30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی سند ضعیف ہے ہم نے بحر وغیرہ کی اتباع میں اسی پراقتصار کیا ہے حالانکہ سند صحیح کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے حدیث ثابت ہے لیکن اس میں مسجد نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی تخصیص ہے ، کہا ، رسالت مآب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : میری اس مسجد میں کوئی شخص اذان نہیں سنتا ، پھر کسی ضرورت کے بغیر مسجد سے نکل جاتاہے اور واپس مسجد کی طرف نہیں آتا مگر یہ کہ وہ منافق ہے اسے طبرانی نے المعجم الاوسط میں ذکر کیا اور امام ابوداؤد نے مراسیل میں حضرت سعید بن المسیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیاہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اذان کے بعد مسجد سے منافق کے علاوہ کوئی نہیں نکلتا مگر عذر کی وجہ سے ، جب کوئی حاجت وضرورت اس شخص کو نکالے اور وہ شخص واپسی کا ارادہ رکھتاہو تو منافق نہیں ۱۲منہ غفرلہ (ت)
علیہ وسلم من ادرکہ الاذان فی المسجد ثم خرج ، لم یخرج لحاجۃ وھو لایرید الرجعۃ فھو منافق[1] ۔
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : جس نے اذان کو مسجد میں پایا پھر وہاں سے نکل گیا حالانکہ اسے نکلنے کی کوئی حاجت بھی نہ تھی اور واپسی کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ منافق ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
کرہ تحریما للنھی خروج من لم یصل من مسجد اذن فیہ جری علی الغالب والمراد دخول الوقت اذن فیہ اولا[2]۔
مکروہ تحریمی ہے سبب ممانعت کے نکلنا اس شخص کا جس نے نماز نہ پڑھی ہو اس مسجد سے جس میں اذان ہوگئی ہو ، شارح نے کہا ماتن اکثر پرچلا ہے(یعنی اکثریہی ہوتاہے کہ اذان کا وقت ہونے پر اذان ہوجاتی ہے) اور مراد اذان ہونے سے وقت نماز کا آجانا ہے خواہ مسجد میں اذان ہوئی ہو یانہ۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
الظاھر من الخروج من غیرصلاۃ عدم الصلوٰۃ مع الجماعۃ[3]الخ
اقول : وظاھر ان المراد بالجماعۃ ھی الجماعۃ المسنونۃ المشروعۃ دون المکروھۃ الممنوعۃ فان النھی عن الخروج انما ھو لطلب الجماعۃ فلایتناول الا الجماعۃ المطلوبۃ شرعا کیف وقد تقدم ان الجماعۃ بلا اذان کلا جماعۃ فلا یعتدبھا اصلا والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم
نماز کے بغیرنکلنے سے ظاہرًا مراد یہ ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز ادانہ کی ہو الخ(ت)
اقول : (میں کہتاہوں ) اس سے ظاہرًا مراد وہ جماعت ہے جو مسنونہ مشروعہ ہو نہ کہ وہ جو مکروہ و ممنوع ہو کیونکہ نکلنے پر ممانعت وہ طلب جماعت کے واسطے ہے اور یہ حکم اسی جماعت کے لئے ہوگا جو شرعًا مطلوب ہے ، یہ کیسے نہ ہو حالانکہ پہلے گزرچکاہے ، کہ بغیر اذان کے جماعت ایسے ہے جیسے جماعت ہوئی ہی نہیں ، پس اس کا ہرگز اعتبار نہ کیاجائے گا ، الله تعالٰی تمام نقائص وعیوب اور کمزوریوں سے پاك ہے ، وہ سب سے بہترجانتاہے۔ اس جل مجدہ ،
واحکم۔
کاعلم کامل اور اکمل ہے(ت)
جواب سوال دوم : خوف فوت تہجد نہ ترك جماعت ماموربہا کامجوز ہوسکتاہے نہ بعد دخول وقت بے شرکت جماعت شرعیہ مسجد سے نکل جانے کا مبیح نہ جماعت مکروہہ ممنوعہ کا داعی نہ خود اس عذر کا غالبًا کوئی محصل صحیح کیا اذان موجب فوت تہجد ہے غرض یہ بہانہ مسموع نہیں اگرچہ تہجد سنت ہی سہی کما اٰلَ الیہ کلام المحقق فی الفتح ومَالَ الیہ تلمیذہ المحقق محمدن الحلبی فی الحلیۃ قائلا انہ الاشبہ (جیسا کہ اس کی طرف فتح القدر میں کلام محقق لوٹتا ہے او ان کے شاگرد محمد حلبی نے حلیہ میں یہ کہتے ہوئے اسی طرف رجوع کیا کہ یہی اشبہ ہے۔ ت) کہ اولًا وہ برتقدیر سنیت بھی معارضہ جماعت کاصالح نہیں دربارہ تہجدصرف ترغیبات ہیں اورترك جماعت پرسخت ہولناك وعیدیں کہ حکم کفر تك وارد ،
علی تاویلاتہ المعروفۃ فی امثال المقام وحدیثہ عـــہ۱ عند احمد والطبرانی فی الکبیر عن معاذ ابن انس رضی الله تعالٰی عنہ عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بسند حسن وقال ابن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ فی المختلفین عن الجماعات لوترکتم عـــہ۲ سنۃ نبیکم لکفرتم [4]۔
اس طرح کے مقامات پرتاویلات معروفہ کے ساتھ ، اور اس پر مسند احمد اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت معاذ بن انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حوالے سے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی حدیث سند کے ساتھ ذکر کی ہے اور حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جماعت سے پیچھے رہنے والوں کے بارے میں فرمایا اگر تم نے اپنے نبی کی سنت ترك کردی تو تم نے کفرکیا۔ (ت)
اور جماعت عـــہ۳ عشا کے نہ حاضر ہونے پر گھرجلادینے کا قصد فرمانا ثابت کما [5] فی الصحیحین من
(عـــہ۱) سیأتی نصہ فی جواب السؤال الثالث ۱۲منہ(م) (عـــہ۲) ھذہ روایۃ ابی داؤد والحدیث بلفظ لضللتم عند مسلم وغیرہ ۱۲منہ (م)
اس حدیث کے الفاظ عنقریب تیسرے سوال کے جواب میں آرہے ہیں ۱۲منہ۔ (ت) یہ ابوداؤد کی روایت ہے اور مسلم وغیرہ میں اس کے الفاظ “ تم گمراہ ہوجاؤگے “ ہیں ۱۲منہ (ت) عـــہ۳ بعض احادیث میں عشاء بعض میں فجر ، بعض میں جمعہ ، بعض میں مطلق جماعت وارد ہے اور سب صحیح ہیں کما فی عمدۃ القاری للامام العینی (جیسا کہ امام بدرالدین عینی کی عمدۃ القاری میں ہے۔ ت) یہاں ذکر عشا ہی تھا لہٰذا اس کی تخصیص کی ۱۲منہ غفرلہ (م)
حدیث ابی ھریرۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عن النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم و فی الباب غیرعـــہ۱ (جیسا کہ بخاری و مسلم میں اس کو ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے روایت کیا اور اس باب میں اس کے علاوہ بھی احادیث موجود ہیں ۔ ت)
ثانیًا فوت سنت آئندہ کے خوف متیقن سے فی الحال اپنے ہاتھوں سنت جلیلہ چھوڑدینے کی نظیر یہی ہوسکتی ہے کہ کوئی شخص مرگ فردا کے اندیشہ سے آج خود کشی کرلے۔
ثالثا یہ کہ جاگنے میں قصدًا مکروہات ومنہیاتِ شرعیہ کا ارتکاب ہوگااور تہجد نہ بھی ملا تو حضور سیّد عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے نوم میں تفریط نہ رکھی۔
احمد عـــہ۲ ومسلم وابوداؤد ابن حبان احمد ، مسلم ، ابوداؤد اور ابن حبان نے حضرت
عـــہ۱١ فانہ حدیث مشھور ورد من حدیث عمروبن ام مکتوم عند احمد وعن اسامۃ بن زید عند ابن ماجۃ وعن انس بسند جید وعن ابن مسعود کلیھما عند الطبرانی فی الاوسط وعن جابر بن عبدالله عند الطحاوی فی مشکل الاٰثار وقد ذکرنا احادیثھم فی رسالتنا حسن البراعۃ فی تنقید حکم الجماعۃ اماحدیث ابی ھریرۃ فرواہ من لایحصی من اصحاب الصحاح والسنن والمسانید والمعاجیم والله تعالٰی اعلم ١٢منہ (م)
عـــہ۲٢ عزاہ فی الجامع الصغیر لاحمد وابن حبان قال شارحہ المناوی ورواہ ابو داؤد وغیرہ [6] اھ ولا شك انہ موجود فی صحیح مسلم ١٢منہ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع