30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وذکر ایضا انہ نقل عن الشیخین القدوتین الشیخ عبدالوھاب والشیخ عبدالرزاق قالا بکر الشیخ بقابن بطوسحر یوم الجمعۃ الخامس من رجب السنۃ ثلث واربعین وخمسمائۃ الی مدرسۃ والدنا الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالٰی عنہ و قال لنا الاسألتمونی عن سبب بکوری الیوم انی رأیت البارحۃ نورااضائت بہ الافاق وعم اقطار الوجود ورأیت اسرارذوی الاسرار فمنھا مایتصل بہ ومنھا مایمنعہ مانع من الاتصال بہ وما اتصل بہ سرالاتضاعف نورہ فتطالبت ینبوع ذلك النور فاذا ھوصادر عن الشیخ عبدالقادر فاردت الکشف عن حقیقتہ فاذا ھو نور شھودہ قابل نورقلبہ وتقادح ھذان النوران وانعکس ضیاؤھما علی مرأۃ حالہ واتصلت اشعۃ المتقادحات من محط جمعہ الی وصف قربہ فاشرق بہ الکون ولم یبق ملك نزل اللیلۃ الااتاہ وصافحہ واسمہ عندھم الشاھد والمشھود قالا فاتیناہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وقلنا لہ اصلیت اللیلۃ صلوۃ الرغائب فانشد ؎
اذا نظرت عینی وجوہ حبائبی
فتلك صلاتی فی لیالی الرغائب
تاج الدین ابوبکر عبدالرزاق ابنائے حضورپرنور سیّدنا غوث اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے روایت کی کہ روزجمعہ پنجم رجب ۵۴۳ کو حضرت شیخ بقابن بطو قدس سرہ العزیز صبح تڑکے مدرسہ انور حضور پرنور رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں حاضرآئے اور ہم سے کہا مجھ سے پوچھتے نہیں کہ اس قدر اول وقت کیوں آیا میں نے آج کی رات ایك نوردیکھا جس سے تمام آفاق روشن ہوگئے اور جمیع اقطار عالم کوعام ہوا اور میں نے اہل اسرار کے اسراردیکھے کہ کچھ تو اس نور سے متصل ہوئے ہیں اور کچھ کسی مانع کے سبب اتصال سے رك گئے ہیں جو اس سے اتصال پاتاہے اس کانور دوبالاہوجاتاہے تو میں نے غورکیا کہ اس نور کاخزانہ ومنبع کیاہے کہاں سے چمکا ہے ناگاہ کھلا کہ یہ نور حضورپرنورسیدنا شیخ عبدالقادر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے صادرہواہے اب میں نے اس کی حقیقت پراطلاع چاہی تو معلوم ہوا کہ یہ حضور کے مشاہدے کانورہے کہ حضورکے نور قلب سے مقابل ہوکر ایك کی جوت دوسرے پرپڑی اور دونوں کی روشنی حضور کے آئینہ حال پرمنعکس ہوئی اور یہ آپس میں ایك دوسرے کی جوت بڑھانے والے نوروں کے بقعے حضور کے مقام جمع سے منزلت قرب تك متصل ہوئے کہ ساراجہان اس سے جگمگا اٹھا اور جتنے فرشتے اس رات اُترے تھے سب نے حضور کے پاس آکرحضور سے مصافحہ کیا(اور بہجۃ الاسرارشریف میں فقیرنے یوں دیکھا کہ کوئی فرشتہ باقی نہ رہا جو اُس رات زمین پرنہ اُترا اور حضورکے پاس آکر حضورسے مصافحہ
وجوہ اذا ما اسفرت عن جمالھا
اضاءت لھا الاکوان من کل جانبٖ
ومن لم یوف الحب مایستحقہ
فذاك الذی لم یأت قط بواجب اھ [1]
ما نقلہ الشیخ قدس سرہ و الذی راٰہ العبد الضعیف غفر اﷲ لہ فی البھجۃ الکریمۃ نصہ ھکذا ولم یبق ملك انزل اللیلۃ الی الارض واتاہ و صافحہ [2] الخ
کیا فرشتوں کے یہاں حضورکانام پاك شاہد مشہود ہے(شاہد کہ مشاہدہ والے ہیں اور مشہود کہ سب ملائکہ ان کے پاس آئے قال تعالٰی اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا(۷۸) [3] (ای تشہھدہ الملئکۃ ) دونوں شاہزادگان دوجہاں نے فرمایا ہم یہ سن کر حضور پرنورکے پاس حاضر ہوئے اور حضور سے عرض کی کیا آج کی رات حضور نے صلٰوۃ الرغائب پڑھی( یعنی جس کے انواریہ چمکے یہ شب شب رغائب ہی تھی کہ رجب کی نوچندی شب جمعہ تھی) حضورپرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اس پر یہ اشعار ارشادفرمائے :
جب میری آنکھ میری پیاریوں کے چہرے دیکھے تویہ شبہائے رغائب میں میری نمازہے ، وہ چہرے کہ جب اپنے جمال کاجلوہ دکھائیں توہرطرف سے سارا جہان چمك اُٹھے اور جس نے محبت کا حق پورانہ کیا وہ کبھی کوئی واجب نہ لایا (پیاریاں عالم قدس کی تجلّیاں ہیں ) (اور بہجۃ الاسرارشریف میں فقیرنے یوں دیکھا کہ کوئی فرشتہ باقی نہ رہا جو اُس رات زمین پرنہ اُترا اور حضورکے پاس آکر حضورسے مصافحہ نہ کیا ہو یعنی تمام ملائکۃ اﷲ زمین پر آئے اور محبوب خدا سے مصافحے کئے) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۴۵ : از ریاست جاورہ مکان عبدالمجیدخاں صاحب سرشتہ دار ۱۸جمادی الاولٰی ۱۳۲۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ بعد وتر کے نفل جوپڑھے جاتے ہیں اُن کا بیٹھ کرپڑھنا بہترہے یاکھڑے ہوکر؟ کتاب مالابدمنہ ہندی میں صفحہ ۴۵ سطر۵ میں تحریر ہے کہ بعد وتر کے دورکعت بیٹھ کر پڑھنامستحب ہے۔
الجواب :
کھڑے ہوکرپڑھنا افضل ہے ، بیٹھ کرپڑھنے میں آدھا ثواب ہے ، رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
ان صلی قائما فھو افضل ومن صلی قاعدا فلہ نصف اجرا لقائم [4] ۔ رواہ البخاری عن عمران بن حصین
اور اگرکھڑے ہوکرپڑھے تووہ افضل ہے اور جو بیٹھ کر پڑھے اس کے لئے کھڑے ہوکرپڑھنے والے سے نصف ثواب ہے۔ اسے بخاری نے حضرت
رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعن الصحابۃ جمیعا۔
عمران بن حصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیاہے ، اور جمیع صحابہ سے اﷲ راضی ہو۔ (ت)
رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے یہ رکعتیں بیٹھ کربھی پڑھی ہیں :
کما عند مسلم عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھما قالت بعد ماذکرت وترہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ثم یصلی رکعتین بعد ما یسلم وھو قاعد[5] ولاحمد عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یصلیھما بعد الوتر وھو جالس[6]۔
جیسے کہ مسلم میں ہے حضرت ام المومنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی نمازوتر ذکر کرنے کے بعد فرماتی ہیں کہ پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دورکعات نمازاداکرتے۔ اور امام احمد نے حضرت ابوامامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیاہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم وتروں کے بعد بیٹھ کر دورکعات نمازادافرماتے تھے(ت)
اور کبھی ان میں قعود وقیام کوجمع فرمایا ہے کہ بیٹھ کر پڑھتے رہے جب رکوع کاوقت آیا کھڑہوکر رکوع فرمایا ،
فلا بن ماجۃ عن ام المومنین ام سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یصلی بعد الوتر رکعتین خفیفتین وھو جالس فاذا اراد ان یرکع قام فرکع[7]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع