30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پچیس۲۵ یاچھبیس تك دونوں نے ختم قرآن کریم فرمایا پس ازروئے شرع مطہر کے یہ طریقہ قرآن شریف کے پڑھنے کاجائزہے یانہیں ؟ بیّنوابالکتاب تؤجروا بغیرحساب (کتاب وسنت سے جواب دیجئے اور بغیرحساب اجرپاؤ۔ ت)
الجواب :
یہ طریقہ مکروہ ہے اور اگرثابت ہوکہ بعض مقتدیوں پرگراں گزرنے کاباعث تھا (اور ضرورہوگا) توسخت ممنوع ہے کہ یوں دوختم معًا سنت سے زائد ہیں تو ایك امر زائد سنت کے لئے مقتدیوں پرگرانی کی گئی اور یہ ناجائز ہے وانما علل عدم ترك ختم بکسل القوم لانہ سنۃ فمازاد یترك لانہ فتنۃ (قوم کی سستی کی وجہ سے ایك ختم قرآن ترك نہیں کیاجائے گا کیونکہ یہ سنت ہے اور جو اس سے زائد ہے وہ ترك کردیاجائے گا کیونکہ یہ فتنہ ہے۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷۳ : از بلنڈی افریقہ سائل حاجی عبداﷲ وحاجی یعقوب علی ۲۴محرم ۱۳۳۱ھ
رمضان المبارك میں میں نے نمازعشاء جماعت سے نہیں پڑھی ہے مسجد میں جاتے وقت جماعت عشاء ہوگئی تھی اور نمازتراویح کی کھڑی تھی ، میں نے جلدی سے نمازعشاء ادا کی اب تراویح کی جماعت میں شامل ہوکر نمازتراویح اداکرسکتاہوں یا نہیں ؟ یا اکیلے پڑھناچاہئے؟
الجواب :
جس شخص نے نمازعشاء تنہاپڑھی وہ تراویح کی جماعت میں شامل ہوسکتا ہے تنہا نہ پڑھے ، ہاں وترکی جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا۔ جس نے فرض تنہا پڑھے ہوں وہ وتر بھی تنہاپڑھے۔ درمختارمیں ہے :
فمصلیہ وحدہ یصلیھا معہ[1] اھ ای مصل الفرض وحدہ یصل التراویح مع الامام۔
فرض تنہا پڑھنے والا تراویح جماعت کے ساتھ پڑھے اھ یعنی تنہافرض اداکرنے والا تراویح امام کے ساتھ اداکرے۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
اذا لم یصل الفرض معہ لایتبعہ فی الوتر[2] اھ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جب فرض امام کے ساتھ ادا نہیں کئے تو وترمیں اس کی اقتداء نہ کرے۔ اھ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۷۴ : از فیض آباد محلہ رکاب گنج مرسلہ فیاض حسین ٹھیکیدار پتھر ۲۳ / رمضان المبارك ۱۳۳۱ھ
حضور والادست بستہ سلام مسنون کے بعد عرض ہے تابعدار بخیریت ہے خوشنودی مزاج اقدس درکار ازراہ شفقت مربیانہ معاف فرمایاجاؤں کہ آج سے پہلے عریضہ نہ لکھ سکا اور آج پھرجوموقع ملاہے وہ خاص ضرورت سے ، براہ کرم شرع شریف کے مقدس قانون کے مطابق رائے صائب وحکم مناسب سے اطلاع بخشی جائے ، میرے وطن اٹاوہ میں ایك بزرگ مفتی قوم میں سے ازراہ خیروبرکت ختم قرآن شریف کے دن بیسویں رکعت میں المـ تامفلحون پڑھنے کے بعد چند آیات مختلف ماکان محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم وغیرہ کے ساتھ تراویح ختم کرنے کی ہدایت فرمایاکرتے ہیں لیکن اس زمانے کی نئی روشنی اس کے خلاف ہے لہٰذا اس کے جواز کے متعلق جوآیات شریفہ کتب احادیث سے پائی جائیں اُن سے اطلاع بخشی جائے تاکہ مخالفین کو سمجھادی جائیں ، براہ کرم و شفقت مربیانہ بواپسی ڈاك جواب باصواب عریضہ ہذا سے شادفرمایاجائے کیونکہ اس کی یہاں فوری ضرورت ہے ، فقط
الجواب :
یہ صورت بلاشبہہ جائز ومباح ہے سنن ابی داؤد میں ابوقتادہ اور ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہے رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے تہجد کی نماز میں ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بہت پست آواز سے پڑھتے دیکھااور فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بہت بببلندآواز سے ، اور بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کودیکھا کہ کچھ ایك سورت سے پڑھا اور کچھ دوسری سے لیا ، حضوراقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے تینوں صاحبوں سے وجہ دریافت فرمائی ، صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : قداسمعت من ناجیت یارسول اﷲمیں جس سے مناجات کرتاہوں وہ اس پست آوازکوبھی سنتا ہے۔ فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : یارسول اﷲ اوقظ الوسنان واطرد الشیطان یارسول اﷲ میں اس لئے اتنی آواز سے پڑھتاہوں کہ اونگھتاجاگے اور شیطان بھاگے۔ بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی؛ کلام طیب یجمعہ اﷲ بعضہ الٰی بعض یارسول اﷲ قرآن مجید سب پاکیزہ کلام ہے کچھ یہاں سے کچھ وہاں سے ملالیتاہوں ارادہ الٰہیہ یونہی ہوتا ہے فرمایا : کلکم قداصاب[3] تم تینوں نے ٹھیك بات کی درست کام کیا۔ فتاوٰی خلاصہ میں ہے :
الانتقال من اٰیۃ من سورۃ الی اٰیۃ اخری من سورۃ اخری اواٰیۃ من ھٰذہ السورۃ بینھما اٰیات مکروہ فی الفرائض اما فی النوافل لایکرہ[4] اھ ملتقطا
ایك سورت کی آیت سے دوسری سورت کی آیت یا اسی سورت کی دوسری آیت کی طرف انتقال کرنا جبکہ ان کے درمیان چندآیات ہوں فرائض میں مکروہ ہے مگرنوافل میں مکروہ نہیں اھ ملتقطا(ت)
غنیہ شرح منیہ میں ہے :
قرأۃ اٰیۃ من بین الاٰیات کقرأۃ سورۃ من بین السور فکما لایکون قرأۃ سورۃ متفرقۃ من اثناء القراٰن مغیر التالیف والنظم لایکون قرأۃ اٰیۃ من کل سورۃ مغیرا لہ[5] ۔
آیات میں سے کسی آیت کاپڑھنا ایسے ہی ہے جیسے سورتوں میں سے کسی سورت کاپڑھنا ہے توجس طرح متفرق سورتوں میں سے قرأت کرناقرآنی تالیف ونظم میں تبدیلی پیدانہیں کرتی اسی طرح ہرسورت سے کسی ایك آیت کا پڑھنا تبدیلی پیدا نہیں کرتا۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
اماضم اٰیات متفرقۃ فلایکرہ کمالایکرہ ضم سور متفرقۃ بدلیل ماذکرناہ من القرأۃ فی الصلٰوۃ[6]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بہرحال آیاتِ متفرقہ کوملانا مکروہ نہیں جیسا کہ سور متفرقہ کاملانا مکروہ نہیں اس پردلیل وہی ہے جوہم نے قرأۃ فی الصلٰوۃ میں ذکرکی ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۷۵ : ازدھامپور محلہ بندوقچیاں ضلع بجنور ۸ / ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ مسئولہ اﷲ دیا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع