30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اشباہ میں بزازیہ کے حوالہ سے ہے کہ نماز رغائب اور برائۃ (شب برأت کی نماز) اور قدر(شبِ قدر کی نماز) میں اقتداء مکروہ ہے مگر اس صورت میں جب کوئی یوں کہے کہ میں نے اﷲتعالٰی کے لئے نذر کی ہے کہ میں اس امام کی اقتداء میں یہ رکعتیں اداکروں گا اھ قلت بزازیہکے باب الامامت میں اختتامی عبارت یوں ہے کہ اس امر مکروہ کے لئے یہ تمام تکلّفات مناسب نہیں اھ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۴۴ : از احمدآباد گجرات دکن محلہ مرزاپورمدرسہ اسلامیہ مرسلہ شیخ علاء الدین صاحب ۲۲ربیع الاول شریف ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ نزدیك امام ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور علمائے حنفیہ کی نماز تہجد کی ساتھ جماعت کے پڑھنا جائز ہے یانہیں ؟ اور دیگر ایام مخصوصہ مثلًا یوم ِ عاشورا وغیرہ میں نفل جماعت سے جائز ہیں یانہیں ؟ اور یہاں کے مولوی نماز تہجد کی جماعت سے پڑھنا از حدیث ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما منصوص کہتے ہیں اور وقت تہجد کے جماعت بھی کرتے ہیں ، آیا جماعت تہجّد اور نفلوں کی کرنامستحب یاسنت کیاہے؟ اور جبکہ برعکس ہوتوکیامکروہ ہے یابدعت ہے یاکیاہے؟ اللھم اھدنا بینوابحکم الکتاب توجروا یوم الحساب۔
الجواب :
تراویح وکسوف واستسقاء کے سوا جماعت نوافل میں ہمارے ائمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کامذہب معلوم ومشہور اور عامہ کتب مذہب میں مذکور ومسطور ہے کہ بلاتداعی مضائقہ نہیں اور تداعی کے ساتھ مکروہ۔ تداعی ایك دوسرے کوبلاناجمع کرنا اور اسے کثرت جماعت لازم عادی ہے اور اس کی تحدید امام نسفی وغیرہ نے کافی میں یوں فرمائی کہ امام کے ساتھ ایك دوشخص تك بالاتفاق بلاکراہت جائز اور تین میں اختلاف اور چارمقتدی ہوں تو بلاتفاق مکروہ ، یہ تحدید امام شمس الائمہ سے منقول ہے کافی کانص عبارت یہ ہے :
(لایصلی تطوع بجماعۃ الاقیام رمضان) وعن شمس الائمۃ ان التطوع بالجماعۃ انما یکرہ اذا کان علی سبیل التداعی امالو اقتدی واحد بواحد اواثنان بواحد لایکرہ واذا اقتدی ثلثۃ بواحد اختلف فیہ وان اقتدی اربعۃ بواحد کرہ اتفاقا[1]۔
(نفل جماعت کے ساتھ ادانہ کئے جائیں مگر رمضان کاقیام) شمس الائمہ سے یوں منقول ہے کہ نوافل کی جماعت اس صورت میں مکروہ ہے جب علٰی سبیل التدعی ہو ، اگرایك نے ایك کی اقتداء کی یادونے ایك کی توکراہت نہیں ، اور جب تین ایك کی اقتداء کریں تواس میں اختلاف ہے اور اگرچار نے ایك کی اقتداء کی تویہ بالاتفاق مکروہ ہے۔ (ت)
اور اصح یہ ہے کہ تین مقتدیوں میں بھی کراہت نہیں ، طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :
قولہ اختلف فیہ والاصح عدم الکراھۃ[2]۔
ان کا قول “ اختلف فیہ “ اس میں اصح یہ ہے کہ کراہت نہیں ۔ (ت)
مگرانہیں امام شمس الائمہ سے خلاصہ وغیرہ میں یوں منقول کہ تین مقتدیوں تك بالاتفاق کراہت نہیں چارمیں اختلاف ہے اوراصح کراہت ۔ فتاوٰی خلاصہ کا نص عبارت کتاب الصلٰوۃ فصل خامس ۱۵ عشر میں یہ ہے :
اصل ھذا ان التطوع بالجماعۃ اذا کان علی سبیل التداعی یکرہ فی الاصل للصدر الشھید اما اذا صلی بجماعۃ بغیر اذان واقامۃ فی ناحیۃ المسجد لایکرہ وقال شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ اﷲ تعالٰی ان کان سوی الامام ثلثۃ لایکرہ بالاتفاق وفی الاربع اختلف المشائخ و الاصح انہ یکرہ[3]۔
اس مسئلہ کی اصل یہ ہے کہ جب نوافل کی جماعت علٰی سبیل التداعی ہو تو صدرشہید کی اصلمیں ہے کہ یہ مکروہ ہے لیکن اگر مسجد کے گوشے میں بغیر اذان و تکبیر نفل کی جماعت ہوئی تو کراہت نہیں ، اور شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا کہ اگرامام کے علاوہ تین افراد ہوں توبالاتفاق کراہت نہیں اور اگرمقتدی چارہوں تواس میں مشائخ کااختلاف ہے ، اور اصح کراہت ہے(ت)
بالجملہ دو مقتدیوں میں بالاجماع جائز اور پانچ میں بالاتفاق مکروہ ، اور تین اور چارمیں اختلاف نقل ومشائخ ، اوراصح یہ کہ تین میں کراہت نہیں چار میں ہے ، تومذہب مختار یہ نکلا کہ امام کے سوا چار یا زائد ہوں توکراہت ہے ورنہ نہیں ، ولہٰذا دررو غرر پھر درمختارمیں فرمایا :
یکرہ ذلك لوعلی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد[4]۔
اگرنفل کی جماعت علٰی سبیل التداعی ہو بایں طورپرکہ چارآدمی ایك کی اقتداء کریں تومکروہ ہے(ت)
پھر اظہریہ کہ یہ کراہت صرف تنزیہی ہے یعنی خلاف اولٰی لمخالفۃ التوارث (کیونکہ یہ طریقہ توارث کے خلاف ہے۔ ت) نہ تحریمی کہ گناہ وممنوع ہو ، ردالمحتارمیں ہے :
فی الحلیۃ الظاھر ان الجماعۃ فیہ غیرمستحبۃ ثم ان کان ذلك احیانا کان مباحا غیرمکروہ وان کان علی سبیل المواظبۃ کان بدعہ مکروھۃ لانہ خلاف المتوارث ١ھ ویؤید ایضا مافی البدائع من قولہ
حلیہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ نفل میں جماعت مستحب نہیں پھر اگرکبھی کبھی ایسا ہو تو یہ مباح ہے مکروہ نہیں اور اس میں دوام ہو توطریقہ متوارث کے خلاف ہونے کی وجہ سے بدعت مکروہ ہے اھ اس کی تائید بدائع کے اس قول سے
ان الجماعۃ فی التطوع لیست بسنۃ الا فی قیام رمضان١ھ فان نفی السنیۃ لایستلزم الکراھۃ ثم ان کان مع المواظبۃ کان بدعۃ فیکرہ وفی حاشیۃ البحر للخیر الرملی علل الکراھۃ فی الضیأ والنھایۃ بان الوتر نفل من وجہ والنفل بالجماعۃ غیرمستحب لانہ لم تفعلہ الصحابۃ فی غیررمضان١ھ وھو کالصریح فی انھا کراھۃ تنزیہ تأمل[5]اھ اھ مختصرا۔
بھی ہوتی ہے کہ جماعت ، قیام رمضان کے علاوہ نوافل میں سنت نہیں اھ کیونکہ نفی سنیت کراہت کومستلزم نہیں پھر اگر اس میں دوام ہو تو یہ بدعت ومکروہ ہوگی ، خیررملی نے حاشیہ بحر میں کہا کہ ضیاء اور نہایہ میں کراہت کی علت یہ بیان کی ہے کہ وتر من وجہ نفل ہیں اور نوافل کی جماعت مستحب نہیں کیونکہ صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین نے رمضان کے علاوہ وتر کی جماعت نہیں کرائی اھ یہ گویا اس بات کی تصریح ہی ہے کہ جماعت مکروہ تنزیہی ہے تامل اھ اھ اختصارًا(ت)
صلٰوۃ الرغائب وصلٰوۃ البرائۃ وصلٰوۃ القدر کہ جماعات کثیرہ کے ساتھ بکثرت بلاداسلام میں رائج تھیں متأخرین کا اُن پر انکار اس نظر سے ہے کہ عوام سنت نہ سمجھیں ولہٰذا وجیزکردری میں بعد بحث و کلام فرمایا :
فلوترك امثال ھذہ الصلوات تارك لیعلم الناس انہ لیس من الشعار فحسن[6]۔
[1] بحوالہ خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس عشر فی الامامۃ والاقتدائ مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۵۳
[2] حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح آخر باب الوتر مطبوعہ نورمحمد کتب خانہ کراچی ص۲۱۱
[3] خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس عشرالخ مطبوعہ مطبع منشی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۵۴
[4] درمختار آخرباب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۹
[5] ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۸
[6] فتاوٰی بزازیہ علٰی حاشیۃ فتاوٰی ہندیہ کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۵۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع