دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

ابن ماجہ میں ام المومنین حضرت ام سلمہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے مروی ہے کہ رسالت مآب   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  وتروں کے بعد دورکعات نماز اختصار کے ساتھ بیٹھ کر اداکرتے تھے اور جب آپ رکوع کاارادہ فرماتے تو قیام فرماتے پھر رکوع کرتے(ت)

مگربیٹھ کر پڑھنا دوامًا نہ تھا بلکہ اس بات کے بیان کے لئے کہ بیٹھ کر پڑھنا بھی جائز ہے جیساکہ خود ان نفلوں کاپڑھنا بھی اس بیان کے واسطے تھا کہ وتر کے بعدنوافل جائز ہیں اگرچہ اولٰی یہ ہے کہ جتنے نوافل پڑھنے ہوں سب پڑھ کر آخر میں وتر پڑھے ، رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

اجعلوا اٰخرصلٰوتکم باللیل وترا[1]۔  رواہ

اپنی نماز شب میں سب سے آخر وتررکھو۔ اسے

مسلم عن ام المؤمنین رضی اﷲ تعالٰی عنھا                                             مسلم نے ام المومنین   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے روایت ہے۔

مسلم امام نووی منہاجپھر علامہ قاری مرقاۃ شرح مشکوٰۃمیں فرماتے ہیں :

ھاتان الرکعتان فعلھما رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جالسا لبیان جواز الصلٰوۃ بعد الوتر وبیان جواز النفل جالسا ولم یواظب علی ذلک[2]۔

ان دورکعات کو رسول اﷲ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  اس لئے بیٹھ کر ادافرماتے تھے تاکہ وتر کے بعد جوازِ نماز اور بیٹھ کر جوازِ نفل کااظہار ہوجائے ، البتہ آپ نے اس پرہمیشگی نہیں فرمائی(ت)

بلکہ اگر حضوراقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  ہمیشہ یہ نفل بیٹھ کر پڑھتے جب بھی ہمارے لئے کھڑے ہوکر پڑھنا ہی افضل ہوتا کہ یہ حضور پرنور  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کااپنے لئے فعل ہوتا اور ہمارے لئے صاف وہ ارشاد قولی ہے کہ کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے اور بیٹھے کاثواب آدھا ہے ، اور اصول کاقاعدہ ہے کہ قول فعل میں ترجیح قول کو ہے کہ فعل میں احتمال خصوصیت ہے نہ کہ یہاں توصریحًا بیان خصوصیت فرمایاہے ، صحیح مسلم شریف میں عبداﷲ بن عمرو   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا سے ہے : “ مجھے حدیث پہنچی تھی کہ رسول اﷲ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   نے فرمایا کہ بیٹھے کی نمازآدھی ہے ، میں خدمت اقدس میں حاضرہوا تو خود حضوراقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا کہ بیٹھے کی نماز آدھی ہے میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو خد حضور اقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کو بیٹھ کر نماز پڑھتے پایا میں نے سرِانور پرہاتھ رکھا[3] (اقول : یعنی یہ خیال گزرا کہ شاید بخار وغیرہ کے سبب بیٹھ کر پڑھ رہے ہوں )

وھذا بحمداﷲ منزع نفیس واضح لیستغنی بہ عما اطال الطیبی عــــہ وابن حجر و                        الحمداﷲ

یہ بات عمدہ ، نفیس علامہ طیبی ، ابن حجر اور اور واضح ہونے کے ساتھ ساتھ اس طویل گفتگو سے مستغنی کردیتی ہے علامہ طیبی ابن حجر اور

 

عــــہ :   (فوجدتہ یصلی جالسا فوضعت یدی) لعلہ بعد الفراغ من الصلٰوۃ ثم رأیت                                                 (تومیں نے آپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کوبیٹھ کرنماز پڑھتے ہوئے پایا تو میں نے سرِ انورپرہاتھ رکھ دیا) شاید یہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد کامعاملہ ہو(باقی اگلے صفحہ پر)

القاری و وقعوا فیماکان لھم مندوحۃ

ملاعلی قاری نے کی اور یہ حضرات طوالت کے باعث

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

ابن حجر جزم بہ وقال بعد فراغہ اذلایظن بہ الوضع قبلہ (علی رأسہ) ای لیتوجہ الیہ وکانہ کان ھناك مانع من ان یحضر بین یدیہ ومچل ھذا لایسمی خلاف الادب عند طائفۃ العرب لعدم تکلفھم وکمال تألفھم وکذلك فی قولھم لہ انت دن انتم الذی ھو مقتضی حسن الاٰداب فی معرض الخطاب لایتوجہ علی قائلہ العتاب وتکلف الطیبی ھنافی شرح الکتاب واورد السؤال والجواب ونسب قلۃ الادب الی الاصحاب وقال علی وجہ الاطناب فان قلت الیس یجب علیہ خلاف ذلك توقیرا لہ علیہ الصلٰوۃ والسلام قلت لعلہ صدر عنہ لاعن قصد اولعلہ استغرب کونہ علی خلاف ماحدث عنہ واستبعدہ فاراد تحقیق ذلك فوضع                                             

پھر میں نے دیکھا کہ ابن حجر نے یہ کہتے ہوئے اس پر جزم کااظہار کیا کہ یہ معاملہ فراغت کے بعد ہوا کیونکہ اس سے پہلے ہاتھ رکھنے کے بارے میں سوچاہی نہیں جاسکتا(آپ کے سراقدس پر) یعنی آپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  اس کی طرف متوجہ ہوں اور گویا آپ کے سامنے آنے سے وہاں کوئی رکاوٹ تھی اور ایسے طریقے کو بعض عربوں کے ہاں عدم تکلف اور کمال محبت کی وجہ سے خلاف ادب تصورنہیں کیاجاتا اور اسی طرح بعض عربوں کاآپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے لئے “ اَنْتَ “ (تُو) استعمال کرنا نہ کہ “ انتم “ (تم) جو کہ خطاب کے موقع پر حسن آداب کا مقتضی ہے ، اس کے قائل پرعتاب کاموجب نہیں بنتا ، علامہ طیبی نے کتاب کی شرح میں اس مقام پر تکلف کرتے ہوئے سوال وجواب واردکیا اور صحابہ کی طرف قلت ادب کی نسبت کی اور طوالت سے کام لیتے ہوئے سولًا کہا اگر تو کہے کیا ان پر حضور   عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  کی تعظیم وتوقیر کے پیش نظر اس کے خلاف عمل لازم نہ تھا؟ جوابًا کہا میں کہتاہوں شاید ان سے یہ معاملہ عدم دانستگی میں ہوا ہو یاممکن ہےکہ انہوں نے ان سے حادث شدہ واقعہ کے خلاف معاملہ کو نہایت ہی اجنبی اور بعیدتصور کیا اور اس کی تحقیق کا(باقی اگلے صفحہ پر)

عنہ وباﷲ التوفیق۔

ایسی چیز میں واقع ہوئے جس سے محفوظ رہنا اﷲ تعالٰی کی توفیق سے ان کے لئے مفیدتھا(ت)

حضوراقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا اے عبداﷲ بن عمر! کیاہے؟میں نے عرض کی یارسول اﷲ!

یدہ علی رأسہ ولذلك انکر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بقولہ مالك الخ فسماہ ونسبہ الٰی ابیہ وکذا قول عبداﷲ و انت تصلی قاعدا فانہ حال مقررۃ لجھۃ الاشکال ،  ثم رأیت ابن حجر قال کان ذلك فی عادتھم یفعلہ المستغرب الشیئ المتعجب من وقوعہ مع من استغرب منہ ذلك فلاینافی المتعارف الا ان ذلك خلاف الادب ونظیرہ ان بعض العرب کان ربما لمس لحیتہ الشریفۃ عند مفاوضتہ معہ  اھ وقد شوھد فی زماننا ان بعض اجلاف العرب یمسك لحیۃ شریف مکۃ ویقول انا فداك یاحسن والحال انہ قدیکون نعلہ معلقا فی اصبعہ ف ١٢منہ(م)                                   

ارادہ کرتے ہوئے اپنا ہاتھ سراقدس پررکھ دیا اسی لئے سرورعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے ناپسند کیااور فرمایا تجھے کیاہوگیا ہے؟ الخ تو آپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے ان کانام لیا اور ان کی نسبت ان کے باپ کی طرف کی۔ اور اسی طرح حضرت عبداﷲ کاقول کہ آپ بیٹھ کر نماز ادافرمارہے ہیں کیونکہ یہ حال جہت اشکال کوپختہ کررہاہے پھرمیں نے ابن حجر کودیکھا کہ انہوں نے یہاں یہ لکھاہے کہ عربوں کی عادات میں سے ہے کہ جب کوئی ان میں سے کسی سے ایسی چیز دیکھتاہے جونہایت اجنبی ہو تووہ ایساہی کرتاہے تو یہ متعارف کے منافی نہیں البتہ خلاف ادب ہے جوخلاف ادب ہو اس کی نظیریہ ہے کہ بعض عرب گفتگو وملاقات کے وقت آپ کی داڑھی مبارك کو مَس کرتے تھے۱ھ اور ہمارے دور میں اس کامشاہدہ یون کیاجاسکتاہے کہ بعض بزرگ عرب شریف مکہ کی داڑھی پکڑ کر یہ کہتے ہیں اے حسن میں تجھ پرفدا۔ حالانکہ اس کا جوتا اس کی انگلیوں کے ساتھ لٹك رہاہوتاہے ۱۲منہ (ت)

 

 



کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن