دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

اگرنمازوں کوکوئی اس لئے تر ك کرتاہے کہ لوگ جان لیں کہ یہ شعار اسلام نہیں تو یہ ا چھا کام ہے۔ (ت)

اوربعض ناس کاغلو وافراط مسموع نہیں اور حدیث بروایت مجاہیل آناموجب وضع نہیں نہ وضع حدیث موجبِ منع عمل ہے ، عمل بالحدیث الموضوع اور عمل بمافی الحدیث الموضوع میں زمین آسمان کا بل ہے کما حققنا کل ذلك فی منیرالعین فی حکم تقبیل الابھامین(جیسا کہ ہم نے اس کی پوری تحقیق رسالہ “ منیرالعین فی حکم تقبیل الابہامین “ میں کی ہے۔ ت) خصوصا ان کا فعل بجماعت اجلہ اعاظم اولیائے کباروعلمائے ابرار حتی کہ ایك جماعت تابعین کرام وائمہ مجتہدین اعلام سے ثابت ومنقول ہے ، لطائف المعارف امام حافظ زین الدین ابن رجب میں ہے :

لیلۃ النصف من شعبان کان التابعون من اھل الشام کخالد بن معدان و مکحول ولقمان بن عامر وغیرھم یعظمونھا ویجتھدون فیھا فی العبادۃ وعنھم اخذالناس فضلھا وتعظیمھا ،  وقدقیل انہ بلغھم فی ذلك اٰثار اسرائیلیۃ ،  فلما اشتھر ذلك عنھم فی البلدان اختلف الناس فی ذلک ،  فمنھم من قبلہ ووافقھم علی تعظیمھا منھم طائفۃ من عباد اھل البصرۃ وغیرھم ،  وانکرذلك اکثرالعلماء من اھل الحجاز منھم عطاء وابن ابی ملیکۃ وعبد الرحمٰن بن زید بن اسلم عن فقھاء المدینۃ ،  وھو قول اصحاب مالك وغیرھم وذلك کلہ بدعۃ ،  واختلف علماء اھل الشام فی صفۃ احیائھا علی قولین احدھما انہ یستحب احیاؤھا جماعۃ فی المساجد کان خالد بن معدان ولقمان بن عامر وغیرھما یلبسون فیھا احسن ثیابھم ویتبخرون و یکتحلون و یقومون فی المساجد لیلتھم ذلك و وافقھم اسحق بن راھویۃ علی ذلک[1]  وقد ذکر بعدہ القول الاخر وھو کراھۃ الجماعۃ دون الانفراد وان علیہ امام الشام الاوزاعی لکن فیہ سقطا فی نسختی                                               

یعنی اہل شام میں ائمہ تابعین مثل خالد بن معدان و امام مکحول و لقمان بن عامروغیرہم شب برات کی تعظیم اور اس رات عبادت میں کوشش عظیم کرتے اور انہیں سے لوگوں نے اس کا فضل ماننا اور اس کی تعظیم کرنا اخذکیاہے ، کوئی کہتاہے انہیں اسباب میں کچھ آثار اسرائیلی پہنچے تھے ، خیرجب ان سے یہ امر شہروں میں پھیلا علماء اس میں مختلف ہوگئے ایك جماعت نے اسے قبول کیا اور تعظیم شب برات کے موافق ہوئے ان میں سے ایك گروہ عابدین اہل بصرہ وغیرہم ہیں ، اور اکثرعلماء نے اس کا انکارکیا اُن میں سے ہیں امام عطاء و ابن ابی ملیکہ و عبدالرحمن بن زیدبن اسلم فقہائے مدینہ سے ہیں اور یہ قول مالکیہ وغیرہم کاہے کہ یہ سب نوپیداہے ، علمائے اہل شام اس رات کی شب بیداری میں کہ کس طرح کی جائے دو قول پرمختلف ہوئے ، ایك قول یہ ہے کہ مسجدوں میں جماعت کے ساتھ مستحب ہے ، خالد بن معدان و لقمان بن عامر وغیرہما اکابرتابعین اس رات اچھے سے اچھے کپڑے پہنتے ، بخورکااستعمال کرتے ، سرمہ لگاتے اور شب کومسجدوں میں قیام فرماتے ، امام مجتہد اسحق بن راہویہ نے بھی اس بارے میں ان کی موافقت فرمائی الخ ، دوسراقول یہ کہ مساجد میں اس کی جماعت مکروہ ہے اور یہ قول شام کے امام وفقیہ وعالم امام اوزاعی کا ہے۔ لیکن میرے پاس موجود نسخہ سے

فلم یتیسرلی نقلہ ویتضح بما اذکرہ عن الشرنبلالی فانہ انما اخذہ عنہ۔

کچھ عبارت ساقط ہے اس کی عبارت نقل کرنا میسرنہیں اس کی وضاحت اس سے ہوجائے گی جسے میں شرنبلالی کے حوالے سے ذکرکر رہا ہوں کیونکہ انہوں نے اس سے اخذ کیاہے۔

مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے :

انکرہ اکثرالعلماء من اھل الحجاز منھم عطاء وابن ابی ملیکۃ وفقھاء اھل مدینۃ واصحاب مالك وغیرھم وقالوا ذلك کلہ بدعہ ولم ینقل عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولاعن اصحابہ احیاء لیلتی العید جماعۃ واختلف علماء الشام فی صفۃ احیاء لیلۃ النصف من شعبان علی قولین احدھما انہ استحب احیاؤہ بجماعۃ فی المسجد طائفۃ من اعیان التابعین کخالد بن معدان ولقمان بن عامر ووافقھم اسحٰق بن راھویۃ والقول الثانی انہ یکرہ الاجتماع لھا فی المساجد للصلٰوۃ وھذا قول الاوزاعی امام اھل الشام وفقیھھم وعالمھم[2]۔

اہل حجاز میں سے اکثر علماء نے اس کاا نکارکیاہے ان میں سے ہیں امام عطاء و ابن ابی ملیکۃ و فقہاء مدینہ اور اصحاب امام مالك وغیرہم۔ یہ علماء کہتے یہ سب نوپیداہے۔ نہ ہی نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے عیدین کی دونوں راتون کی باجماعت شب بیداری منقول ہے اور نہ ہی صحابہ کرام سے مروی ہے ، اور علماء شام بیداری شب برأت میں کہ کس طرح کی جائے دوقول پرمختلف ہوئے ، ایك قول یہ ہے کہ مسجدوں میں جماعت کے ساتھ بیداری مستحب ہے یہ قول اکابرتابعین مثل خالدبن معدان اور لقمان بن عامرکاہے ، امام مجتہد اسحق بن راہویہ نے بھی اس بارے میں ان کی موافقت فرمائی ہے۔ دوسراقول یہ ہے کہ مساجد میں اس کی جماعت مکروہ ہے یہ قول اہل شام کے امام و فقیہ وعالم امام اوزاعی کاہے۔ (ت)

شیخ محقق اعلم علماء الہند مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ ، ماثبت بالسنۃ میں حدیث صلٰوۃ الرغائب پرمحدثین کاکلام ذکرکرکے ارشاد فرماتے ہیں :

ھذا ماذکرہ المحدثون علی طریقھم فی تحقیق

یعنی وہ کلام ہے کہ محدثین نے اپنے طریقہ تحقیق اسناد

الاسانید ونقد الاحادیث وعجبا منھم ان یبالغوا فی ھذا الباب ھذہ المبالغۃ و یکفیھم ان یقولوا لم یصح عندنا ذلك و واعجب من الشیخ محی الدین النووی مع سلوکہ طریق الانصاف فی الابواب الفقھیۃ وعدم تعصبہ مع الحنفیۃ کماھو داب الشافعیۃ فمانحن فیہ اولی بذلك لنسبۃ الی المشائخ العظام والعلماء الکرام قدس اسرارھم[3]۔                               

وتنقید آثار پر ذکرکیا اور ان سے اس قدرمبالغہ کا تعجب ہے انہیں اتناکہنا کافی نہ تھا کہ حدیث ہمارے نزدیك درجہ صحت کو نہ پہنچی ، اور زیادہ تعجب امام محی الدین نووی سے ہے کہ وہ تومسائل فقہ میں راہ انصاف چلتے ہیں اور دیگرشافعیہ کی طرح حنفیہ کے ساتھ تعصب نہیں رکھتے ، تویہ مسئلہ جس میں ہم بحث کررہے ہیں زیادہ انصاف وترك افراط کے لائق تھا اس لئے کہ یہ فعل اولیائے عظام وعلمائے کرام قدست اسرارہم کی طرف منسوب ہے۔

پھر شیخ محقق   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے دربارہ صلٰوۃ الرغائب خود نبی   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے ایك حدیث بحوالہ جامع الاصول کتاب امام رزین سے نقل کی جس کی وضع اس لئے ہے کہ صحاح ستّہ کی حدیثیں جمع کرے اور اس کے آخر میں ابن اثیر سے نقل کیا :

ھذا الحدیث مما وجدتہ فی کتاب رزین ولم اجدہ فی واحد من الکتب الستۃ و الحدیث مطعون فیہ[4]۔

یعنی یہ حدیث میں نے کتاب رزین میں پائی اور صحاح ستہ میں مجھے نہ ملی اور اس پرجرح ہے۔

پھرفرمایا :

وقد وقع فی کتاب بھجۃ الاسرار ذکرلیلۃ الرغائب فی ذکر سیدنا وشیخنا القطب الربانی وغوث الصمدانی الشیخ محی الدین عبدالقادر الحسینی الجیلانی رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال اجتمع المشائخ وکانت لیلۃ الرغائب الٰی اٰخرماذکر من الحکایۃ              

یعنی کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار شریف میں حضور پرنور سیّدنا غوث اعظم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے ذکراقدس میں صلٰوۃ الرغائب کاذکرآیاہے کہ شب رغائب میں اولیاء جمع ہوئے الٰی آخر کلماتہ ، نیز امام ابوالحسن نورالدین علی قدس سرہ ، نے بسند خود حضرات عالیات سیّدنا سیف الدین عبدالوہاب و سیّدنا

 



[1]   لطائف المعارف المجلس الثانی فی ذکرنصف شعبان دارابن کثیر بیروت ص۲۶۳

[2]   حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح آخرباب الوتر واحکامہ مطبوعہ نورمحمدکتب خانہ کراچی ص۲۰۔ ۲۱۹

[3]   ماثبت من السنۃ صلٰوۃ الرغائب مطبوعہ ادراہ نعیمیہ رضویہ لاہور ا / ۲۴۶

[4]   ماثبت من السنۃ صلٰوۃ الرغائب مطبوعہ ادراہ نعیمیہ رضویہ لاہور ا / ۲۴۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن