دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

زید کے دونوں اعتراض باطل وبے معنی ہیں ، مسجد سے بے نماز پڑھے باہرجانا دوشرط سے ممنوع ہے ایك یہ کہ وہ خروج بے حاجت ہو ورنہ بلاشبہ جائز ہے مثلًا جس شخص کی ذات سے دوسری مسجد کی جماعت کاانتظام وابستہ ہے وہ بعد اذان بلکہ خاص اقامت ہوتے وقت باہرجاسکتاہے یونہی جسے دوسری مسجد میں بعد نمازدینی سبق پڑھنا یاسنی عالم کاوعظ سننا ہو اسی طرح پیشاب یااستنجے یاوضو کی حاجتیں ۔ دوسرے یہ کہ شروع جماعت تك واپسی کاارادہ نہ ہو ورنہ مضائقہ نہیں اگرچہ بے ضرورت ہی سہی۔

فی الدر المختار ،  کرہ تحریما للنھی خروج من لم یصل من مسجد اذن فیہ جری علی الغالب والمراد دخول الوقت اذن

درمختارمیں ہے کہ نکلنا اس شخص کا جس نے نماز نہ پڑھی ہو اس مسجد سے جس میں اذان ہوچکی ہو

فیہ اولا الالمن ینتظم بہ امرجماعۃ اخرٰی اوکان الخروج المسجد حیہ ولم یصلوا فیہ اولاستاذہ لدرسہ اولسماع الوعظ اولحاجۃ ومن عزمہ ان یعود نھر اھ  وفی [1] ردالمحتار قولہ للنھی ھو مافی ابن ماجۃ من ادرك الاذان فی المسجد ثم خرج لم یخرج لحاجۃ وھولایرید الرجوع فھومنافق اھ  وفیہ عن البحر ولوکانت الجماعۃ یوخرون لدخول الوقت المستحب کالصبح مثلا فخرج ثم رجع وصلی معھم ینبغی ان لایکرہ اھ قال وجزم بذلك کلہ فی النھر لدلالۃ کلامھم علیہ قولہ الالمن ینتظم بہ لہ الخروج ولوعندالشروع فی الاقامۃ وبہ صرح فی متن الدرر و القھستانی وشرح الوقایۃ[2] اھ  مختصرا۔

مکروہ تحریمی ہے یہ غالب پرحکم ہے اور مراد دخول وقت ہے خواہ اذان ہوئی ہو یانہ ہوئی ہو البتہ اس شخص کوجانے کی اجازت ہے جس نے کسی دوسری جماعت کاانتظام کرناہے یا اپنے محلہ کی مسجد کی طرف جاناہے درانحالیکہ وہاں لوگوں نے نمازادانہیں کی یا استادسے سبق لیناہے یاوعظ سننا ہے یاکوئی حاجت ہے اور وہ شخص دوبارہ آجانے کاارادہ رکھتاہو نہر ردالمحتارمیں قولہ للنھی (یعنی اس پرنہی وارد ہے) سے مراد ابن ماجہ کی وہ روایت ہے جس میں ہے کہ مسجد میں اذان کوپایا پھربغیر کسی حاجت وضرورت کے چلاگیا اور واپسی کا ارادہ بھی نہیں رکھتا تو وہ منافق ہے ، اور اسی میں بحر سے ہے کہ اگرجماعت لوگوں نے اس لئے مؤخر کی کہ وقت مستحب آجائے مثلًا صبح کی نماز ، توکوئی شخص چلاگیا پھرلوٹ آیا اور ان کے ساتھ نماز ادا کی تو اسے مکروہ نہ قراردینا ہی مناسب ہے اور نہر میں اس پر کلام علماء کی وجہ سے جزم کااظہار کیاہے ، ماتن کاقول الالمن ینتظم (مگر جس نے نماز کاانتظام کرناہے) وہ نکل سکتاہے خواہ اقامت شروع ہوچکی ہو ، اور اسی پر متن درر ، قہستانی اور شرح وقایہ میں جزم کیاگیا ہے اھ اختصارًا (ت)

یہاں دونوں شرطوں سے ایك بھی متحقق نہیں سنتیں بحال قیام جماعت بیرون مسجد پڑھنے کاحاجت شرعی ہونابھی ظاہر اور قصدرجوع بھی بدیہی توعدم جوازوحصول گناہ کاحکم صریح باطل قطعی ،

فی الدرالمختار ،  اخاف فوت الوقت لاشتغالہ بسنتھا ترکھا

درمختارمیں ہے جب نمازی کوسنن میں مشغولیت سے وقت کے فوت ہونے کاخوف ہوتوانہیں

والالابل یصلیھا عندباب المسجد[3] وفی رد المحتار ای خارج المسجد کما صرح بہ القھستانی وقال فی العنایۃ لانہ لوصلاھا فی المسجد کان متنفلا فیہ عنداشتغال الامام بالفریضۃ وھومکروہ ومثلہ فی النھایۃ والمعراج[4] اھ مختصرین۔           

ترك کرے ورنہ ترك نہ کرے بلکہ انہیں مسجد ك دروازے کے پاس اداکرے۔ ردالمحتارمیں ہے یعنی مسجد سے باہرادا کرے ، جیسا کہ اس پرقہستانی نے تصریح کی ہے۔ عنایہ میں ہے اگر اس نے سنن مسجد میں ادا کیں تو یہ امام کے فریضہ میں مشغول ہونے کے وقت نوافل پڑھنے والا قرارپائے گا جوکہ مکروہ ہے۔ اسی کی مثل نہایہ اورمعراج میں ہے اھ دونوں کتابوں کی عبارت اختصارًا منقول ہے(ت)

بعینہ یہ صورت سیدنا عبداﷲ بن عمرفاروق اعظم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا سے ثابت ہے ایك روز وہ ایسے وقت تشریف لائے کہ جماعت فجر قائم ہوچکی تھی انہوں نے ابھی سنتیں نہ پڑھی تھیں ان کی بہن ام المومنین حفصہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کاحجرہ مطہرہ مسجد سے ملاہواتھا جس کادروازہ عین مسجد میں تھا وہاں چلے گئے اور سنتیں حجرے میں پڑھ کر پھرمسجد میں آکر شامل جماعت ہوئے۔ امام اجل ابوجعفرطحاوی شرح معانی الآثارمیں فرماتے ہیں :

حدثنا علی بن شیبۃ ثنا الحسن بن موسی حدثنا شیبان بن عبدالرحمٰن عن یحیی بن ابی کثیر عن زید بن اسلم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما انہ جاء والامام یصلی الصبح ولم یکن صلی الرکعتین قبل صلٰوۃ الصبح فصلاھما فی حجرۃ حفصۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا ثم انہ صلی مع الامام ففی ھذا الحدیث عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما انہ صلاھما فی المسجد لان حجرۃ حفصۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا من المسجد[5] ۔                                              

زید بن اسلم سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا آئے توامام صبح کی نماز پڑھارہاتھا آپ نے فجر کی دوسنتیں ابھی ادانہیں کی تھیں تو آپ نے حضرت حفصہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کے حجرہ مبارکہ میں انہیں اداکیا پھرامام کے ساتھ شریك ہوئے۔ اس حدیث نے واضح کردیا کہ حضرت ابن عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے فجر کی سنتیں مسجدمیں اداکیں کیونکہ حجرئہ حفصہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  مسجد کا حصہ تھا۔ (ت)

بلکہ جب وہ مدارس متعلق مسجد ، حدودمسجد کے اندرہیں اُن میں اور مسجد میں راستہ فاصل نہیں صرف ایك فصیل سے صحنوں کاامتیاز کردیاہے تو ان میں جانا مسجد سے باہر جاناہی نہیں یہاں تك کہ ایسی جگہ معتکف کوجاناجائز کہ وہ گویا مسجد ہی کا ایك قطعہ ہے۔

وھذا ماقال الامام الطحاوی ان حجرۃ ام المؤمنین من المسجد[6]  فی ردالمحتار عن البدائع لوصعدای المعتکف المنارۃ لم یفسد بلاخلاف لانھا منہ لانہ یمنع فیھا من کل مایمنع فیہ من البول ونحوہ فاشبہ زاویۃ من زوایا المسجد[7]۔                   

یہی بات امام طحاوی نے فرمائی کہ ام المومنین کا حجرہ مسجد کاحصہ ہے۔ ردالمحتارمیں بدائع سے ہے اگر معتکف منارہ پرچڑھا توبالاتفاق اس کا اعتکاف فاسد نہ ہوگا کیونکہ منارہ مسجد کاحصہ ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اس میں ہر وہ عمل مثلًا بول وغیرہ منع ہے جومسجد میں منع ہے تویہ مسجد کے دیگر گوشوں کی طرح ایك گوشہ ٹھہرا۔ (ت)

چٹائی کو اُن خیالات بعیدہ کی بناپر نجس بتانا محض پیروی اوہام ہے شرع مطہر نے دربارہ طہارت ظاہر ایسے لیت ولعل کواصلًا گنجائش نہ دی۔

کما فصلہ فی الطریقۃ المحمدیۃ  والحدیقۃ الندیۃ وبینہ العبد  الضعیف غفراﷲ تعالٰی لہ  فی “ الاحلی من السکر لطلبۃ سکررو سر “ ۔

جیسا کہ اس کی تفصیل طریقہ محمدیہ اور حدیقہ ندیہمیں ہے اور اسے عبدضعیف غفراﷲ تعالٰی نے “ الاحلی من السکر لطلبۃ سکرروسر “ میں بیان کیاہے۔ (ت)

ردالمحتارمیں تاتارخانیہ سے ہے :

من شك فی انائہ اوثوبہ وبدنہ اصابتہ نجاسۃ اولافھو طاھر مالم یستیقن وکذا الاٰبار والحیاض والحباب الموضوعہ فی الطرقات ویستسقی منھا الصغار والکبار والمسلمون والکفار[8]۔

 



[1]   درمختار باب ادراك الفریضۃ  مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۹

[2]   ردالمحتار باب ادراك الفریضۃ  مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۵۴

[3]   درمختار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۹۔ ۱۰۰

[4]   ردالمحتار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۵۶

[5]   شرح معانی الآثار باب الرجل یدخل المسجد والامام فی الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۲۵۸

[6]   شرح معانی الآثار  باب الرجل یدخل المسجد والامام فی الصلٰوۃ الخ مطبوعہ ایچ ایم کمپنی کراچی ۱ / ۲۵۸

[7]   ردالمحتار باب الاعتکاف  مطبوعہ ایچ ایم کمپنی کراچی ۲ / ۴۴۶

[8]   ردالمحتار کتاب الطہارۃ  مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۱۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن