھری عن سلیمٰن ابن ابی حثمۃ عن امہ الشفاء بنت عبدالله قالت دخل علی عمر وعندی رجلان نائمان تعنی زوجھا اباحثمۃ و ابنھا سلیمٰن فقال اما صلیا الصبح قلت لم یزالا                                          

مالک ، ابن شہاب سے وہ ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت کرتے ہیں  کہ حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے سلیمان ابن ابی حثمہ کو نماز صبح میں نہ پایا آپ صبح کو جب بازار کی طرف گئے اور سلیمان کاگھر بازار اور مسجد نبوی کے درمیان تھا تو آپ سلیمان کی والدہ شفاء کے پاس سے گزرے اور پوچھا میں نے سلیمان کو آج نمازصبح میں نہیں پایا تو انہوں نے عرض کیا وہ رات بیدار رہے نماز پڑھتے رہے صبح کو نیند غالب آگئی۔ تو حضرت عمر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا مجھے نماز فجر میں حاضر ہونا اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ساری رات قیام کروں ۔ امام عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں معمر سے انہوں نے اپنی والدہ شفاء بنت عبدالله سے بیان کیا کہ ان کی والدہ فرماتی ہیں حضرت عمر میرے پاس آئے تو میرے پاس دو آدمی سوئے ہوئے تھے اس سے وہ اپنا خاوند ابوحثمہ اور اپنا بیٹا سلیمان مراد لیتی ہیں ۔ آپ نے

یصلیان حتی اصبحا فصلیا الصبح وناما فقال لان اشھد الصبح فی جماعۃ احب الی من قیام لیلۃ[5]۔  والله تعالٰی اعلم۔

فرمایا : انہوں نے نمازصبح کیوں نہ پڑھی؟ میں نے عرض کیا یہ ساری رات نماز میں مشغول رہے حتی کہ صبح ہوگئی پھر انہوں نے نمازصبح ادا کی اور سوگئے۔ تو آپ نے فرمایا : جماعت کے ساتھ نمازفجر کی میری حاضری ساری رات قیام سے مجھے زیادہ محبوب ہے۔ (ت) والله تعالٰی اعلم

جواب سوال سوم : اقول : وبالله التوفیق (میں الله تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں ۔ (ت) اس مسئلہ میں جواب حق کو حق جواب یہ ہے کہ عذرمذکور فی السؤال سرے سے بیہودہ سراپا اہمال ہے وہ زعم کرتاہے کہ سنت تہجد کا حفظ وپاس اسے تفویت جماعت پرباعث ہوتاہے اگرتہجدبروجہ سنت اداکرتا تو وہ خود فوت واجب سے اس کی محافظت کرتا نہ کہ الٹا فوت کاسبب ہوتا ،

قال عزوجل اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ- [6]۔

الله تعالٰی نے فرمایا : بے شك نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔

سید المرسلین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :

علیکم بقیام اللیل فانہ داب الصلحین قبلکم وقربۃ الی الله تعالٰی ومنھاۃ عن الاثم وتکفیر للسیأت ومطردۃ للداء عن الجسد[7]۔  رواہ الترمذی فی                                      

تہجد کی ملازمت کرو کہ وہ (رات کاقیام) اگلے نیکوں کی عادت ہے اور الله عزوجل سے نزدیك کرنے والا اور گناہ سے روکنے والا اور برائیوں کاکفارہ اور بدن سے بیماری دورکرنے والا۔ اسے ترمذی نے اپنی جامع ،

 



[1]   سنن ابوداؤد باب فی من نام عن صلوٰۃ الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۶۴

[2]   مؤطا امام مالك ماجاء فی صلوٰۃ اللیل مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۹۹

[3]   سنن ابن ماجہ باب ماجاء فیمن نام عن جزبہ من اللیل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۹۶

[4] 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن