30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تجنیس میں ہے بعض نے ہررکعت میں سورۃ اخلاص کومختارکہا بعض نے سورۃ فیل کویعنی اس سے ابتداء ہو اور پھرتکرارکیاجائے اور سب سے بہترہے تاکہ دل تعداد رکعات کی طرف متوجہ نہ ہو۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
لاباس ان یقرء سورۃ ویعیدھا فی الثانیۃ (الی قولہ) ولایکرہ فی النفل شیئ من ذلک[1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس میں کوئی حرج نہیں کہ ایك سورت پڑھی جائے اور دوسری رکعت میں اسے دوبارہ لوٹایاجائے (یہاں تک) کہ نفل میں ان میں سے کوئی شے بھی مکروہ نہیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۶۵ : ازشہرکہنہ بریلی مرسلہ مولوی شجاعت علی صاحب ۲۵رمضان مبارک۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تراویح میں ختم قرآن شریف کے لئے ایك بارجہرسے بسملہ پڑھناچاہئے یانہیں ؟ فقط بیّنوا توجروا۔
الجواب :
ہاں ___
فی المسلم وشرح الفواتح ، البسملۃ
مسلم اور شرح الفواتح میں ہے کہ بسملہ قرآن کی
من القراٰن اٰیۃ فتقرأ فی الختم مرۃ علی ھذا ینبغی ان یقرأھا فی التراویح بالجھر مرۃ ولاتتأدی سنۃ الختم دونھا[2] ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
آیت ہے ختم قرآن میں ایك دفعہ اسے پڑھاجاناچاہئے لہٰذا تراویح میں اسے ایك دفعہ جہرًا پڑھنا لازم ہے کیونکہ اس کے بغیر سنت کے مطابق ختم قرآن نہ ہوگا۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۶۶ تا ۱۰۶۸ : از صاحب گنج گیا مرسلہ مولوی کریم رضاصاحب یکم ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
(۱) نمازتراویح کی جماعت اس طورپرکہ الم ترکیف سے شروع کرتے ہیں اور والناس تك ایك ایك سورہ ایك ایك رکعت میں پڑھتے ہیں اور پھر الم ترکیف سے والناس تك دوبارہ دس رکعتوں میں پڑھتے ہیں جائز ہے یانہیں ؟
(۲) ہرترویحہ کے بعد دعامانگنا جائزہے یانہیں ؟
(۳) کسی حافظہ کو اس طورپر نماز تراویح کی پڑھانی کہ پہلے ایسی قوم کے ساتھ جو آٹھ رکعتیں تراویح منفرد پڑھ چکے ہوں بارہ رکعتیں ختم تراویح پڑھاکر پھردوسری قوم کے پاس جوبارہ رکعتیں تراویح کی منفرد پڑھ چکے ہوں جاکر آٹھ رکعتیں تراویح کی ہرشب میں پڑھانی جائز ہیں یانہیں ؟ بیّنوا بالفقہ والسنۃ والکتاب تؤجروا من اﷲ حسن الماٰب (فقہ اور کتاب وسنت کے مطابق جواب عنایت کرکے اﷲ تعالٰی سے اجرعظیم پاؤ۔ ت)
الجواب :
(۱) جائز ہے ۔
فی الھندیۃ بعضھم اختار قل ھواﷲ احد فی کل رکعۃ وبعضھم اختار قرأۃ سورۃ الفیل الٰی اٰخر القراٰن وھذا احسن القولین لانہ لایشتبہ علیہ عدد الرکعات ولایشتغل قلبہ بحفظھا کذا فی التجنیس[3] اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہندیہ میں ہے بعض نے ہر رکعت میں قل ھواﷲ احد کواختیار کیا اور بعض نے سورہ فیل سے آخر تك کو ، اور یہ احسن قول ہے کیونکہ اس صورت میں عددرکعات میں اشتباہ نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کے یادرکھنے میں مصروف ہوتا ہے جیسا کہ تجنیس میں ہے اھ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲) جائزہے۔
فی ردالمحتار قال القھستانی فیقال ثلاث مرات سبحٰن ذی الملك والملکوت سبحٰن ذی العزۃ والعظمۃ والقدرۃ و الکبریاء والجبروت سبحن الملك الحی الذی لایموت سبوح قدوس رب الملئکۃ والروح لاالٰہ الااﷲ نستغفراﷲ نسألك
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع