30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۴) بعد دونوں درودوں کے قبل سلام یہ دعاپڑھے :
اللھم انی اسألك توفیق اھل الھدٰی واعمال الیقین ومناصحۃ اھل التوبۃ وعزم اھل الصبر وجداھل الخشیۃ وطلب اھل الرغبۃ وتعبد اھل الورع وعرفان اھل العلم حتی اخافک۔ اللھم انی اسألك مخافۃ تحجرزنی عن معاصیك حتی اعمل
اے اﷲ! میں تجھ سے اہل ہدٰی جیسی توفیق ، اہل یقین جیسے اعمال ، اہل توبہ جیسی نصیحت ، اہل صبرکاعزم ، اہل خشیت کی محنت ، اہل رغبت کی طلب ، اہل ورع کی عبادت ، اہل علم کا عرفان مانگتاہوں کہ مجھے تیراخوف نصیب ہو۔ اے اﷲ! میں تجھ سے اس بات کا سوال کرتاہوں کہ مجھے ایساخوف عطافرما جوتیری نافرمانی سے روك لے
بطاعتك عملا استحق بہ رضاك وحتی اناصحك بالتوبۃ خوفامنك وحتی اخلص لك النصیحۃ حبالك وحتی اتوکل علیك فی الامور حسن ظن بك سبحٰن خالق النور[1]۔
حتی کہ میں ایسے عمل کروں جومجھے تیری رضا کامستحق بنادے اور حتی کہ میں تیرے خوف کی بناپر خالصۃً توبہ کروں اور تیرے ساتھ محبت کی بناپر مخلصانہ تیرے حقوق اداکروں ، حتی کہ تمام امورمیں تجھ پربھروسہ کروں ، تیرے ساتھ مجھے حسن ظن نصیب ہو ، اے خالق نور! تیری ذات تمام عیوب اور نقائص سے پاك ہے۔ (ت)
(۵) سنت فجر میں نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے مروی وماثور سنت وہی ہے کہ پہلی رکعت میں سورئہ کٰفرون اور دوسری میں اخلاص اور الم نشرح اور الم ترکیف پڑھنامشائخ سے بطور عمل مروی ہے جس کا فائدہ دفع اعداء ہے اور یہ کہ نوافل میں اختیارہے جس طرح جوچاہے پرھے۔
(۶) وتر میں اخیررکعت میں قل ھواﷲ احد شریف پڑھنا ماثور ہے مگرضرورنہیں ، جوچاہے پڑھے ، بہتر یہ ہے کہ پہلی میں سبح اسم ربك الاعلٰی یاانا انزلناہ اور دوسری میں کٰفرون تیسری میں اخلاص۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۵۶ : امام نے ظہر کے وقت چاررکعت نمازسنت ادا کرنے کے بعد کلام دنیا کیا بعد اس کے نمازپڑھائی تو اس فرض نماز میں کچھ نقصان آوے گایانہیں ؟ اور نمازسنت کا ثواب کم ہوجائے گا یاباطل ہوجائے گی؟
الجواب :
فرض میں نقصان کی کوئی وجہ نہیں کہ سنتیں باطل نہ ہوں گی ، ہاں اس کا ثواب کم ہوجاتاہے۔ تنویرالابصارمیں ہے :
ولوتکلم بین السنۃ والفرض لایسقطھا ولکن ینقص ثوابھا[2]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگرکوئی سنن وفرائض کے درمیان کلام کرتاہے تو اس سے سنن ساقط نہیں ہوجاتی مگران کے ثواب میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۵۷ : از ریاست جاورہ مکان عبدالمجیدخاں صاحب سرشتہ دار ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سنتیں پڑھنے کے بعد اگرگفتگو کی جائے توپھر اعادہ سنتوں کا کرے یانہیں ؟
الجواب :
اعادہ بہترہے کہ قبلی سنتوں کے بعدکلام وغیرہ افعال منافی تحریمہ کرنے سے سنتوں کاثواب کم ہوجاتاہے اور بعض کے نزدیك سنتیں ہی جاتی رہتی ہیں توتکمیل ثواب وخروج عن الاختلاف کے لئے اعادہ بہترہے جبکہ اس کے سبب شرکت جماعت میں خلل نہ پڑے مگرفجر کی سنتیں کہ اُن کا اعادہ جائزنہیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۰۵۸ تا ۱۰۵۹ : ازپیلی بھیت محلہ پنجابیاں متصل مسجد مرسلہ شیخ عبدالحکیم صاحب غرہ رجب ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں :
(۱) ایك مسجد کہ اُس میں فجر کی نماز کے وقت بعد شروع ہوجانے جماعت کے اکثرنمازی آتے جاتے ہیں اور بعد حصول طہارت سنتیں فجرادا کرکے شریك جماعت ہوجاتے ہیں مگرسنتیں فجر کی خلاف قاعدہ شرعیہ ادا ہوتی ہیں صورت یہ ہے کہ ایام گرما میں اندرونی درجہ مسجد میں توبسبب گرمی کے جماعت نہیں ہوتی اکثراوقات دوسرے سائبان مسجد میں ہواکرتی ہے بسااوقات اندرونی درجہ میں سنتیں اداکرنے کے واسطے جانے کی گنجائش نہیں رہتی یابسبب شدت گرمی کے نمازی اندرجانابھی گوارانہیں کرتا ایسی شکل میں بعض واقفین تو صحن مسجد مین ستونوں کی آڑمیں سنتیں پڑھ لیتے ہیں وہ بھی چارپانچ شخص بقدر تعدادستونوں کے پڑھ سکتے ہیں مگرنمازی بعد کوآنے والے زیادہ ہوتے ہیں سب لوگ آڑستونوں کی نہیں پاتے اور بعض لوگ بوجہ عدم واقفیت یاکم توجہی کے اس کی ضرورت بھی نہیں سمجھتے اور بعض اوقات شدت گرمی سے صحن مسجد میں نمازہوتی ہے تو ستون بھی سنتوں کی آڑ کونہیں ملتے اکثربدون حائل کسی شئی کے سنتیں پڑھی جاتی ہیں مگر ازروئے اس مسئلہ فقہیہ کے کہ جماعت شروع ہوجانے کے بعد سنتیں فجر کی خارج از مسجدادا کی جائیں ہم کو عمدہ موقع حاصل ہے کہ مسجد سے ملحق چہارطرف مسجد کے چارکمرے مدرسہ کے ہیں اس طرح سے کہ فرش سے فرش ملاہے حد فاصل مابین مسجد اور مدرسہ کے صحنوں کی فصیلیں ہیں جوایك ہاتھ تخمینًا چوڑی اور ایك بالشت اونچی ہیں اورر یہ جملہ مکانات مسجد اور مدرسہ ایك احاطہ کے اندرہیں اگرہم ایك صف خواہ چٹائی صحن مدرسہ میں یاکسی کمرئہ مدرسہ میں ملحق صحن مسجد کے واسطے ادائے سنتوں فجر کے بچھادیں اور وہ لوگ جوپیچھے آتے ہیں طہارت حاصل کرکے اس چٹائی پرجومدرسہ میں خارج از مسجد بچھی ہے سنتیں فجراداکرکے شریك جماعت ہوتے جائیں توسنتیں بھی حسب قاعدہ شرعیہ اداہوں اور نمازیوں کی بھی سہولت کاباعث ہو مگرزید اس کو دو۲ بنا پرناجائز کہتاہے ، ایك یہ کہ نمازی جب مسجد کی فصیلوں پر جووضوکرنے کاموقع ہے بیٹھ کر وضو کرے گا تولابدمسجد کے صحن میں سے گزرکرمدرسہ کے صحن میں جوچٹائی بچھی ہے سنتیں اداکرنے کے واسطے جائے گا تویہ صورت خلاف شرعیہ ہے اس وجہ سے کہ بعد از اذان مسجد سے خارج ہونا جائزنہیں اس گناہ کامرتکب ہوگا سائل کہتاہے کہ اگرایسا ہی خارج ہوناہے تو اس بناپر اور بھی مسائل متفرع ہوتے ، ہیں وہ یہ ہیں کہ پانی لینے کاکنواں اور سقاوے اور پاکی حاصل کرنے کاغسل خانہ یہ سب کہ احاطہ مسجد کے اندرہیں مگر مسجد کے حدود فصیلوں سے باہرہیں نمازی حسب عادت مروجہ زمانہ کے اکثر اول مسجد میں آتاہے اپناکپڑا وغیرہ مسجدمیں رکھ کربعد کوپانی لے کر طہارت وضووغیرہ کرتاہے بلکہ یہ عادات زمانہ کی عام مقامات کی مساجد کے موافق ہیں تو کیایہ سب بعداذان مسجد سے خارج ہونے کے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں یااحاطہ مسجد کے بیرونی دروازہ سے نکلنے والا اور وہ بھی جومسجد میں واپس آنے کاقصد نہ رکھتاہو۔
(۲) دوسری وجہ ممانعت زید کی یہ ہے کہ صحن مدرسہ کابھی فرش پختہ ہے اور چھوٹے لڑکے بعض برہنہ پاپیشاب کویاپاخانہ میں اور غسل خانہ میں جاتے ہیں اور اسی فرش ِ صحن مدرسہ پر ہوکرگزرتے ہیں اور فجر کواکثر شبنم کی کچھ نمی فرش پر ہوتی ہے اور گاہے شب کی بارش کی بھی نمی فرش پر ہوتی ہے پس ایسے مشکوك فرش پر چٹائی کابچھانا چٹائی کانجس کرنا اور نیزنمازیوں کی نماز خراب کرناہے حالانکہ افضل عبادات کی نمازہے ، سائل کہتاہے پس ایسے شکوك کی وجہ سے صحن مدرسہ میں جوچٹائی بچھائی گئی ہے اس پرسنتیں اداکرنا یااس پرسے وضوکرکے جس حالت میں کہ نمازی کے پیروضو کے پانی سے ہنوز خشك نہیں ہوئے ہیں گزرکرکمرئہ مدرسہ میں سنتیں اداکرنا جائز ہوگا یانہیں ؟ اور وہ چٹائی نجس ہوگی یاپاك قابل ادائے نماز رہے گی اور پیراس نمازی کے جووضوکرکے اس مشکوك فرش سے گزراہے پاك رہیں گے یاناپاك ہوجائیں گے؟ اور ایسی چٹائی کابچھانے والا واسطے اہتمام ادائے سنتوں فجر کے طریقہ نیك کاجاری کرنے والا ہوگا اور ثواب پائے گا؟ ان وجوہات مرقومہ صدرجوباعث ممانعت زید کے ہیں اُن کی وجہ سے بعد ازاذان مسجد سے نمازیوں کے خارج کرنے کا اور مشکوك فرش پرسنتیں اداکرنے والے نمازیوں کی نماز خراب کرانے کاباعث ہوکر عذاب پائے گا یا اس قسم کے شکوك پیداکرکے تمام نمازیوں کوتنگی میں ڈالنے والاہوگا؟ بیان فرمائیے ثواب پائیے۔
الجواب :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع