دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

تنویرمیں ہے لڑکااحتلام سے بالغ ہوجاتاہے اگر احتلام نہ ہو تو پندرہ سال کی عمر میں بالغ ہوگا ، اسی پرفتوٰی ہے ، کم از کم مدت بارہ سال ہے ، یہی مختارہے۱ھ ملخصا(ت)

پسر چاردہ سالہ کابالغ ہونا اگرمعلوم ہو(اگرچہ یونہی کہ وہ خود اپنی زبان سے اپنابالغ ہوجانا اور انزال منی واقع ہونا بیان کرتاہے اور اس کی ظاہرصورت وحالت اس بیان کی تکذیب نہ کرتی ہو) تووہ بالغ ماناجائے گا ورنہ نہیں ۔

فی الدر المختار فان راھقا بان بلغا ھذا السن فقالا بلغنا صدقا ان لم یکذبھما الظاھر کذا قیدہ فی العمادیۃ وغیرھا فبعد سنتی عشرۃ سنۃ یشترط شرطا اخر لصحۃ اقرارہ بالبلوغ وھو ان یکون بحال یحتلم مثلہ والا لایقبل قولہ شرح وھبانیۃ وھما حینئذ کبالغ حکما فلایقبل جحودہ البلوغ بعد اقرارہ مع احتمال حالہ[1]  الخ۔  واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔                                            

درمختارمیں ہے اگروہ اس عمر کو پہنچے کہ قریب البلوغ ہیں اور دعوٰی کرتے ہیں کہ ہم بالغ ہیں تو ظاہرًا کوئی بات ان کی تکذیب نہ کرتی ہو تو ان کی تصدیق کی جائے گی ، اسی طرح عمادیہ وغیرہ میں اسے مقیدکیاگیا ہے اور بارہ سال کے بعد صحت اقرار بلوغ کے لئے ایك اور شرط لگائی گئی ہے کہ اسی طرح کے لڑکوں کو احتلام ہوتا ہو ورنہ ان کادعوٰی قول نہ ہوگا شرح وہبانیہ ، اور اب وہ دونوں بالغ کے حکم میں ہوں گے احتمال کی وجہ سے اقرار کے بعدان کاانکار بلوغ قابل قبول نہ ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)

مسئلہ ۱۰۶۲ :                          از اوجین مرسلہ یعقوب علی خاں                                    ۱۲ ربیع الاخری ۱۳۱۱ ھ 

چہ می فرمایند علمائے کرام دریں مسئلہ کہ غیرمقلدین نمازتراویح رابدعت عمری قراردادہ ازبست تخفیف نمودہ یازدہ رکعت میخوانند جائزاست یانہ؟ بیّنواتوجروا۔              

علماء کرام اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ غیرمقلدین نے بیس۲۰تراویح کو بدعت عمر(  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ) قراردیتے ہوئے ان میں تخفیف کرکے گیارہ کرلی ہیں ، یہ جائز ہے یانہیں ؟ بیّنواتوجروا۔

الجواب :

تراویح سنت مؤکدہ است ونزدمحققین بترك سنت مؤکدہ نیزآثم شود خاصہ چوں ترك را عادت گیرد عددش نزدجمہورعلمائے اُمت بست رکعت ست ودرروایتے ازامام مالك سی وشش رکعت فی الدر المختار التراویح سنۃ مؤکدۃ لموظبۃ الخلفاء الراشدین وھی عشرون رکعۃ[2]بازسنت امیر المؤمنین عمرفاروق   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  عین سنت حضورپرنور سیدعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  ست سیدعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  ماراحکم باقتدائے ابوبکر وعمر فرمود   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا    تاکید تام باتباع سنت خلفائے راشدین نمود   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   احمد وابوداؤد و الترمذی وابن ماجۃ عن العرباض بن ساریۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین عضوا علیہا بالنواجذ[3]  الترمذی

تراویح سنت مؤکدہ ہے محققین کے نزدیك سنت مؤکدہ کاتارك گنہگار ہے خصوصًا جب ترك کی عادت بنالے ، تراویح کی تعداد جمہور امت کے ہاں بیس ہی ہے۔ ایك روایت کے مطابق امام مالك کے ہاں ان کی تعداد چھتیس ہے۔ رمختارمیں ہے تراویح سنت مؤکدہ ہیں کیونکہ خلفاء راشدین نے اس پردوام فرمایا اور وہ بیس رکعات ہیں ، پھر حضرت عمرفاروق   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی سنت رسالت مآب   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کی ہی سنت ہے کیونکہ آپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے ہمیں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا کی اقتداکاحکم دیاہے اور خلفاء راشدین کی اتباع سنت میں تاکید کامل فرمائی ہے۔ امام احمد ، ابوداؤد ، ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت عرباض بن ساریہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیا کہ نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا تم پر میری اور خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے اسے دانتوں سے اچھی طرح مضبوطی کے ساتھ تھام لو۔ ترمذی   نے

وحسنہ عن عبد اﷲ بن مسعود و احمد و الترمذی وابن ماجۃ والرویانی عن حذیفۃ بن الیمان وابن عدی عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہم قالوا قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اقتدوا بالذین من بعدی من اصحابی ابی بکر وعمر[4]  وآنکہ ایں بے باکاں سنت امیرالمومنین فاروق اعظم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  رابکاسیہ لیسی روافض بدعت عمری نامندومتہوران ایشاں خذلہم اﷲتعالٰی تصریح بضلالت حضرت والایش کنند جوابش محول بروزجزاست , وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠(۲۲۷)[5]۔ نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔  واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔                 

ترمذی نے حضرت عبداﷲ بن مسعودسے روایت کیا اور اسے حسن کہا ، احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ اور رؤیانی نے حضرت حذیفہ بن یمان اور ابن عدی نے حضرت انس بن مالك رضی اﷲتعالٰی عنہم سے روایت کیاکہ نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا : لوگو! تم میرے بعد میرے صحابہ ابوبکر و عمر کی اقتدا کرنا۔ یہ بیباك لوگ جواہل تشیع کی نقل کرتے ہوئے حضرت عمر(  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ) کی سنت کو بدعت عمری کہتے ہیں اور ان میں سے کچھ دریدہ دہنی کرنے والے حضرت کے عمل کو گمراہی کہتے ہیں اس کاحساب وکتاب بروزجزا انہیں دیناہوگا عنقریب ظالم جان لیں گے کہ وہ کس طرف پلٹا کھائیں گے۔ اﷲتعالٰی سے عفو وعافیت کاسوال ہے۔ واﷲ سبحانہ ،  وتعالٰی اعلم(ت)

مسئلہ ۱۰۶۳ :         از بلگرام شریف محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت سیدابراہیم صاحب                   ۱۸ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تراویح میں پورا کلام اﷲتعالٰی سنناپڑھنا سنت مؤکدہ ہے یاسنت یامستحب وغیرہ؟ اور بعد سننے ایك پورے کلام اﷲ شریف کے جولوگ سورہ فیل سے آخر ك دوبارہ پڑھتے ہیں ان کاکیا حکم ہے یعنی ہررات رمضان شریف میں تراویح بست رکعتیں پڑھناسنت مؤکدہ یاسنت یامستحب وغیرہ ہے یاکیا ارشاد ہے؟ ایك رات اسی ماہ صیام میں طبیعت میری نادرست تھی تراویح ایك شب کی مجھ سے نہ ہوئیں اب ان کی قضاکروں  یانہیں اور کروں تو کس وقت؟ بیّنوا توجروا۔

الجواب :

تراویح میں پورا کلام اﷲ شریف پڑھنا اور سننا مؤکدہ ہے اور صحیح یہ ہے کہ بعد کلام مبارك بھی تما م لیالی شہر مبارك میں بیس۲۰رکعت تراویح پڑھنا سنت مؤکدہ ہے ، تراویح اگرناغہ ہوگئیں تو اُن کی قضاء نہیں کل ذلك مصرح بہ فی الکتب الفقھیۃ (ان تمام پرکتب فقہ میں تصریح ہے۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۰۶۴ : از بلگرام شریف محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت صاحبزادہ سیدابراہیم میاں صاحب قادری دامت برکاتہم  ۳۲رمضان شریف ۱۳۱۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تراویح میں بعد سورہ فاتحہ سورہ اخلاص پڑھنا جائز ہے یامکروہ باوجودیکہ امام اور سورتیں بھی جانتاہے؟ بیّنواتوجروا۔

الجواب :

جائزہے  بلاکراہت  اگرچہ  سورہ فیل سے آخر تك تکرار کاطریقہ بہترہے کہ اس میں رکعات کی گنتی یاد رکھنی نہیں پڑتی ۔ ردالمحتارمیں ہے :

فی الت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن